سوات (سوات نیوز ڈاٹ کام ) پی ڈی اے یوتھ فورم اور قومی امن جرگہ کا پشاور میں قتل ہونے والے ڈاکٹر واجد علی کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ، مطالبات کے منظوری کے لئے دس دن کی ڈیڈ لائن ، مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنے کی دھمکی ، احتجاجی مظاہرے کے بعد سوات پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی اے یوتھ فورم خیبر پختونخوا کے صدر ڈاکٹر حامد خان ، امن جرگہ سوات کے سربراہ سید انعام الرحمن ، رحمت شاہ سائل ، لیگل ایڈوائزر فضل اللہ ایڈوکیٹ اور ولی تحریک کے سربراہ فیاض خان ، پختونخوا میپ کے رہنما ڈاکٹر خالد محمود خاد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 4نومبر 2017کو سوات کے رہائشی ایم بی بی ایس فائنل ائیر کے طالب علم ڈاکٹر واجد علی کو نامعلوم ملزمان نے چند ہزار روپیہ کے موبائل چھیننے کے دوران مذاحمت پر قتل کردیا ایک ماہ گزرنے کے باوجود ڈاکٹر واجد علی کے قاتل گرفتار نہ وہوئے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے مظلوم خاندان کی داد رسی کی گئی ، ڈاکٹر واجد علی کے والد نے معذوری کے باوجود محنت مزدوری کرکے واجد علی کے کبیر میڈیکل کالج اور ہاسٹل کے اخراجات برداشت کردیئے لیکن ظالموں نے ان کے بیٹے کو قتل کردیا ، انہوں نے کہا کہ ہم مرکزی وصوبائی حکومت ، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک ، گورنر خیبر پختونخوا ظفر اقبال جھگڑا ، کورکمانڈر پشاور اور کمشنر پشاور سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر واجد علی خان کے قاتلوں کو گرفتار رکے کیفر کردار تک پہنچائیں اور پشاور میں سٹریٹ کرائمز روکنے کے لئے جامع حکمت عملی تیار کرے ، حکومت سٹوڈنٹس ہاسٹلز کے سکیورٹی کا مناسب انتظام کرے اور گلی کوچوں میں قائم ہاسٹلز کو تعلیمی اداروں کے قریب منتقل کرے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ کبیر میڈیکل کالج کا انتظامیہ ڈاکٹر واجد علی شہید کے خاندان کو فرسٹ ائیر سے لیکر فائنل ائیر تک خرچ کیا گیا فیس واپس کرے اور حکومت ڈاکٹر واجد علی شہید کے والد کے ساتھ مالی تعاون کریں تاکہ وہ اپنے دوسرے بچے کا مستقبل روشن کریں ، انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے ان مطالبات کو دس روز کے اندر اندر تسلیم نہیں کئے گئے توہم گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیں گے اور اپنے مطالبات کی منظوری تک پر امن احتجاج جاری رکھیں گے ، اس موقع پر سوات کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ بھی کثیر تعداد میں موجود تھے ۔
1,342 total views, no views today



