تحریر /عبدالباسط مرزا
امریکہ بہادر نے افغانستان میں قدم رکھتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ ہمارا مقصد یہاں امن و امان کا قیام ہے، جوں ہی یہ ٹاسک مکمل ہوگاہم واپس چلیں جائیں گے لیکن پھر واپس جانے کی نوبت ہی نہیں آئی کیونکہ افغانستان میں امن قائم ہوا ہی نہیں اور ہوتا بھی کیسے کہ یہ تو محض کہنے کی بات تھی، مطلوب یہ نہ تھا۔ کیا ایساممکن ہے کہ 40 سے زائد ملکوں کی فوج نیٹوملکر بھی چند لاکھ باغیوں کو راہ راست پر نہیں لا سکی جبکہ امریکہ اور اتحادی ممالک کی مشترکہ نیٹو افواج میں 85 لاکھ سے زائد فوجی ہیں۔وہ امریکہ جوافغان سرحدی علاقوں کے غاروں میں چھپ کر ہونے والی کارروائیاں نہ صرف ملاحظہ کرتابلکہ سدبا ب بھی کرتا ہے، وہ امریکہ اور اتحادی جو قبائلی علاقوں اور ایجنسیوں میں دہشت گردوں کو چن چن کر نشانہ بناتے ہیں(بقول انکے) ، افغانستان میں قیام امن میں دو دہائیوں بعد بھی ناکام ہیں ،یقیناًامن کبھی مقصود تھا ہی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر مقصد تھا کیا؟ وہ یہ کہ افغانستان میں قبضہ جمانا اور پھر وہاں بیٹھ کر بالخصوص چین، پاکستان اور بالعموم جنوبی ایشی�أ پر نظر رکھنا۔ پچھلے کچھ سالوں میں امریکہ نے بھارت کو بھی اس جنگ میں شامل کرنے کی کوشش کی لیکن ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ‘‘کے مصداق افغانستان ، امریکہ کیلئے دردِ سر بنتا چلا گیا۔ اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود من پسند نتائج حاصل کرنے میں ناکامی نے امریکہ پرنفسیاتی دباؤ اس قدر برھا دیا کہ وہ غیر روایتی حلیف بھارت کوساتھ ملانے پر مجبور ہوا۔بھارت نے افغان جنگ میں امریکی افواج کی مدد سے صاف انکار کیاکیونکہ بھارت یہ جانتاتھا کہ افغانستان میں محاذ کھولنا اس کے لیے کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔بھارت یہ بھی اچھی طرح سمجھتاہے کہ جب نیٹو اور امریکہ کے لاکھوں اتحادی فوجی افغانستان میں امن قائم نہیں کرسکے توہماری مداخلت سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا،البتہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں خطے میں لگائی بجھائی کا کام ضرور انجام دے رہی ہیں۔ بھارتی انکار سے امریکہ کی خطے میں خواہشات شدید متاثرہوئیں اورامریکی صدر کے حالیہ بیانات اسی باؤلے پن میں دئیے گئے ہیں۔بھارت،پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کررہا ہے جبکہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے نیٹ ورک بھارت سے آپریٹ کیے جاتے ہیں، اور ظاہری بات ہے یہ کام بھارتی ایجنسیوں کی آشیرباد سے ہو رہا ہے۔امریکی شہ پرہی بھارت اپنی سازشوں کے ذریعے پاکستان کیخلاف دنیا بھر میں مہم جوئی میں مصروف ہے اور حالیہ دنوں سوئٹزرلینڈ میں پاکستان مخالف بینرز آویزاں کرنا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔امریکہ نے بھارت کو کئی طرح کی مراعات اورجدید’’وار فائٹنگ سسٹم‘‘ کا لالچ دے کر اسے اپنے مفادات کے تحفظ پر نگران بنانے کی کوشش کی اوراسے خطے میں چودھراہٹ دینے کا وعدہ بھی کیا لیکن ظاہر ہے افغانستان میں امریکہ کی مدد سے انکار کے بعد صورت حالات مختلف ہے ۔
بھارت امریکہ گٹھ جوڑ افغانستان میں قیامِ امن کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کو ون بیلٹ ون روڈ (سی پیک)کا حصہ بننے سے بازرکھنے کے لیے بنا ہے۔یہ گٹھ جوڑ پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔چین کیساتھ شراکت میں نئے معاشی انقلاب کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی گواہی کل بھوشن یادواینڈ کمپنی اور احسان اللہ احسان دے چکے ہیں۔امریکی خفیہ ایجنسیوں کی ایما پر بننے والی ایک کے بعدایک دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے ہوتی ہوئی پاکستان میں گھسنے کی کوشش کرتی ہیں، امریکہ ان کی اوٹ لے کرخطے میں اپنی موجودگی کا جواز فراہم کرتا رہتاہے ، اسامہ اور القاعدہ کے بعدطالبان اور ملا عمر،پھر حقانی نیٹ ورک،پھر داعش اوراب اسامہ کے بیٹے حمزہ لادن کا قضیہ کھول کر بیٹھا ہے ۔ اسلام آباد میں داعش کا پرچم لہرانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کو کم سے کم خوفزدہ تو کیا جائے اور سابق وزیر داخلہ کے داعش کی موجودگی سے انکار کے باوجود موجودگی کا یقین دلایا جائے ۔یہ کہنا مشکل ہے کہ پاکستان میں داعش یا اس کے نظریاتی ساتھی قطعاً موجود نہیں لیکن چند لوگوں یا گروپوں کی موجودگی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ہمارے اداروں کو قبل از وقت اس فتنے کے خاتمے کیلئے کارروائیاں کرنی ہونگی، سانپ کو پھن اٹھانے سے پہلے ہی کچل دیا جائے تو بہتر ہے۔سابق افغان صدر کے انکشافات سے بھی یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ یہ تمام تر تنظیمیں جنہیں امریکہ دہشت گرد قرار دیتاہے اس کی اپنی پیدا کردہ ہیں ، داعش کا ٹی وی چینل، مواصلاتی رابطے، ناقابل شکست سائبر ایکٹیوٹیز، کیسے ممکن ہے کہ سب کچھ امریکی ایما کے بغیر وقوع پذیر ہو وہ بھی ایسے حالات میں کہ جب دنیا بھر کے انٹر نیٹ سسٹم پرسی آئی اے کی کڑی نظر ہے اور ذرا سی مشکوک حرکت پریورپ کے تمام ستون فوراً حرکت میں آجاتے ہیں۔ ایسا ممکن نہیں کہ داعش کا اس قدر تیزی سے پھیلتا ہوتانیٹ ورک امریکی دور بین کے نیچے آنے سے بچا ہو۔پاکستان اور اس کے مخلص ہمسایوں کو یہ بات سوچنا ہوگی کہ کوئی بھی بیرونی طاقت خطے میں امن کے لیے سنجیدہ نہیں ہو سکتی کیونکہ عالمی طاقتوں کے اپنے مفادات ہیں جو یہاں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیں گے۔
افغان قیادت کو بھی اب اس زعم سے نکل آنا چاہیے کہ امریکہ ان کابہی خوا ہے ، اس کی نظر صرف اور صرف خطے میں جا بجا پھیلے ہوئے وسائل پر ہے جو وہ موقع بہ موقع سمیٹتے چلے جا رہے ہیں، حیرت اور افسوس بھارتی کردار پر ہے کہ وہ امریکہ پر اندھا دھند اعتبار کرنے لگا ہے ، مودی نے این ایس جی میں شمولیت کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا یا لیکن چونکہ ایسا کرنے سے ’’صاحب بہادر‘‘ کی خطے میں ٹھیکیداری مانند پڑنے کا خطرہ تھا لہذا بھارت کو تمام تر کوششوں کے باوجود نیوکلیرسپلائر گروپ میں شراکت داری نہیں ملی، یہ وہ موقع تھا کہ جب بھارتی تھِنک ٹینک کے کان کھڑے ہو جانے چاہیے تھے کہ امریکہ بھارت کو جنوبی ایشی�أ میں محض اپنا چمچہ بنا کے رکھنا چاہتا ہے اور اس سے زیادہ اہمیت دینے پر فی الوقت قطعاً تیار نہیں۔باقی رہی بات سی پیک کے متنازعہ علاقے سے گزرنے کی تو ٹرمپ انتظامیہ کو اس حوالے سے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں وہ ہم سٹیک ہولڈرز دیکھ لیں گے ، ٹرمپ کشمیریوں کی آزادی کے لیے اگر کچھ کر سکتے ہیں تو کریں ہم ویلکم کریں گے لیکن ہمیں معلوم ہے آپ نہیں کریں گے کیونکہ قیامِ امن آپ کا مقصد نہیں۔
1,699 total views, no views today



