تحریر پیر محمد
سنا ہے کہ پھر کوئی حادثہ رونما ہوا ہے۔ قیامت بپا ہے۔ کسی کو تسلی نہیں ہے۔ ہر کوئی سوچ رہا ہے کہ کیا ہوا ہے اور مزید کیا کچھ ہونے والا ہے؟ لیکن سب ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے لوٹ مار میں مصروف عمل ہیں۔ یہ سوچ بالکل نہیں کہ کسی کو دھیان ہی نہیں کہ آخر ہم کس کو لوٹ رہے ہیں؟ کیا ملک نیلام ہوچکا ہے اور اس کے قانون کی کاپیاں جلائی جا چکی ہیں کہ جس کی جو بھی مرضی ہو، وہ بن داس وہ کرے یا واقعی حکومت نام کی کوئی شے باقی بھی ہے۔ ہاں، آج ایک مرتبہ پھر ملک بحران کا شکار ہے۔ برسبیل تذکرہ بونیر کا ایک مشہور مقولہ یاد آیا: ’’باران پہ دوہ سرو وشو او خرہ ئی دہ ڈگر یو ڑل۔‘‘ یعنی بارش دوہ سرو (بونیر کی ایک مشہور چوٹی کا نام) پر برسی اور اس کے نتیجے میں نکلنے والا سیلابی ریلہ ڈگر کے گدھوں کو بہا لے گیا۔
قارئین کرام! سننے میں آیا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد کو منی لانڈرنگ میں لندن پولیس نے گرفتار کیا ہوا ہے اور تفتیش جاری ہے۔ لیکن احتجاج وطن عزیز میں ہو رہا ہے۔ سڑکیں اور بازاریں یہاں بند ہیں اور دھرنے بھی جاری ہیں۔
کراچی کی تو خاص کر ان دنوں بات ہی کچھ اور ہے۔ بازار، ٹرانسپورٹ اور مارکیٹیں مکمل طور پر بند ہیں۔ اور غریب عوام بھوکے مررہے ہیں۔کئی گاڑیاں جلائی جا چکی ہیں۔ جب کہ کسی ایک کو بھی یہ خیال چھوکے نہیں گزرا کہ آیا یہ گاڑیاں لندن والوں کی ہیں یا یہ ہمارے ملک کے غریب باسیوں کی ہیں۔ نقصان ہمارے ملک کا ہو رہا ہے یا لندن والوں کا۔۔۔؟
ہاں، اگر الطاف بھائی کو گرفتار کیا گیا ہے، تو ان کا حق ہے کہ وہ اپنی صفائی پیش کر کے اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کریں اور عوام الناس کو امن سے رہنے کا پیغام بھیجیں۔
عجیب بات تو یہ ہے کہ جب بھی کوئی سیاست دان یا جاگیردار کو گرفتار کیا جاتا ہے، تو وہ اسی وقت بیمار ہوجاتا ہے۔ کسی کو دل کا دورہ پڑتا ہے، تو کسی کی ریڑھ کی ہڈی میں درد اٹھتا ہے۔ ملکی مفاہمت کے نام پر کبھی این آر او لایا جاتا ہے، تو کبھی ایک اور ایسا قدم اٹھایا جاتا ہے جس کا عام عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ کیا قانون صرف عام عوام کے لیے بنا ہوا ہے؟ جیلیں صرف اور صرف ان کے لیے بنائی گئی ہیں؟ یہ وہ چبھتے ہوئے سوال ہیں جس کا جواب ہر کوئی چاہتا ہے۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ کیا کسی سازش کے تحت تو یہ نہیں ہو رہا کہ پاکستان کی معاشی حالت فی الوقت سدھر گئی ہے۔ تاکہ تھوڑے بہت سدھار کے بعد اس کو دیمک کی طرح چاٹ چاٹ کر پھر کھوکھلا کیا جاسکے؟ مجھے تو یہ سب کچھ ایک وقتی سازش کے سوا کچھ نہیں لگتا کہ پاکستانی قوم سر نہ اُٹھا سکے اور کچکول اس کے حکم رانوں کے ہاتھوں میں رہے اور بھیک ایک طرح سے صنعت خاص رہے۔
حکومت کو بھی چاہیے کہ قانون کی کتابیں کھول کر ان کا جائزہ لے۔ آخر یہ روایت کب تک چلتی رہے گی کہ کبھی الطاف حسین، کبھی مشرف، تو کبھی زرداری بیمار ہو کر خالق حقیقی سے جا ملیں گے اور پھر ایک طرح سے قیامت برپا کی جاتی رہے گی۔ دکانیں، گاڑیاں اور دیگر املاک اس ملک کے غریب باسیوں کی نذر آتش کی جائیں گی اور عام عوام بھوکے مریں گے۔
اگر حضرت ابوبکر صدیق منکرین زکوات کے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہیں، تو آج کے حکم ران غریبوں کی گاڑیوں اور کاروبار کو نذر آتش کرنے والوں کے خلاف قدم نہیں اٹھا سکتے۔
اگر واقعی اس ملک کا کوئی قانون ہے، تو پھر تو اس کا تقاضا ہے کہ اس کی نظر میں سب کو برابر ہونا چاہیے۔
984 total views, no views today


