سوات، آل پرائمری ٹیچرز ایسو سی ایشن صوبہ خیبر پختونخوا کے صدر ملک خالد خان نے کہا ہے کہ اگر صوبائی حکومت نے پرائمری اساتذہ کے جائز مطالبات حل نہیں کئے تو انشاء اللہ ستمبر میں احتجاجی تحریک شروع کریں گے ، متعلقہ حکام بعض اضلاع میں سروس رولز 2012 کے مطابق پروموشن دینے میں جان بوجھ کر ٹال مٹول کررہی ہے جسکی وجہ سے پرائمری اساتذہ تشویش میں مبتلاہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے فضاگٹ کے ایک مقامی ہوٹل میں ایپٹا کے صوبائی عہدیداروں ، تمام ضلعی صدور،جنرل سیکرٹری کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا
، اجلاس سے سپریم کونسل کے چیئرمین شاہ بابا ، صوبائی جنرل سیکرٹری بادشاہ محمود ، شفیق احمد ، جہانزیب خان ، فضل الٰہی ، عرفان اللہ ، پشاور کے صدر عزیز اللہ خان ، سوات کے صدر سکندر شاہ باچا ، جنرل سیکرٹری علی روئیدادخان اور دیگر نے بھی خطاب کیا ، اجلاس میں 120 عہدیداروں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایک سکول میں ایک سے زائد سکولوں کو اپس میں ضم کرکے بی پی ایس 15 کے سینکڑوں اساتذہ کے مستقبل کو داؤ پر لگا یا گیا ہے یہ ظالمانہ فیصلے واپس لیا جائے ، ایک سکول میں ایک بی پی ایس 15 کا مشروط فیصلہ بھی واپس لیا جائے ، انہوں نے کہا کہ ہم بہت جلد اپنے جائز مسائل کے حل کے لئے ایک جرگہ کا انعقاد کریں گے جس میں وزیراعلیٰ پرویز خٹک ، صوبائی وزیر تعلیم اور دیگر اعلیٰ حکا م کو دعوت دینگے اگر پھر بھی ہمارے جائز مطالبات حل نہیں کئے گئے تو ستمبر میں احتجاجی تحریک شروع کریں گے ۔
581 total views, no views today


