ضلع سوات تاریخی ، ثقافتی ،اور جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کے بہت اہم ضلعے کے حیثیت رکھتی ہے۔ اسکے خوبصورتی ،اقتصادی و سیاسی تغیرات تاریخی اعتبار سے ایک لمبی سوانح عمری رکھتی ہے۔جس کو مختلف قومی اور بین الاقوامی مصنفین نے اپنے تحقیقی مقالوں اور مضامین میں بڑی جامع اور مفصل انداز میں قلمبند کیئے ہیں۔ مختلف ادوار میں اس علاقے کی جغرافیائی حدود میں تبدیلیاں آتی رہی ہے۔ لیکن 1947تک ریاست سوات کی جغرافیائی حدود وسیع علاقے تک پھیل گئے اور ریاست سوات کی توسیع جنوب مغرب میں ملاکنڈ ایجنسی تک جبکہ مغرب میں ضلع دیر اور جنوبی سمت میں ضلع مردان اور مشرق کے طرف دریائے سندھ کے کنارے تک اور شمال میں چترال اور گلگت کے ریاستوں تک پھیل چکے تھے۔
اگر ہم موجودہ سوات کے جغرافیہ کو دیکھے تو ابھی تک ملاکنڈایجنسی کے کچھ علاقے ، بونیر ،شانگلہ ،کوھستان ، سوات سے الگ ہوکر علیحدہ ضلعے بن چکے ہیں۔ ترقی کی موجودہ سفر میں اگر ان الگ شدہ ضلعوں کا موازنہ موجودہ ضلع سوات سے کیا جائے تو مجموعی اعتبار سے کئی سال تک حالت جنگ میں رہنے کے باوجود ضلع سوات ان سے کافی حد تک بہتر ہے۔ اب چونکہ موجودہ حکومتی پارٹی چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے ضلع سوات کو دو ضلعوں میں تقسیم کرکے بالائے سوات اور زیریں سوات کا اعلان کرچکاہے۔ اس فیصلے کو اگر غیر جانبدارانہ نظر سے دیکھا جائے تو اس سے صرف بحرین سے اوپرکے علاقے ٹوارزم ، روزگار،ماہی گیری اور جنگلات کے حوالے سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس اسکے بہت سارے نقصانات بھی ہیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایسا کیونکر ہے ؟ تو سب سے پہلے یہ کہ کسی علاقے کو لسانی اور سیاسی مفاد کو تقویت دے کر یا اسکو قومی عصبیت کے اعتبار سے تقسیم کرنا انتہائی نا مناسب اور سراسر غلط ہے ۔ علاوہ ازیںیہ فیصلہ ریاست پاکستان کے قومی سلامتی کیلئے کوفائدہ مند ثابت نہیں ہوگا ۔ کیونکہ اس قسم کے تجربات ہمارے لئے پہلے بھی کارگر ثابت نہیں ہوئے ۔
اب جوکہ سوشل میڈیا پر کچھ فورمز متعصبانہ رویوں کو اپنا کراور تعصب پرستی کو ہوا دے کر سوات بالا و سوات زیریں کے ضلعوں کے قیام کے فیصلے کو ایک تعمیری قدم قراردیتے ہے۔ جو کہ میرے خیال میں ایک خوش آیئند بات نہیں کیونکہ سوات کی دو ضلعوں میں تقسیم کی فی الحال ضرورت کم اور دوسرے مسائل پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے۔ پچھلے ادوار کے تجربات کو بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر سلطان روم اپنے کتاب (ریاست سوات ابتداء سے ادغام تک)میں سوات کے تقسیم اور ادغام کے جامع اور تفصیلی منظر نامہ پیش کرتے ہیں جنکا خلاصہ کچھ یوں ہے ’’ ریاست سوات کا ادغام اسلئیے کیاگیا کیونکہ سوات کے لوگ والی سوات کے مطلق العنانی طرز حکومت سے دل برداشتہ تھے اسکے ساتھ ساتھ کچھ اور مسائل بھی تھے جیسا کہ سیاسی آزادی کا فقدان،نوکریوں کے مسائل، جائیدادوں کے تقسیم اور اسکے علاوہ انصاف کے فراہمی میں بادشاہتی نظام کا اثرورسوخ جیسے مسائل شامل تھے ۔ ان مسائل سے چھٹکار ا حاصل کرنے کیلئے لوگوں نے سوات کے ادغام کیلئے جدوجہد شروع کی اور حتی کہ سوات کا ادغام ہوگیا۔ لیکن ادغام کے بعد جن مسائل کے حل کیلئے لوگوں نے جدوجہد کی تھی ان مسائل نے ایک اور رخ اختیار کیا اور لوگ پھر ریاست سوات کے زمانے کے عدل و انصاف اور طرزحکومت کو اچھا سمجھنے لگے۔ جسکی بڑی وجہ یہی تھی کہ ادغام کے بعد بہت بڑی سطح پر بد انتظامی ، قدرتی وسائل کا بے جا استعمال ،جنگلات کے غیرقانونی کٹائی اور زمینوں کے حوالے سے جھگڑوں جیسے مسائل نے جنم لیا۔اسکے علاوہ تعلیمی معیار میں زوال پذیری دیکھنے میں آئی۔ اسی طرح غربت کے خاتمے کے بجائے سوات کی اقتصادی اور معاشی حالات آئے روز خراب ہوتے گئے۔ اسکے علاوہ عدالتی نظام کے مفلوجیت بھی ریاست سوات ادغام کے منفی اثرات میں شامل ہیں۔اسلئے میرا تاثر ہے کہ ابتدائی طور پر آجکل کے خیبر پختونخوا کے ساتھ ادغام سے سوات کے عوام کو وہ مقاصد حاصل نہ ہوسکے جن کا لوگوں کو توقعات تھے۔ کیونکہ نئی انتظامیہ اور طرز حکومت مفلوج ہوکر رہ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اسی لئے سوات کے عوام میں یہ عام رائے اور احساس پایاجاتاہے کہ موجودہ انتظام حکومت عوام کے ضرورتوں اور امنگوں کے حوالے سے غیرفعال ہے اور اگر اسکو سابقہ والی سوات کے طرز حکمرانی کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو اس میں سوات کے عوام سے یہ تاثر ملتا ہے کہ والی کے طرز حکومت اس سے بدرجہاں بہتر ہے‘‘۔ ان حوالہ جات اور مثالوں سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ سوات کے انتظامی امور اسی طرح اچانک اور تیزی سے تبدیل کرنے سے تو شاید ایک خاص طبقے یا خاص سیاسی گروہ کے مقاصد کو تو پوراکرتی ہے لیکن اسکے طویل المیعاد اور دورس نتائج نہیں آئینگے لہذاسوات کے عوام اور صوبائی و وفاقی حکومتوں کو یہ بات باور کرنا ضروری ہے کہ ضلع سوات کی تقسیم سے پہلے یہ بات سو فیصد سوچے اور ایک مکمل تحقیقی جائیزہ اور تجزیات کے بعد فیصلہ کرے کہ آیا سوات کی تقسیم ضروری ہے یا نہیں اور اگر ضروری ہے توکس طریقہء کار سے اسکی تقسیم کریں جو ایک غیرجانبدارانہ ہو اور سوات کے تمام عوام کے فلاح وبہبود کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے۔ اللہ تعالی سے دعاہے کہ وہ ہمارے حکمرانو ں کو حقیقی انصاف پر مبنی فیصلہ جات کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین۔
3,000 total views, no views today



