محمد وارث سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک علم دوست شاعر ہیں۔ اسد تخلص کرتے ہیں۔ ا ن سے میرا تعارف انٹرنٹ پر موجود ایک ادبی فورم ’’اردو محفل‘‘ پر ہوا، جس کے ہم دونوں ممبر ہیں۔ انھوں نے اردو محفل پر ایک خوب صورت اور با معنی غزل پیش کی ۔ غزل کو پڑھ کر میری رگ مزاح پھڑک اٹھی اور اس غزل کی مزاحیہ تشریح لکھی۔ تشریح کو وارث صاحب کے ساتھ ساتھ اور اراکین اردو محفل نے بھی سراہا۔ ان کی اجازت سے غزل اور تشریح آپ کے ساتھ شریک کر رہی ہوں۔
تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے
دنیائے بے نمو میں پھرایا گیا مجھے
شاعر کہتے ہیں کہ انھیں ’بنانے‘ کی کوشش کی گئی ہے بلکہ شاعر کا تو دعویٰ ہے کہ انھیں بنایا گیا ہے۔ مگر کیا بنایا گیا ہے؟ یہ ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔ بہ ظاہر تو انھیں جھونکا بنایا گیا اور وہ بھی تازہ ہوا کا۔۔۔ مگر یہ بات قرین قیاس نہیں لگتی محض شاعر کا بڑبولا پن لگتا ہے۔ بلکہ میرا خیال تو یہ ہے کہ اس سے شاعر نے ہم کو بنانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ کیا بنانے کی کوشش ہے؟ یہ بات ہم بھی سمجھتے ہیں اور آپ بھی، تو کیوں ذکر کرکے شاعر نام دار کا دل دکھائیں یا انھیں مشتعل کر دیں۔ ایسا نہ ہو کہ وہ غزل کہتے کہتے ہمارا ہجوئے ملیح لکھ مارے۔
دوسرے مصرعے میں شاعر ایک اور دور کی کوڑی لائے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ انھیں دنیا میں پھرایا گیا ہے۔ پھرانے کی کیفیت ہم نہیں پوچھتے کیوں کہ اس میں اندیشۂ نقض امن ہے اور یہ ہمارے ایک یا زائد ہڈیوں کے ٹوٹنے پر متنج ہو سکتا ہے۔ البتہ ہم اس بات پر چرچا ضرور کرنا چاہیں گے کہ یہ دنیا کون سی ہے، جس میں شاعر کو پھرایا گیا ہے۔ یہ بات شاعر نے لکھی تو ہے، مگر گول مول انداز میں۔ کہتے ہیں کہ یہ دنیا بے نمو ہے۔ اب مخمصہ یہ آ پڑا ہے کہ نمو کیا ہے یا کون ہے۔؟ شاعر نے دیدہ ودانستہ نمو پر اعراب نہیں لگائے۔ میرے خیال میں تو یہ نِمو ہے اور ایک ہیروئین کا نام ہے۔ مطلب یہ کہ ہیرو۔۔۔ ارے نہیں، شاعر کو سزا دی گئی ہے کہ انھیں سارے جہان کی سیر تو کرائی گئی ہے مگر اکیلے ہی اکیلے۔ بے چارا شاعر!
میں آنکھ سے گرا تو زمیں کے صدف میں تھا
بہرِ جمالِ عرش اُٹھایا گیا مجھے
ہمارے یہ شاعر بزعم خویش سخن کے بادشاہ ہیں اور استعارات و تشبیہات اور صنعات سخن پر ایسے حاوی ہیں کہ ان کے شعروں میں بس یہی چیزیں ہیں، معنی اور مطلب ان چیزوں کے نیچے دب کر سسک سسک کر جان بحق ہوچکے ہیں۔ اسی قبیل کا یہ شعر بھی ہے۔ آنکھ سے گرنا ، زمین کے صدف میں پہنچنا، بہر جمال عرش میں پہنچنا ۔ یہ اتنے بھاری بھر کم استعارے ہیں کہ غالب کو بھی سمجھ نہ آئیں ، ہم کس کھیت کے مولی ہیں۔ خیر شاعر جب آنکھ سے گرا تو یہ معلوم کرنا ہو گا کہ شاعر آنکھ سے گرے ہیں یا نظروں سے؟ اور اگر گرے ہیں تو کس روپ میں تھے؟ آیا یہ آنسو کے روپ میں تھے یا یہاں محاورۃً گرے ہیں؟ بہر حال یہ بات یقینی ہے کہ گرے تو ہیں۔ یہ بھی معلوم کرنا ہوگا کہ زمین پر بلکہ زمین کے صدف میں گرا تو ان کو کتنی چوٹ آئی؟ اور گرتے ہیں شہ سوار ہی میدان میں۔۔۔ کے مصداق ان کو خفت اٹھانی پڑی کہ نہیں؟ اور کمیں گاہ میں کمینے دوستوں کو دیکھا کہ نہیں۔ جنھوں نے انھیں گرایا تھا۔ یہ سب معلومات حاصل کرنے کے بعد قارئین کے ساتھ شریک کیے جائیں گے۔
دوسرے مصرعے میں صرف یہ وضاحت ہے کہ جمال الدین عرش صاحب جو کہ ہمارے شاعر کے استاد محترم ہیں، نے ان کو ہاتھ اور دلاسا دے کر اٹھا دیا تھا۔ اور ان کی اشک شوئی کی تھی۔
سازش میں کون کون تھا، مجھ کو نہیں ہے علم
مصحف میں اک ہی نام بتایا گیا مجھے
اس شعر میں شاعر کو زمین پر گرانے کی سازش کے بارے میں قیاس آرائی کی گئی ہے۔ ان کو علم تو نہیں کہ سازش میں کون شریک تھا، مگر ان کے مرشد، جس کے شاعر مرید ہیں، نے مصحف میں سے فال نکال کر ایک نام تو بتایا تھا، مگر بوجوہ شاعر نے وہ نام آشکار نہیں کیا۔ شاید اس کا تعلق کسی سیاسی پارٹی سے تھا جو ان کاموں کے لیے مشہور ہے یا شاید ان کا کوئی قریبی دوست تھا یا شاید نمو تھی، واللہ اعلم۔
بخشی گئی بہشت مجھے کس حساب میں
دوزخ میں کس بنا پہ جلایا گیا مجھے
یہ شعر بھی پچھلے شعروں کا تسلسل ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چوٹ کا ان کے دماغ پر کافی اثر پڑا ہے۔ یا شاید ان کو گرائے جانے کا صدمہ ہے۔ کبھی ہنستے ہیں تو کبھی روتے ہیں۔ رات کو ڈراؤنے خواب آتے ہیں جن میں کبھی ان کو لگتا ہے کہ جنت کے درازے پر رضوان سے لڑائی کر رہے ہیں کہ ایسے ہی جنت میں جانے والا نہیں، پہلے حساب کتاب ہو جائے۔۔۔ یہ تو ان شاعروں میں سے ہیں کہ غالبؔ کی طرح کعبے کا در وا نہ ہونے پر الٹے پیر واپس آتے ہیں۔ رضوان کے ساتھ تکرار اتنی بڑھتی ہے کہ مجبوراً انھیں دوزخ لے جایا جاتا ہے۔ وہاں بھی یہ تکرار کہ کس بنا جلا گیا مجھے۔ حالاں کہ جلانے کی نوبت آئی ہی نہیں۔ خیر آپ کی طرح میری بھی ہمدردیاں شاعر کے ساتھ ہیں۔
چیخا کبھی جو دہر کے ظلم و ستم پہ میں
قسمت کی لوری دے کے سلایا گیا مجھے
یہاں شاعر کو یہ گمان ہے کہ ان کو گرانے کی سازش میں سارا زمانہ قصور وار ہے۔ یہاں یہ بھی زیادتی کر رہے کہ صرف گرنے کو۔۔۔یا گرانے کے ایک واقعے کو ظلم و ستم کہہ رہے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں شاعرانہ مبالغہ اور غلوئے بے جا۔ ان ہی مبالغوں سے تنگ آکر راستہ چلتے ٹانگ اڑا کر ان کو گرا کر ان سے شعر و شاعری کا بدلہ لیا گیا ہے۔
دوسرے مصرعے میں دلاسہ دینے کو لوری سے تشبیہِ قبیح دے رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ شاعر کو جناب آسی(اردو محفل کے رکن، ٹیکسلا سے تعلق رکھنے والے کہنہ مشق شاعر) سے شعر گوئی کی کلاسیں لینی پڑیں گی۔ اور اگر انھوں نے ہامی بھری تو مجھے یقین واثق ہے کہ خوب کلاس لیں گے ان صاحب کی۔
تسخیرِ کائنات کا تھا مرحلہ اسد
یونہی نہیں یہ علم سکھایا گیا مجھے
اس شعر سے پتا چلتا ہے کہ واقعی انھوں نے شاعرِ محفل سے شعر گوئی کی کلاس لی تھی اور کچھ نہ کچھ سیکھ پائے۔ ان سے چند اسباق پڑھے اور انھیں یہ گمان ہوا کہ میں تو اب شاعرِ روزگار بن گیا اور بزعم خود شاعری کے فن کو تسخیر کائنات کا آلہ سمجھ لیا ، شعر گوئی نہ ہوئی ایسٹرونومی ہو گیا۔ لا حول ولا۔گ
1,844 total views, no views today


