’’یہ جو انگریزی میں ’وہائٹ پیلس‘ اور اردو میں ’سفید محل‘ کے نام سے مشہور ہے، اس ہوٹل کا پرانا نام کیا تھا؟‘‘ یہ ایک ایسا سوال تھا جس کا جواب حاضرین میں سے کسی کے پاس نہ تھا، اور حاضرین بھی کوئی گئے گزرے نہیں بلکہ ایسے کہ ہر ایک اپنی ذات میں انجمن۔ فضل مولا زاہدؔ جو مختلف علاقائی و قومی زبان کے اخبارات میں اپنی تحریر کا لوہا منوا چکے ہیں۔ حاضر گل جن کی صلاحیتوں کی ایک دنیا معترف ہے اور راقم جو صرف لفظوں کا ہیر پھیر جانتا ہے۔ ہم سب ایک دوسرے کا منھ تکتے رہ گئے۔ اس موقع پر شاید حاضر گل تھے، جنھوں نے قیاس کے گھوڑے دوڑائے، مگر بے سود۔ خان جی (فضل مولا زاہدؔ ) نے خاموشی پر اکتفا کیا اور باقی رہ گیا راقم، تو جہاں ہر دو باکمال شخصیات کوئی تیر نہ مار سکیں، تو ایسے میں راقم میں کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں۔ اس لیے عافیت زانوئے تلمذ تہہ کرنے میں جانی۔پوچھنے والے نے بھی قطعاً بخل سے کام نہیں لیا اور کہا کہ اس کا پرانا نام ’’موتی محل‘‘ تھا، جسے بعد میں ’’سفید محل‘‘ کا نام دیا گیا۔
سوال پوچھنے والے انور حیات تھے۔ جی ہاں! اسی شخصیت کے صاحب زادے، جن کے نام سے آج کل گلشن چوک موسوم ہے۔
پچھلے ہفتے خان جی (فضل مولا زاہدؔ ) کے ساتھ ایک ٹینشن فری دن گزارنے کا موقع ملا، جہاں انور حیات صاحب بھی تھے۔ ہم نے پورا دن سفید محل کے پیچھے ایک ایسے ہوٹل میں گزارا جو کہ اپنی جگہ ایک انسٹی ٹیوٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ بہ قول حاضر گل: ’’یہ ایک ایسا ہوٹل ہے، جو چوبیس گھنٹے کھلا رہتا ہے۔ اس کے ہر وقت (یعنی صبح، دوپہر، شام اور رات) کے اپنے اپنے نشئی ہیں۔ صبح والی، دوپہر والی پارٹی کے رنگ میں بھنگ نہیں ڈالتی۔‘‘
انھوں نے مزید کہا کہ یوں تو بختیار (ہوٹل کا مالک) اسے ’’نیچرل ہوٹل‘‘ کہلوانا پسند کرتا ہے، مگر باقی ماندہ دنیا اسے ’’بختیار ہوٹل‘‘ کے نام سے جانتی اور یاد کرتی ہے۔
راقم عرصہ چار سے جب بھی مرغ زار جاتا ہے، مذکورہ ہوٹل کے درشن ضرور کرتا ہے۔ ہوٹل کی خاص بات اس کی ’’چرسی چائے‘‘ اور گرما گرم پکوڑے ہے۔ چائے کا لطف دوبالا کرنے کی خاطر پکوڑوں کا آرڈر دیتے وقت اگر آپ نے بختیار کے ہاتھ کا تیار کردہ مصالحہ اور ٹماٹر کی چٹنی منگوائی، ’’نو خون بہ یُو دَ خپلے غاڑے وی۔‘‘
بہ قول حاضر گل: ’’بختیار کی میموری کمال کی ہے۔ وہ اپنے ہوٹل آنے والے ہر شخص کو اس کے اصل نام سے پکارتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے گراہک کے دوستوں کے نام (چاہے ہوٹل اک آدھ بار ہی کیوں نہ آئے ہوں) بھی اسے یاد رہتے ہیں۔‘‘ حاضر گل نے یہ بھی کہا کہ بسا اوقات میں نے ان کو اپنے گراہک سے ان کے دوستوں کی ہوٹل نہ آنے کی وجہ بھی پوچھتے دیکھا ہے اور کئی بار انھیں یہ جواب ملتے بھی دیکھا ہے کہ دوست کسی اور علاقہ کے تھے اور پچھلی بار سیر کی خاطر سوات آئے تھے۔
بہ قول حاضر گل: ’’ بختیار ’مست مولا‘ ہے۔ اس کا اپنا مزاج ہے۔ جو اسے بھلا لگے، اس کی خاطر دیدہ و دل فرش راہ کرتا ہے۔ جو اچھا نہ لگے، اس سے پیسے بھی کم لیتا ہے اور ساتھ کام کرنے والوں کو کہتا ہے کہ بھئی، جلد از جلد اس شخص سے جان چھڑاؤ۔‘‘
ہوٹل چوں کہ ’’مرغ زار خوڑ‘‘ کے کنارے تعمیر کیا گیا ہے، اس لیے کئی بار اسے سیلابی ریلہ اپنے ساتھ بہا لے گیا ہے، مگر بختیار کی ہمت کے آگے سیلابی ریلے ہیچ ہیں۔ ہر بار انھوں نے اپنے ہوٹل کو نئے سرے سے تعمیر کیا ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ قدرت بھی اس کی آشفتہ سری پر خندہ زن ہے۔
ہوٹل کے عین وسط میں مچھلیوں کے لیے ایک چھوٹا سا تالاب بنایا گیا ہے، جس میں ہر قسم کی مچھلیوں کو تیرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ کسی نے ہوٹل کو ایک چھوٹے سے کچھوے کا عطیہ بھی دیا ہے، جو مچھلیوں کے ساتھ تیرتے ہوئے دیکھنے والوں کی خاطر ایک انجان سی سرخوشی کا باعث بنتا ہے۔
خان جی (فضل مولا زاہدؔ ) نے کہا کہ ’’زمین کے اس چھوٹے سے ٹکڑے (ہوٹل) پر جو حیاتیاتی تنوع پایا جاتا ہے، بہت کم ایسا دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہاں اس محدود قطعۂ زمین پر آپ کو پچاس سے زاید خوب صورت پھولوں کے پودے ملیں گے۔ درخت اور مختلف قسم کے پودے اس پر مستزاد۔‘‘
بختیار کے حوالے سے حاضر گل نے کہا کہ یہ بڑا خدا ترس انسان ہے۔ ایک دفعہ ایک شخص اس کے پاس آیا اور کہا کہ ’’میرے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے۔‘‘ یہ ایک جملہ کافی تھا۔ بختیار نے اسے ہوٹل کی چابی تھمائی اور کہا کہ ’’اسے اپنا گھر سمجھو اور مجھے بڑا بھائی۔ کھاؤ، پیو،یہاں رہائش اختیار کرو اور مجھے دعائیں دو۔‘‘ کوئی پندرہ بیس دن اس نے ایسا ہی کیا اور ایک رات چپکے سے بختیار کی جمع پونجی پر ہاتھ صاف کرکے ایسے رفو چکر ہوگیا کہ آج تک اس کی پرچھائی تک کسی نے نہیں دیکھی،مگر بختیار ہے کہ حسب سابق دریا دل ہے۔
حاضر گل نے کہا کہ سر شام یہاں رباب کی محفل سماں باندھتی ہے۔ یہاں کا لوکل ربابی فواد حسین جب ’’شہ باز‘‘ انگلیوں میں تھام کر رباب کے تار چھیڑتا ہے، تو قدرت اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوجاتی ہے اور رباب کا ہر سُر حاضرین محفل کی رگ و پے میں لہو بن کر دوڑنے لگتا ہے۔ ایسے میں اگر چودہویں کا چاند نکلا ہو، تو ع
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
فواد حسین کے ساتھ یہاں کے ایک اور لوکل فن کار امجد ’’ٹاٹکی‘‘ سے طبلے کا کام لے کر رہی سہی کسر پوری کر دیتا ہے۔
بختیار جیسا بزلہ گو سالوں میں ایک پیدا ہوتا ہے، مگر ان کے والد بزرگوار اُن سے دو ہاتھ آگے تھے۔ ان کے حوالے سے کئی قصے مشہور ہیں۔ حاضر گل نے کہا کہ بزرگ روزانہ گھر کے ساتھ درختوں کے جھنڈ میں ایک مٹکے میں تازہ پانی بھر کر اس سے لوگوں کی تواضع کیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ ایک روز ایک مسافر کا وہاں سے گزر ہوا۔ ان کے ساتھ سائے میں بیٹھ گئے۔ پانی کا مٹکا دیکھا، تو اس کی طرف لپک گئے۔ جیسے ہی پانی برتن میں انڈیلا، تو بزرگ کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ پانی تو صاف ہے نا! اس سوال سے گویا بزرگ کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ انھوں نے جواباً کہا کہ نہیں جی! ابھی اک آدھ گھنٹہ پہلے ایک کتا آیا۔ اس نے اپنی بائیں ٹانگ اٹھائی اور اپنے آپ کو مٹکے ہی میں فارغ کردیا۔یہ سننا تھا کہ مسافر نے برتن واپس رکھا اور چلتا بنا۔ بزرگ کے ساتھ بیٹھا ایک ہم عمر اولاً لوٹ پھوٹ گیا، ثانیاً اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیا کردیا؟ بزرگ نے بھی بلا تحمل کہا کہ عقل سے پیدل لوگوں کے ساتھ ایسے ہی پیش آنا چاہیے۔ بھلا ہماری موجودگی میں یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات تھی کہ ’’پانی صاف ہے؟‘‘
قارئین کرام! جاتے جاتے ایک چھوٹی سی درخواست کرتا چلوں۔ عثمان اولس یار بیمار ہیں۔ سوات کے مسیحاؤں نے انھیں پشاور یا ملک کے دیگر بڑے اسپتالوں میں اپنا علاج کرانے کا مشورہ دیا ہے۔ انھیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے۔ اللہ انھیں شفائے کاملہ نصیب فرمائے، (آمین)۔
Back to Conversion Tool
894 total views, no views today


