دریا ئے سوات جیسے کسی دریاکے کنارے ایک شہتیر تیر رہا تھا۔ اس پر چار ’’دو پائے‘‘ بیٹھے تھے۔ معاف کرنا، کہنے والے کے مطابق ’’دوپائے‘‘ نہیں ’’چار پائے‘ ‘ بیٹھے تھے۔ شکر ہے کہ وقت پر اپنی غلطی کا احساس ہوا ورنہ بات کا کیا، اپنی ’’علم دانی‘‘ کا بھی بتنگڑ بن جاتا، بلکہ عالم و فاضل ’’طاقتیں‘‘ ہمیں ’’علم بدر‘‘ بھی کر سکتی تھیں۔ تو دریا میں یکایک پانی کا ریلہ آیا اور شہتیر کو تیزی کے ساتھ بہا کر لے گیا۔ چاروں بہت خوش ہوئے۔ کیوں کہ آج تک انھوں نے سواری کا ایسا لطف نہیں اُٹھایا تھا، کہ انگ انگ مسرور ہو اور تمام تھکاوٹیں دور ہوں۔ عجب سے خمار میں ’’مخمور‘‘ پہلا ’’چارپایہ‘‘ نشیلی آواز میں ساتھیوں کو مخاطب کرکے بولا۔’’یہ نہایت عجیب شہتیر ہے، یوں تیرتا ہے کہ جیسے زندہ ہو، آج تک ایسا شہتیر دیکھنے میں نہیں آیا۔‘‘ دوسرے ساتھی نے ’’سراؤنڈنگز‘‘ پر نظر دوڑائی اور کافی دیر بعد مسکراتے ہوئے یوں گویا ہوا: ’’نہیں دوست! تم تو دماغ کے پتلے ہو، تمھارا عقل داڑھ جو نہیں، یاد رکھو، شہتیر بھی دوسرے گٹھوں کی طرح ہوتاہے، یہ حرکت نہیں کر سکتا، یہ تو دریا ہے جو سمندر کی طرف بہہ رہاہے اور اپنے بہاؤ کے ساتھ ہمیں اور اس گٹھے کو ساتھ لے جا رہا ہے۔‘‘ پھر تیسرے نے ’’بلا توقف‘‘ آنکھیں کھولیں، پھر کھانسی کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلایا، پھر بحث میں شریک ہو کر دونوں کی محدود معلومات کا ماتم کیا اور یوں لب کشائی کی: ’’بے وقوفو! شہتیر تیر رہا ہے، نہ دریا بہہ رہا ہے، حرکت تو ہمارے خیال میں ہے۔ کیوں کہ خیال کے بغیر کوئی شے حرکت نہیں کر سکتی۔‘‘ آگے پڑھتے جائیں، لیکن یاد رکھیں کہ یہ جس حکایت کی بات ہو رہی ہے، اس کا اصل اس نقل کے مطابق نہیں، لہٰذا زیادہ چکرانے کی ضرورت ہے نہ زیادہ اُلجھنے کی۔
جی ہاں، تو چار کے اس ٹولے میں تین آپس میں اس بات پر جھگڑنے لگے کہ فی الحقیقت حرکت کرنے والی چیز کون سی ہے؟ بحث ہوتی رہی لیکن ہر کوئی اپنی ’’وَرڈکٹ‘‘ کا دفاع کرتا رہا۔ نزاع بڑھتی گئی، شورسے’’شرابا‘‘ پیدا ہوتا گیا اور تینوں اپنی اپنی بات پر اڑے رہے۔ آخر گہری سوچ میں مستغرق چوتھے ساتھی کو، جو اس وقت تک ساری بحث توجہ سے سنتا رہا تھا، مگر چپ چاپ بیٹھا تھا، کو ’’رجوع‘‘ کرکے یہ گتھی سلجھانے کا ٹاسک دیا گیا۔ اُس زمانے میں چوں کہ ڈسپیوٹ ریزولوشن کا ’’اسکل ڈیولپ‘‘ نہیں ہوا تھا۔ این جی اوز ’’لاچاروں‘‘ کا ’’اچار‘‘ عالمِ وجد سے ’’عالمِ وجود‘‘ میں نہیں آیا تھا، تو یہ کام کون کرتا؟ اُس نے اس نازک ذمے داری سے پہلو تہی کی کوشش کرتے ہوئے منھ دوسری طرف پھیرا اور کہا: ’’چوں کہ ہم نے اس قسم کے ٹیکنکل مقدمات کے حل کے لیے کوئی ٹریننگ نہیں لی، میرا موجودہ علم بڑا محدود ہے، لہٰذا اس معاملے میں مداخلت میرے صواب دیدی اختیار سے باہر ہے۔‘‘ کافی اَن بن کے بعد میجارٹی کے ضد کے آگے ہتھیار ڈال کر عارضی طور پر چوتھے ساتھی کو منصف کی پوزیشن سنبھالنا پڑی۔ ایشو زیر بحث پر تمہیدی تبادلۂ خیالات کے بعد ماحول خاموشی میں ڈھل گیا۔ یکے بعد دیگرے تینوں دعویٰ جات کا تجزیہ شروع ہوا۔ اُس نے پہلے مرحلے میں شہتیر کا بہ غور جائزہ لیا۔ اس کے اوپر نیچے، ہچکولے کھاتے عمل کو دیر تک بھانپا، ناپا اور تولا۔ دوسرے مرحلے میں دوسرے دعوے کی ’’کرے ڈیبی لیٹی‘‘ ایگزامین کرنے دریا پر ’’نظر دانا‘‘ مرکوز کی، پہلے ایک آنکھ سے پھر دوسری سے پھر بہ یک وقت دونوں سے دریا کی وسعت و حرکت کا نظارہ کیا۔ اطراف میں بیٹھے ساتھیوں کی طرف سنجیدگی سے دیکھا۔ دانتوں کا ڈسپلے کیا، سر کو شرقاً غرباًگھمایا۔ تیسری اٹیپمٹ میں ’’خیال‘‘ کے دریچوں کو وا کیا اور آنکھیں بند کرکے ’’خام خیالی‘‘ میں خود کو متحرک ہونے کا یقین دلایا، پھر آنکھیں کھولیں پھر بند کیں۔ بات بڑی پیچیدہ تھی۔ منصف ایک طرف پیچیدہ صورتِ حال سے دوچار تھا۔ دوسری طرف فیصلہ سننے کا بے تابی سے انتظار بھی ہو رہا تھا۔ اُس نے کچھ وقت مانگ لیا۔ خشک گلے کو پانی کے چند قطروں سے گیلا کیا۔ کافی دیر مغز کھپائی کی۔ آخرکار دماغ میں ایک چنگاری سی پھوٹی، اس نے پہلے اپنا سر کھجایا، پھر ہتھیلی بجائی، ہتھیلی تو خیر نہیں تھی، بس فی الوقت پاؤں ہی کو ہتھیلی سمجھ لیں، سب کو خاموش ہونے کا حکم دیا۔ خاموشی چھا گئی اور اس نے سب کو راضی رکھنے کے لیے مختصر فیصلہ سُنایا: ’’تم میں سے ہر ایک راستی پر ہے۔ غلط کوئی نہیں۔ حرکت شہتیر میں بھی ہے، پانی میں بھی اور ہمارے خیال میں بھی ہے۔ لہٰذا سب جیت گئے، ہارا کوئی بھی نہیں۔‘‘ یہ کہہ کر منصف بڑے اعتمادسے ساتھیوں کا ریسپانس جاننے کے لیے ان کی طرف دیکھنے لگا، لیکن وہ حیران ہوا جو تینوں ساتھیوں کو غضب ناک دیکھا۔ کیوں کہ ان میں کوئی بھی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا کہ اس کا دعویٰ مبنی بر صداقت نہیں اور دوسرے دونوں غلط نہیں۔
برسبیل تذکرہ اک شعر عرض ہے
ان پتھروں کے دور میں جینا محال ہے
ہر سنگ کہہ رہا ہے مجھے دیوتا کہو
یہاں تک تو جو ہوا سو ہوا لیکن خلیل جبران کے مطابق اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ عجیب ہوا۔ ہوا یوں کہ تینوں چارپائے مل گئے۔ آپس میں کچھ دیر خفیہ کھسر پھسر کی، پھر یکایک تینوں مینڈک ’’منصف مینڈک‘‘ کی طرف بڑھنے لگے، باہمی اتفاق کے ’’غیر زریں‘‘ اُصولوں کے تحت اُس کو یکایک پکڑا اور پھر یوں ہوا کہ اُسے دھکا دے کر دریا میں گرا دیا۔
یہ قصہ یہاں پر تمام ہوا۔ آگے کا قصہ ہم ’’حاکموں‘‘ پر مسلط ’’خادموں‘‘ کا شروع ہوتا ہے۔ ویسے ہمیں خبریں سننے یا پڑھنے سے پر ہیز کرنے کا لکھا گیا ہے، ہم ان چیزوں سے عرصہ ہوا دور دور رہتے ہیں لیکن سنی سنائی باتوں سے لگتا ہے کہ اس وقت ’’خادمین‘‘ بھی منصف مینڈک کی طرح گو مگو کی کیفیت میں کئی اداروں کو بہ یک وقت راضی رکھنے کی جدوجہد میں جتے ہوئے ہیں۔ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں، ہمیں اس سے کوئی سرو کار نہیں ’’انگار جانڑے تے لوہار‘‘، لیکن تند و تیز موجوں میں شہتیر پر بیٹھے ہمارے خادم ’’منصف مینڈک‘‘ کے انجام پر غور ضرور کریں۔
جاتے جاتے میاں داد خان سیاحؔ نامی ایک گم نام شاعر کی معروف غزل کے دواشعار سے لطف اندوز کیوں نہ ہوا جائے۔
واعظوں کو نہ کریں منع نصیحت سے کوئی
میں نہ سمجھوں گا کسی طور سے، سمجھانے دو
اور ہمیں جانے دیں، کیوں کہ۔۔۔!
قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو
خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو
1,298 total views, no views today


