بریکو ٹ (سوات نیوز ڈاٹ کام / ریا ض احمد) خیبر پختونخوا اسمبلی کا اقلیتی ایم پی اے گزشتہ 13ماہ سے اپنے عہدے کا حلف نہ لے سکا ہے جس کی وجہ سے وہ تاریخ میں پہلے ایم پی اے بن گئے ہیں جنہیں نہ ڈی سیٹ کیا جارہا ہے نہ ہی اسمبلی میں داخل ہونے کی اجازت دی جارہی ہے واضح رہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کی مخصوص نشست پر اقلیتی رکن سردار سورن سنگھ کے قتل کے بعد اس نشست پر پارٹی کے ایک اور کارکن بلدیو کمار کی نامزد گی کی گئی تھی جس کی روشنی میں بلدیو کمارکو گرفتار کیا گیا الیکشن کمیشن کی رولز کے مطابق صوبائی یا قومی اسمبلی کی جنرل یا اقلیتی نشست خالی ہونے کی صورت میں الیکشن کمیشن مذکورہ نشست پر2ماہ کے اندر اندر ضمنی انتخابات کرانے اور یا پھر اقلیتی نشست کی صورت میں الیکشن کمیشن میں جمع ترجیحی فہرست میں شامل دوسرے نمبر پر فرد کے تقرری کا اعلامیہ جاری کرنے کا پابند ہے 11مئی2013کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن میں اقلیتوں کی جمع کردہ ترجیحی فہرست میں سردار سورن سنگھ پہلے جبکہ بلدیو کمار دوسرے نمبر پر تھا اور رولز کے مطابق الیکشن کمیشن پابند تھا کہ سردار سورن سنگھ کے قتل کے بعد اس کے مبینہ قاتل بلدیو کمار کی بطور ایم پی اے تقرری کا اعلامیہ جاری کرے اور اس تناظر میں24اگست2016کو بلدیو کمار کی بطور ایم پی اے خیبر پختونخوا اسمبلی اعلامیہ جاری ہوا لیکن ابھی تک وہ اسمبلی میں حلف نہ لے سکے ہیں۔
1,260 total views, no views today



