افتخار احمد ماہر بشریات و عمرانیات و سماجی کارکن
آجکل کے بچے دنیا کے ساتھ کچھ اسطرح سے قریبی روابط کے ذریعے منسلک ہے جو کہ پہلے ادوار میں اسطرح نہیں تھے۔ اگر ہم آجکل کے نسل کو دیکھے تو پہلے ادار کے بہ نسبت ان میں تجسس کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے۔ ھمارے بچپن کے زمانے میں علم کے تمام ذرا ٰئع علاقائی اور نچلے سطح پر ہوتے تھے۔ جو کچھ سیکھنا تھا اساتذہ ، والدین اور دوستوں کے ذریعے سیکھا جاتا تھا۔ اگر آپ کے کسی کو استحقاق زیادہ حاصل تھی تو صرف انسائیکلو پیڈیاں یا لائیبریری یا کتب خانہ سے تھوڑا زیادہ سیکھتا تھا۔ لیکن یہ بہت مشکل تھا کہ آپ پورے دنیا کے بارے میں اور لوگوں سے وہ سوالات جان سکے جو کہ آپ کو عام ذرایع مہیا کرتی ہے۔ لیکن آجکل کی نسل کو اعلی معیار کی معلومات تک آسانی سے رسائی او ر ایک دوسرے سے حو صلہ افزائی کے مواقع نے انکو والدین کے خوف اور متعصبانہ رویوں سے آگے لا کھڑا کردیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل کے نوجوان مشرقی وسطی میں جوش انقلابات کے طرف گامزن ہیں تو دوسری طرف چائینا والے نئی انقالابات کے طرف بے چین ہیں۔علاوہ ازیں بالغ بھی ان انقلابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے ہے ہیں۔ انڈیا میں بھی متوسط طبقے عام طور پر اسی کے تحت معاشرتی بیماریوں کے خلاف بولنے لگا ہے۔ وادیٰ سلیکان Silicon Valleyنے بھی عور ت کو اپنے بورڈز میں شامل کرنا شروع کردیا ہے اور یہ سب آجکل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے تما م دنیا کیلئے بے نقاب کیا ہے۔اسی لئے یہ کہنا بجا ہے کہ سوشل میڈیا نے دنیا کو فوائید کے ساتھ ساتھ بہت سے مسائل سے بھی دوچار کیا ہے۔ جیسا کہ سوشل میڈیا ایک نشے کی سی صورت اختیار کرگئی ہے۔ اور ھمارے نئی نسل میں ایک زہر قاتل کی طرح سرایت کررہی ہے۔ جس طرح مغربی اور مشرقی وسطی کے کچھ شدت پسند تنظیموں نے نوجوان طبقے کو
اپنی صفوں میں شامل کرنے کیلئے اسی سو شل میڈیا ہی کا سہارا لیاہے۔ اسکے علاوہ یہی سوشل میڈیا ہمیں اور ہمارے معاشرے اور نسل کے ہر طبقے کو ایک کم خرچ اور ارزاں بدمزہ طریقہء جاسوسی کرنے کا ایک دلچسپ ذریعہ ہے ۔ یہ سوشل میڈیا ہی کے کرشمے ہیں کہ جرائیم پیشہ افراد کو ہماری ہر قسم کی معلومات فراہم کرنے میں کارگر ثابت ہورہی ہے۔ حکومتوں اور جاسوسی کرنے والے اداروں کو اب انسانی جاسوسوں کی ضرورت نہیں کیونکہ سوشل میڈیا ہی یہ کا م بڑی آسانی سے پوراکرتی ہے ۔ آئے روز ہم سوشل میڈیا کے ذریعے ہم ا پنے خیالات ،تصورات ،جذبات ،پسند ناپسند حتی کہ ہم اپنے سیاسی و معاشرتی ترجیحات اور ارادوں کو بھی تمام دنیا کے ساتھ مشترک کرتے ہیں۔یہی نہیں ہم اپنے مباشرت کے تمام تصاویر اسی پر شائیع کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ کوئی جاسوسی کرنے والہ ادارہ اتنے معلومات مہیا نہیں کرسکتا جتناہم خود انکے لیئے مہیا کرتے دیتے ہیں۔ اور آگے یہ ان کے لئے بہت آسان ہے کہ ان سوشل میڈیا پر ہماری شائیع کردہ معلومات کو بہت آسانی سے ہمارے شخصیت کے خدوخال اور لوگوں کے رائے سے موازنہ کرکے بتاسکتے ہیں کہ ہمارے لئے آگے کیا لائیحہ عمل تیا ر کرنی چاہئے۔ اسی سوشل میڈیا سے تاجروں اور بڑے بڑے کاروباری کمپنیوں کو بھی بہت مواقع حاصل ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آمازون Amazon یہی پیشن گوئی کرسکتاہے کہ کون کیا خریدے گا اور کیسے خریدیگا۔ اسی طرح گوگل Google ہمارے ضروریات اور خواہشوں کو اسی سوشل میڈیا کے ذریعے جانچتی ہے اور اسی کے ذریعے وہ چیزیں گو گل پر ہمارے نفسیات کے عین مطابق ڈالتی ہے۔
اب اگر سوشل میڈیا کے مثبت پہلوؤں کو دیکھا جائے تو اسی کی ذریعے ہمارے صحت کے بارے میں احتیاطی تدابیر اور بیماریوں کے حوالے سے نہایت اہم معلومات ہمیں آسان ذرائیع سے پہنچ جاتی ہے ، اور دنیا کے لوگ ایک دوسرے کو نسخاجات اور اخلاقی مدد دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے طاقت سے
چائینہ کی حکومت لرزتی ہے کیونکہ وہاں لوگ بڑے آسانی سے حکومتی مشینری کے اھلکاروں اور نمائیندوں کے رشوت ستانی اور مظالم کو ایک دوسرے سے مشترک کرتے ہیں اسی لئے کہتے ہیں کہ جمہوریت کیلئے سوشل میڈیا کے علاوہ کوئی بڑا طاقت نہیں،کیونکہ اسی کے ذریعے لوگوں کو بڑے آسانی سے خودمختار بنایاجا سکتا ہے۔ اسی لئے یہی ایک واحد ذریعہ ہے جو کہ سب سے کم وقت اور کم قیمت میں لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے میں اپنا اہم کردار اداکرتی ہے۔
باوجود اسکے کہ سوشل میڈیا لوگ پھر بھی استعمال کرتی ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ ہم اسیاتی یعنی قوت نمائی تبدیلی کے دور سے گزرہے ہیں۔ ہمارے آنے والے ادواربہت دلچسپ اور غیر متوقع رجحانات کے طرف جارہے ہیں اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہی سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی میں ترقی ہمیں کس طرف لے جائیگی ۔ لیکن می�ئپر امید ہوں کہ اگر ہم اپنی نئی نسل کو سوشل میڈیا کے صحیح سمت میں استعما ل کو یقینی بنانے کیلئے اچھی حکمت عملی تیار کرے اور اپنے بچوں کو اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے اچھی تربیت دے تو یہ انسانیت کے فلاح و بہبود کیلئے اور ملؑ ت بیضا کے طویلالمیعاد رہنے کیلئے کارگر ثابت ہوگا۔
2,470 total views, no views today



