کی، جس میں سوات میں انجینئرنگ یونی ورسٹی کے قیام کی (مبینہ طور پر) تجویز تھی۔ ہمارے خیال میں یہ ایم پی اے صاحب کی ہی بچکانہ حرکت تھی۔ انھوں نے گورنر صاحب کے ساتھ ملاقات کا یہ عمدہ موقع ضائع کردیا۔ ہمارے پاس درجنوں مسائل ایسے تھے اور ہیں جو گورنر صاحب کے دائرۂ عمل میں آتے ہیں۔ ہمیں یہ احساس شدید تر ہو رہا ہے کہ ایم پی اے صاحب سمجھ دار لوگوں کے مشوروں سے محروم ہیں۔ اُن کو یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پہلے تو کسی علاقے میں یونی ورسٹی کے قیام پر کافی وقت لگتا ہے اگر وہ یہاں قائم ہو بھی جائے، تو وہ یقیناًسیدوشریف مینگورہ میں یعنی فضل حکیم صاحب کے حلقے میں نہ ہوگا اور نہ اُس سے سوات کے بچوں کو کوئی خاص فائدہ ہوگا۔ بہتر بات ہوتی اور ہوگی اگر ایم پی اے صاحب اپنے حلقے کے مسائل پر توجہ دے کر انھیں حل کر وائے۔
سوات میں پی ٹی آئی سرکار کی گزشتہ ایک سال کی کارکردگی زیادہ واضح نہیں ہے۔ عوام کے مسائل بڑھ رہے ہیں اوران کی بڑی وجوہات میں ایک وجہ یہاں آئین 1973ء کی ستم ظریفی بھی ہے کہ اُس نے اس علاقے کو قوانین کی بہ راہ راست دست یابی سے محروم کردیا ہے۔ ایم پی اے صاحب کو چاہیے تھا کہ گورنر جیسی بڑی اور اہم شخصیت سے ملنے سے قبل ماہر افراد سے عمدہ بریفنگ لیتے اور عمدہ تجاویز اور درخواستوں کے ساتھ اُن سے باقاعدہ ملاقات کرتے۔ گورنر صاحب کی توجہ اُن مسائل کی طرف مبذول کرواتے جو بنیادی نوعیت کے ہیں۔
ایم پی اے صاحب یہ بھول گئے کہ سیدو شریف مینگورہ کے حلقے کا بڑا مسئلہ یہاں انجینئرنگ یونی ورسٹی کی عدم موجودگی نہیں۔ یہاں گورنر صاحب کے ذمے داری کے جو ادارے مثلاً سوات یونی ورسٹی اور سوات تعلیمی بورڈ سے وابستہ ہزاروں طلبہ اور سیکڑوں اساتذہ کے مسائل ہیں، ایم پی اے حضرات کو مل کر ان مسائل کو عوام (طلبہ؍ اساتذہ اور والدین) سے معلوم کرکے اُن کو گورنر صاحب کی نوٹس میں لانا چاہیے۔
ایم پی ایز حضرات کو، خصوصاً فضل حکیم صاحب کو یہ دیکھنا چاہیے ( پشاور سیکرٹریٹ کے محکمہ قانون سے راہ نمائی لے کر) کہ یہ بورڈ قانونی طور پر کس کے ما تحت ہے، گورنر کے یا وزیراعلیٰ کے؟ یہ یقیناًگورنر کے ما تحت ہے، جس پر وزیراعلیٰ کا قبضہ ناجائز اور غیر آئینی محسوس ہوتا ہے۔ اس طرح سوات یونی ورسٹی جو کہ فضل حکیم صاحب کے حلقے میں ہونی چاہیے کے معاملات گورنر صاحب اور سیکرٹری اعلیٰ تعلیم کی خصوصی توجہ چاہتی ہے۔ فضل حکیم صاحب کو میاں جعفر شاہ کی اس تحریک کی حمایت اور اُس پر کام کرنا چاہیے کہ کیوں، کیسے اور کتنا مالی نقصان سوات یونی ورسٹی کو اس کی خود سر انتظامیہ نے پہنچایا، فضل حکیم کو یہ معلوم کرکے پریس کے ذریعے سوات کے عوام کو بتانا چاہیے۔ یہ معاملہ گورنر صاحب کی نوٹس میں لانے والا تھا کہ کس طرح گورنر کے ایک ادارے میں مالی بد عنوانیوں پر اسمبلی میں سوال اُٹھایا گیا۔
اس طرح ایم پی اے صاحب پر یہ لازمی ہے کہ اُنھی کے حلقے کے تعلیمی بورڈ سے طلبہ، اساتذہ اور والدین کی کیا شکایات ہیں؟ اس میں کتنے افسروں کی کمی ہے؟ بورڈ کی اپنی پریشانیاں کون سی ہیں، اور حکومت اور کتنے عرصے تک اس کمی کو اپنی ناکامیوں کی وجہ سے برقرار رکھے گی؟ ایم ایم اے کی حکومت نے جو بڑے گناہ دیدہ و دانستہ کیے تھے، اُن میں ایک گناہ یہ بھی تھا کہ اُس ’’حکومتِ علماء‘‘ نے صوبے میں مختلف نیم خود مختار اداروں کو گورنر جیسے غیر جانب دار سربراہ کی نگرانی سے نکالا اور وزیراعلیٰ جیسی مجبور و محصور شخصیت کے ما تحت کردیا۔ اب جس کی سفارش اور زور ہو، خواہ وہ نالائق ترین شخص ہی کیوں نہ ہو، وہ ان اداروں میں گھس آتا ہے۔ اس وقت سوات تعلیمی بورڈ کا سارا کام چند نوجوان آفیسرز کے کاندھوں پر ہے، جن کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ فضل حکیم صاحب کو اس حقیقت کا علم ہونا چاہیے تھا کہ ایم ایم اے والا خود سرانہ ایکٹ کا اطلاق سیدو شریف اور چکدرہ بورڈز پر 1973ء کے آئین کے آرٹیکل 247(3) کے تحت نہیں ہوتا، یہ دونوں تعلیمی بورڈز آج بھی گورنر کے ما تحت ہیں۔ صوبائی حکومت کا ان پر قبضہ غیر آئینی ہے۔ وزیراعلیٰ یا وزیر تعلیم کی سرکردگی میں ان بورڈز کے بارے تمام فیصلے غیر آئینی اور غیر قانونی ہیں۔ فضل حکیم صاحب کو یہ حقائق گورنر صاحب کی نوٹس میں بہ ذریعہ ایک خط لانے چاہئیں۔ اس طرح اُن کا یہ بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے حلقے کے روز بہ روز بڑھتے ہوئے بے شمار مسائل کے حل کروانے پر توجہ دیں۔ مینگورہ کو خوب صورت بنانے کا اُن کا اعلان ہم کو بھی پسند ہے، لیکن سب سے پہلے اس شہر میں موجود بے روزگاری، بعض سرکاری محکموں کی اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکامیاں، صحت اور تعلیم سے متعلق کئی مسائل، شہر کے نو دولتیوں کی حد سے زیادہ خود سری اور اُن کے ہاتھوں بلدیاتی اور سرکاری ملازمین کی شکست و مغلوبیت کی طرف مؤثر توجہ کی ضرورت ہے۔ انجینئرنگ یونی ورسٹی ہماری ضرورت ہے اور نہ اولین ترجیح، ان ڈراموں سے ہمیں نہ ٹرخایا جائے۔ کام کیا جائے۔
1,042 total views, no views today


