سوات (سوات نیوزڈاٹ کام) قائمقام ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ملاکنڈ ڈویژن محمد اعجاز خان نے کہا ہے کہ سوات میں انٹیلی جنس اداروں کی اطلاع پر کو کومبنگ اپریشن جاری ہے اور پولیس جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائیاں کررہی ہیں اور پولیس ایکٹ2017 کا مقصد پولیس کو عوام کے درمیان فاصلے کم کرنا ہے ، ضلع کونسل کے اجلاس میں ششماہی رپورٹ پیش کرنے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ پولیس ایکٹ 2017 کا نفاذ پولیس ار عوام کے درمیان روابط مضبوط بنانا ہے اور سوات میں جو حالات گزرے ہیں اس سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے ، اب ہمیں اپنے ملک سے وفاداری اور دشمنوں کی سرکوبی کے لئے مشترکہ کوشش کرنی چاہیئے ، حق بات اور سچے لوگوں کا ساتھ دینا چاہیئے ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے دوران شہید ہونے والے 13پولیس اہلکارجو شہداء پیکج سے رہ گئے تھے انکی کیس سی پی او بھیجوا دی ہے ، انکے ورثاء کو شہداء پیکج کے تحت مراعات دی جائیگی ،انہوں نے ضلعی کونسلران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکار ملک و قوم کی حفاظت کے لئے کام کررہے ہیں اسلئے پولیس کے ساتھ تعاون کریں ، پولیس کے ساتھ ملک کر اصلاحی معاشرے کے قیام کیلئے اپنی کوشش کریں ، انہوں نے کہا کہ پولیس میں جزاء اور سزا کا عمل جاری ہے اور رواں سال اچھے کارکردگی پر پولیس اہلکاروں سمیت عا م لوگوں کو بھی انعامات سے نوازہ گیا جبکہ غفلت سے برتنے پر 5سب انسپکٹر وں ، ایک سینئر کلرک ،چھ ہیڈ کانسٹیبل اور 82 پولیس کانسٹیبل کو سزائیں دی گئی جبکہ 24 اہلکاروں کو برطرف کیا گیا ، انہوں نے کہا کہ پولیس سٹیشن کے سطح اصلاحی کمیٹیوں کے قیام سے عوامی مسائل اچھے طریقے سے حل ہورہے ہیں ، اور غریب لوگوں کو کچہریوں اور عدالتوں سے نجات مل گئی ہے ، انہوں نے کہا امسال پچھلے سال کے نسبت 3گنازیادہ سیاح آئے لیکن اسکے باوجود ٹریفک کو بہترین طریقے سے کنٹرول کیا اور وارڈن سسٹم سے مزید بہتر ہوجائیگا اور لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر ہوں گے ، اس موقع پرضلعی کونسلران نے قائم مقام ڈی آئی جی سے سوالات بھی کئے ۔
1,060 total views, no views today



