یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ حقائق تسلیم کرنے کی بجائے ان سے منہ چراتے ہیں اوربعض اوقات تو سیخ پا بھی ہوجاتے ہیںیہ جانتے ہوئے بھی کہ حقیقت نہ تو چھپ سکتی ہے اور نہ ہی اسے چھپایاجاسکتا ہے ،تمہیدکا مقصد یہ ہے کہ دوتین ما ہ قبل سوات پریس کلب میں اپنے مخصوص آفس میں بیٹھا تھا کہ ایک مقامی شخص نے آکر علیک سلیک کی اوربعدمیں میرے سامنے سرکاری سکول کی چھٹی جماعت میں پڑھائی جانے والی پشتو کی کتاب رکھی اورکہا کہ ،،یہ دیکھئے ،اسے بازار سے خرید کر لایا ہوں ،یہ کوئی غیر معمولی بات تو نہیں ،میں نے لاپرواہی سے جواب دیا،تو اس کے چہرے پر سختی کے آثارنمایاں ہوئے اورکہاکہ ،،کتاب کے ٹائٹل کی طرف دیکھئے ،،میں نے جب وہاں دیکھا تو میری نظری خودبخودوہاں پر لکھے ہوئے ،،ناٹ فار سیل ،،کے الفاظ پر جم گئی میں نے سرہلایا تومذکورہ شخص نے کہاکہ ان کی بیٹی گرلزسکول حاجی بابامینگورہ میں چھٹی جماعت میں پڑھتی ہے،آج سکول سے آئی تو بولی کہ استانی کہتی ہے کہ سکول میں سرکاری کتابیں ختم ہوچکی ہیں بازار سے خرید کر لاؤ،پینتالیس روپے دے کر ایک مقامی کتب فروش سے یہ کتاب خرید لایا ہوں اوپر کے سٹیکر کو ہٹایا تو نیچے یہ الفاظ لکھے نظر آئے جس نے مجھے بھی اسی طرح مخمسے میں ڈالا تھا جس طر ح کہ ابھی آپ کو ڈلاہے،میں نے اس شخص سے چند سولات کئے اوراسے چلتا کیا اوربعدازاں اس حوالے سے ایک رپورٹ تیار کرکے کتاب کی تصویرسمیت اخبارات میں شائع کرائی اورمعمول کے کاموں میں لگ گیا، ہوناتو یہ چاہئے تھا کہ محکمہ تعلیم اسی وقت حرکت میں آجاتا مگر کئی دن گزرجانے کے باوجود بھی اس طرف سے کوئی ریسپانس سامنے نہیں آیا،کوئی تین ہفتے بعد ایک صحافی دوست نے کال کی اورکہا کہ اگر فرصت ہو تو میرے آفس آجاؤ،جب میں ان کے دفترپہنچاتووہاں پر ایک شخص بیٹھاتھا جو میرے ساتھ بڑے پرجوش اندازمیں ملا اوراپناتعارف محکمہ تعلیم کے ایک ذمہ دارافیسرکی حیثیت سے کرایااوربات کو آگئے بڑھاتے ہوئے کہاکہ اخبارات میں سرکاری کتابوں کی بازارمیں فروخت ہونے کے حوالے سے ایک خبر سامنے آئی ہے،پتہ چلاہے کہ وہ خبر آپ نے جاری کی تھی لہٰذہ اس حوالے سے کچھ معلومات درکارہیں،اورپھر ان کے کہنے پر میں نے اسی شخص کو کال کرکے اپنے دوست کے دفترطلب کیا جس نے وہی بات دہرائی جو وہ اس نے پریس کلب آکر بتائی تھی،محکمہ تعلیم کا آفیسر اس بے چارے کی دادرسی کی بجائے اس پر دباؤڈالنے لگااوربولا کہ اب وہ اس سلسلے میں ایف آئی اردرج کرائے گا اورمتاثرہ شخص کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ تم اس میں گواہ کے طورپر پیش ہوں گے،اس وقت تک تومیں خاموش رہا مگر جب ان کے منہ سے یہ عجیب وغریب بات سنی تو میں نے مداخلت کی اورکہاکہ سرجی اگر یہ ایف آئی آر درج کراتا توپولیس اسٹیشن جاتا میرے پاس پریس کلب کیوں آتا؟ میں نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہاکہ اس شخص کی دادرسی کی بجائے آپ اسے ڈرانے کی کوشش کیوں کررہے ہیں؟وہ بولا کہ ہم نے بازاروں میں سروے کیا مگرکسی بھی دکان پر ایسی سرکاری کتابیں نہیں ملیں جو فروخت ہورہی ہوں،میں نے جواب دیا کہ اگر آپ خبر کی اشاعت کے فوراََ بعدایکشن لیتے تو بیشتر دکانوں میںآپ کو ایسی بہت سی کتابیں مل جاتیں مگر آپ تو بازارمیں چھاپے مارنے کی بجائے متاثرہ شخص کو ڈرانے دھمکانے آگئے،اس کے بعدافیسرچلاگیا ،چنددن خاموشی رہی تاہم ایک روز متاثرہ شخص نے مجھے کال کی کہ ان کی چھٹی جماعت کی بیٹی آج سکول سے آئی تو روتے ہوئے بتایاکہ ہیڈٹیچر(فیمیل)نے اس کی کلاس آکر جھاڑپلائی اورڈرایادھمکایابھی ،بچی نے مزید کہاکہ آج کے بعد وہ سکول نہیں جائے گی،متاثرہ شخص کی باتیں سن کر ابھی میں کچھ سوچ ہی رہاتھا کہ عین اسی وقت محکمہ تعلیم کے اسی آفیسر کی کال آئی اور کہاکہ بھائی ہم پراوپر سے دہاؤ ہے یا تو ہمیں ایف آئی آر درج کرانے دو اوریا اسی شخص سے شائع شدہ بیان کی تردیدشائع کراؤ،یہ سن کر میں سیدھاان کے آفس پہنچااورانہیں بچی کے ساتھ سکول میں پیش آنے والے واقعہ سے آگا ہ کردیا ،صاحب نے جواب دیا کہ وہ سنبھال لے گا مگر پہلے ہمارامسئلہ حل کرو،یہ نشست بھی بغیر کسی نتیجہ کے برخاست ہوگئی اورمیں واپس پریس کلب چلاآیا،اس دوران میں عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے سعودی عرب چلاگیا ،اورایک شام نیٹ کھول کر دیکھا تو کئی ویب سائٹوں پر یہ خبرنمایاں تھی کہ،مینگورہ میں انتظامیہ کی کارروائی کے دوران ہزاروں کی تعدادمیں سرکاری کتابیں برآمد ہوگئیں ،جس کے ایک روز بعدسرکاری کتابیں بازارو ں میں پہنچانے اورسٹاک کرنے کے الزام میں کئی افرادکی گرفتاری کی خبربھی سامنے آگئی تو مجھے ایک دم مجھے وہ تعلیمی آفیسر یادآیاجس نے ،،حقائق ،،سامنے آنے پر اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کوپوراکرنے کی بجائے ،،الٹاچورکوتوال کو ڈانٹے ،،کے مصداق ایک متاثرہ شخص کو دبانے کی کوشش کی تھی ،واضح رہے کہ ماضی میں بھی سرکاری سکولوں کی کتابوں کی بازاروں میں فروخت کے حوالے سے متعددرپورٹیں اوراطلاعات سامنے آئیں مگر اس سلسلے میں کسی نے بھی ایکشن نہیں لیا تاہم حال ہی میں سوات انتظامیہ نے کارروائی کی جو احسن اقدام ہے،
یہی ہے ہماری بدقسمتی کہ ہم ہمیشہ حقیقت کو تسلیم کرنے کی بجائے ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہیں ،یہاں پر کوئی بھی شخص اپنی ذمہ داریاں قبول کرنے کو تیا رنہیں،سب اپناکیادھرادوسروں کے سر ڈالنے کی کوشش میں ہیں،اورہمارایہی رویہ معاشرہ میں بگاڑکا سبب بن رہا ہے،اب بھی وقت کہ اگر ہم اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں ،اپنی ذمہ داریوں کو بطریق احسن نبھانے کی کوشش کریں تو یقیناہمارے ہاتھوں کا بگڑاہوا یہ معاشرہ ہمارے ہاتھوں ہی سنورجائے گا۔
1,606 total views, no views today


