سوات ( سوات نیوز ڈآٹ کام ) ضلع کونسل سوات کے دوسرے روز بھی ممبران نے شکایات کے انبار لگادیئے ، قائم مقام سپیکر قجیر خان کے زیر صدارت اجلاس میں ممبران نے علاقائی مسائل حل نہ ہونے ، فنڈز کی تقسیم ترقیاتی کاموں کے حوالے سے امور نمٹانے ، ڈسکریشن فنڈ کی تحقیقات کرانے اور دیگر امور و مسائل پر کھل کر اظہار خیال کیا ، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلع ناظم محمد علی شاہ نے کہا کہ ہم عوام کے نمائندے ہیں ، کونسل کے تمام ممبران ایک دوسرے کی عزت کریں اور احترام سے پیش آیا کریں ، انہو ں نے کہا کہ 2016-17 فنڈز کے حوالے سے مسائل حل کریں گے ، ضلع کونسل میں سیاست سے بالا تر ہوکر اقدامات کررہے ہیں ، تمام تر ترقیاتی کاموں کی چیک بیلنس کا کام ضلع حکومت کے ممبران کا ہے ، ممبران اس سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں ، اسٹیٹ کے دور کے میڈیکل سٹورز کے لائسنسوں کی منسوخی اور دیگر مسائل پر متعلقہ حکام سے بات کریں گے ، سیدو ہسپتال میں کلاس فور ملازمین کی بھرتی کیلئے سفارشات کریں گے ، انہوں نے کہا کہ منصوبوں کی مقررہ وقت میں تکمیل ضروری ہے ، ضلعی ممبران اس سلسلے نگرانی کریں ، اجلاس میں آزاد ممبران راحت علی خان ، نثار خان اور دیگرکھری کھری سنا کر مسائل سے ایوان کو آگاہ کیا ، جنگلات کے لوکل کوٹہ کے حوالے سے ممبران نے ضلعی حکومت کی توسط سے صوبائی حکومت سے اپیل کی کہ جنگلات کوٹہ بحال کیا جائے ، انہوں نے کہ اکہ ہم بھی متاثرین رہ چکے ہیں اسلئے تین دنوں اجلاس کااعزازیہ برما مسلمانوں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے ، ممبران نے دریائے سوات کو گندگی سے بچانے کیلئے اقدامات نہ ہونے ، فنڈز کے واپس کئے جانے کے خطرے اور دیگر مسائل سے تفصیل سے ایوان کو آگاہ کیا ، ضلع ناظم محمد علی شاہ نے کہا کہ میں خود تمام محکموں سے وابستہ مسائل حل کرنے کی کوشش کررہا ہوں متعلقہ محکموں سے ہمارا رابطہ ہے ۔
1,662 total views, no views today



