وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا محترم پرویز خٹک نے مری اور گلیات کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کا اعلان کیا ہے۔ ہمیں اس پر اعتراض نہیں ہے۔ پاکستان کے کسی بھی حصے میں ترقیاتی کام کا ہونا قابل تحسین امر ہے۔ ہمیں صرف اعتراض اور دکھ بے انصافی پر ہے کہ اس بجٹ کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ صاحب کو سوات کے کھنڈر نما سڑکوں، تباہ حال پلوں کے لیے بھی اعلان کرنا چاہیے تھا۔ یہ دوسرا بجٹ ہے کہ سوات کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کا ایک سال پورا ہوا۔ اس میں پورے سوات میں ایک انچ کا ترقیاتی کام بھی نہیں ہوا۔ کسی چھوٹے نہ میگا پراجیکٹ کا آغاز ہوا۔ یہ سال انتظار، وعدوں اور قسموں میں گزر گیا۔ سارا سال عمران خان نے وزیروں کے بدلنے اور جہانگیر ترین صاحب نے صرف بولنے پر اکتفا کیا۔ اب دوسرے سال کے ترقیاتی منصبوں کے بجٹ کے اعلانات ہورہے ہیں جب کہ اس میں سوات کانام و نشان تک نہیں۔
دراصل سوات اور سوات کے عوام ایک گہری سازش کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس سازش کے شکاری لاہور اور راولپنڈی میں بیٹھ کر سازشوں کے تانے بانے بن رہے ہیں۔ اس میں لاہور اور راولپنڈی کے وہ کاروباری حضرات شامل ہیں، جن کے کاروبار مری اور گلیات میں ہیں۔ انھوں نے پشاور کی بیورو کریسی اور سول انتظامیہ کو بھی چند ٹکوں کے عوض خرید لیا ہے۔ انھوں نے اپنی قوم کے سروں کا سودا کرلیا ہے۔ کیوں کہ ان لوگوں کو خوب پتہ ہے کہ اگر سوات کی سڑکیں آباد ہوگئیں، پل تعمیر ہوگئے، امن وامان کا دور آگیا، تو ایشیاء کا یہ سویٹیزر لینڈ ’’سوات‘‘ مری اور گلیات کو پیچھے چھوڑ جائے گا۔ سوات چناروں، آبشاروں، برف پوش پہاڑوں، چشموں اور خاص کر دریائے سوات کے خوب صورت دل فریب نظاروں کی سرزمین ہے۔ پوری دنیا میں اپنے حسن کی وجہ سے اس جنت نظیر وادی کے آگے بھلا مری اور گلیات جیسی تنگ و تاریک چندپہاڑوں کی کیا وقعت ہے؟ لیکن افسوس کہ بات یہاں وطن، قوم اور پھر پاکستان کی نہیں ہے، یہاں اہم بات یہ ہے کہ ہم سواتی عوام عرصۂ دراز سے وطن، قوم اور پاکستان کے نام پر لوٹے جا رہے ہیں۔ کیا پاکستان اور وطن صرف گلیات اور مری کا نام ہے؟ ایک اور ستم ظریفی یہ ہے کہ مری، ایبٹ آباد اور گلیات جیسی خوب صورت اور آباد سرزمین آج تک طالبان کی نظر کرم سے دور ہے۔ سارے طالبان سوات میں پائے جاتے ہیں۔ اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ پیدا کیے جاتے ہیں۔ کھلم کھلا ظلم اور بے انصافی کا ایک اورمظاہرہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ عین گرمی کا سیزن شروع ہوتے ہی طالبان کی فضا در آتی ہے۔ امن امان کا مسئلہ شروع ہوجاتا ہے۔ خوف اور دہشت کی فضاء پیدا کر دی جاتی ہے۔ تاکہ جو تھوڑے بہت سیاح آتے ہوں، تو وہ بھی نہ آئیں۔
سوات کے سادہ لوح عوام ابھی تک اس صورت حال کو کبھی قدرت کا انتقام تصور کرتے ہیں اور کبھی اسے اللہ تعالیٰ کی مرضی سے تعبیر کرتے ہیں۔ انھیں یہ کب معلوم ہوگا کہ ایسا ماحول مصنوعی طریقۂ واردات سے پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ ایک منظم سازش ہے، جس کی ہم شکار ہو رہے ہیں۔ کتنے عرصہ سے سوات کی سڑکیں کھنڈر بنی ہوئی ہیں۔ حکومتیں آئیں اور گئیں۔ قومیت کے نام پر بننی والی حکومت نے بھی اپنی جیبوں اور ذاتی مفادات کو مقدم جانا اور سوات کے عوام کے مفادات کو اسلام آباد اور پنجاب کے مفادات پر قربان کردیا۔ اور ہم وہی پس ماندہ کے پس ماندہ رہے۔ ہمارے پل برباد، ہماری سڑکیں کھنڈر نما۔ ہمارا کوئی مسیحا نہیں۔ اور تو اور اب تو تبدیلی کے نام پر آنے والے بھی اسی سازش کو آگے پروموٹ کررہے ہیں۔
سوات کے لوگوں اُٹھو، جاگ جاؤ، اپنا حق مانگنے سے نہیں، چھیننے سے ملے گا۔ پارٹی مفاد کو چھوڑ کر صرف اور صرف اپنے سوات کے مفاد کو مقدم جانو، جو بھی ہمارے مسائل حل کرے گا، ہماری سڑکیں، ہمارے پل بنائے گا، اسکول اور اسپتال آباد کرے گا، بے روزگاروں کو روزگار دے گا، وہی ہمارا لیڈر ہوگا، وہی ہماری پارٹی ہوگی۔
ہم پختون خوا والوں نے تحریک انصاف کو اس لیے ووٹ نہیں دیا تھا کہ تحریک فیصل آباد، لاہور اور راولپنڈی میں احتجاجی تحریک چلائے گی۔ ہم نے اپنے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ووٹ دیا تھا۔ دھاندلی سے یا بغیر دھاندلی کے تحریک انصاف یہاں جیت چکی ہے اور اب یہ ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ ہمارے مسائل حل کرے۔ پختون خوا میں بالعموم اور سوات میں بالخصوص ترقیاتی کاموں پر توجہ دیں۔ سوات کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کیا اے این پی کے ممبران کا حشر بھول گئے؟ سواتی عوام کے صبر کا پیمانہ دیر سے لبریز ہوتا ہے۔ وہ انتظار کریں گے۔ وہ ضمنی الیکشن میں بھی ووٹ دیں گے۔ سوات کے عوام تمھاری تقریر وں کو بھی سنیں گے۔ وعدوں کو بھی سنیں گے، لیکن ایک بار وقت ایسا آئے گا کہ وہ آپ کا فیصلہ بھی کریں گے۔ وہ جوکہتے ہیں نا کہ ’’کلہ د ابئی وار وی او کلہ د بابا۔‘‘
ترقیاتی کاموں کے حوالے سے مرکزی حکومت بھی اپنی ذمے داریاں نبھائے۔ صوبائی خود مختاری کو بہانہ بنا کر تحریک انصاف کو کوسنے سے کوئی فائدہ نہیں اور نہ اس عمل سے عوام کو ورغلایا جاسکتا ہے۔ مرکزی حکومت بلا تاخیر بجلی کی مد میں تمام بقایاجات صوبے کے حوالے کریں۔
پختون خوا میں مسلم لیگ ن کی اب بھی ڈھیر ساری پرانی دیانت دار اور ایمان دار قیادت موجود ہے۔ صرف امیر مقام پر تکیہ کرنا اور بھروسہ کرنا صحیح اور تعمیری سیاست نہیں ہے۔ اقبال ظفر جھگڑا، صابر شاہ اور سرانجام خان جیسے پرانے اور قابل بھروسہ وہ مسلم لیگی راہ نما ہیں، جنھوں نے آزمائش اور تکالیف کے دور میں اصولوں کا ساتھ دیا تھا۔ وہ لوگ جھکے تھے، نہ بکے تھے۔ مسلم لیگ کی مرکزی قیادت کو چاہیے کہ بکنے والوں اور جھکنے والوں سے ہوش یار رہیں۔ یہ لوگ چڑھتے سورج کے پجاری ہوتے ہیں۔
کیا مسلم لیگی قیادت نے اب بھی تجربات سے کچھ نہیں سیکھا کہ ابن الوقت، موقع پرست اور چڑھتے سورج کے پجاری قابل بھروسہ نہیں ہوتے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
806 total views, no views today


