تحریر : ایم سرور خٹک
حکومت نے آتے ہی تحصیل سطح پر کھیلوں کے گراؤنڈ ز کی فراہمی کا اعلان کیا تاکہ نوجوانوں کومقامی سطح پر صحت اور تفریح کے مواقع فراہم ہو سکیں۔جن تحصیلوں میں زمین بر وقت فراہم کی گئی وہا ں پر گراؤنڈز مکمل ہوگئے اور یہ سلسلے تیزی سے جاری ہے۔کرکٹ میں ڈویژنل ٹیلنٹ ہنٹ مقابلے قومی ہیرو عمران خان کے نام سے منعقد کئے گئے جہاں سے نامور کھلاڑی پید ا ہوئے اور ہو رہے ہیں۔اضلاع کی سطح پر سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبہ کے ما بین تما م کھیلوں کے مقابلوں کا اہتمام سرگرمی سے کیا جا رہا ہے۔
۔موجودہ صوبائی حکومت نے محکمہ سیاحت اور محکمہ ثقافت میں نئی روح پھونکی ۔ کالام ، مالم جبہ ، گبین جبہ، جاروگو، کاغان، نتھیاگلی ، ہنڈ اور دیگر مقامات پر اربوں روپے کے تر قیاتی ، سیاحتی ، تفریحی اور ماحولیاتی منصوبے مکمل کئے۔ کالام ترقیاتی ادارہ قائم کیا گیا اور گلیات ترقیاتی ادارہ کو فعال بنا کر نتھیاگلی اور اردگر د علاقوں میں تجاوزات کا خاتمہ کیا اور وہاں پر ایک نئی حسین دنیابسائی ۔ صوبائی حکومت نے ریسٹ ہاوسز میں مفت قیام کو سختی سے روکااور نتھیاگلی کے اہم ترین ریسٹ ہاوسز کو سیاحوں کیلئے کھول دیا پشاور اور دیگر شہروں میں پارکوں کی بحالی کی گئی جبکہ پشاور میں بہت بڑا چڑیا گھر قائم کیا گیا ۔ سیاحت دوست اقدامات کے نتیجے میں سوات اور کاغان میں گزشتہ گرمیوں میں اور عیدین کے مواقع پر 25,25لاکھ سیاحوں کا ریکارڈ قائم ہوا۔محکمہ ثقافت کے تحت صوبہ کے شاعروں ، فنکاروں اور دیگر ہنرمندوں کو 30ہزار روپے ماہانہ مالی امداد کا اجراء کیا گیا جو ملک بھر میں ایک منفرد ریکارڈ ہے۔ اس امداد کے طریقہ کار میں بہتری کی گنجائش موجود ہے کیونکہ امداد سے بہت سے مستحق خواتین و حضرات محروم رہے جن کو ٹی وی سکرینوں پر دلدوز انداز میں روتے دھوتے دیکھا گیا۔ اگر مالی امداد کی رقم 15تا20ہزار ماہانہ کی جائے اور سلیکشن کمیٹی میں ہر تحصیل سے ایک مخلص دانشور شامل کیا جائے تو اس سکیم کے فوائد اور ثمرات بہت زیادہ بڑھائے جا سکتے ہیں ۔محکمہ سیاحت و ثقافت نے مختلف فیسٹیولز میں مقامی فن، ادب، موسیقی ، دستکاریوں اور فوڈ سٹالز کے ذریعے ثقافت کے فروغ کیلئے اہم کر دار اد ا کیا ۔
سماجی بہبود کے سلسلے میں بھی اہم کام ہوا۔ انصاف فوڈ سپورٹ کے تحت اربوں روپے کی غریبوں کو سبسیڈی ، انصاف صحت کارڈ کے تحت تقریباً دو کروڑ آبادی کو مہلک بیماریوں کے علاج کی سہولت، ہزاروں اہل فن و ہنر کو محکمہ ثقافت کے کروڑوں روپے کے و ظائف ، قابل طلبہ کیلئے انعامات اور و ظائف ،60سال سے زائد عمر کے شہریوں کیلئے ٹرانسپورٹ اور علاج میں سہولیات، معذوروں کیلئے خصوصی مراعات وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
اداروں کے استحکام اور ان کے کام میں شفافیت کے سلسلے میں موجود ہ حکومت کے اقدامات بھی مثالی ہیں ۔ حکومت نے صوبائی سیکرٹریوں کو مانیٹرنگ آفیسر مقرر کرکے اضلاع میں جاری تر قیاتی منصوبوں میں حائل مشکلات کو دور کیا۔ مانیٹرنگ رپورٹس کے ذریعے بہت زیادہ دیرینہ مسائل حل ہوگئے اور رکے ہوئے ترقیاتی کام مکمل ہوگئے ۔ ای ٹینڈرزکے نفاذ کے ساتھ ترقیاتی کاموں میں میرٹ قائم ہوا اور بہت سی قباحتوں کا خاتمہ ہوا ۔علاوہ ازیں ڈائر یکٹوریٹ جنرل پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ بھی تمام مکمل شدہ ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ اور ایولیوویشن کر تا ہے جس سے تر قیاتی منصوبوں میں شفافیت میں بہت مدد ملتی ہے ۔
صوبائی حکومت نے جمہوری نظام میں میرٹ اور شفافیت کو اولین راہنما اصول قرار دیا تھا ۔ چنانچہ تمام محکموں میں این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی کی گئی جس کے تحت غریب ترین خاندانوں کے لکھے پڑھے بچے بغیر سفارش کے تمام محکموں ، خصوصاً تعلیم ، صحت اور پولیس میں بھر تی ہوئے جس کے نتیجے میں پرجوش اور پر عزم نوجوان محکموں میں بھرتی ہوئے۔ یوں موثر طور پر تمام محکموں میں نئے پاکستان کی بنیاد ڈالی گئی۔ مذکورہ بالا محکموں کے علاوہ بقیہ تمام محکموں نے بھی اہم کام مکمل کئے اور روایتی طور طریقوں کو چھوڑ کر اپنے اپنے محکموں میں تبدیلی کا رخ متعین کیا۔ اس تحریر کو مشت از خروارے سمجھا جائے۔ یہ صرف ان اقدامات کا سرسری ذکر تھا جو تبدیلی کے ایجنڈے کے موتیوں میں چمکدار موتیوں کی طرح نظر آرہے ہیں۔
1,528 total views, no views today



