مذہبی اتحاد اور اتفاق بین المسلمین وقت کا تقاضا اور مسلمانوں کے نشاۃِ ثانیہ کے لئے ضروری ہے۔ اس کا مقصد اگر ایک طرف سیکولر اور لبرل بیانیوں کا جواب ہوگا، تو دوسری طرف مسلمانوں کا ایک قرآن کے علاوہ دستاویزات پر بھی متفق ہونا ہے۔ مسلمانوں کی رجعت پسندانہ خیالات کی وجہ اس نے حالات کا ادراک تقریباً چھوڑ دیا ہوا ہے۔ اس لئے تو جدید سائنس اسے شیطانیت لگتی ہے۔ مذہبی رواداری اور مذہبی اتفاق ایک سراب کا خیال لگتا ہے۔ علما کے علاوہ دانشور اور فلسفیوں سے اتفاق کے لیے مواد لیا جاسکتا ہے۔ رویوں میں لچک ہی سے یہ ناممکنات ممکن ہوسکتے ہیں۔ قرآن کریم پہلے ہی سے تمام فرقوں میں متفق علیہ ہے۔تمام فرقوں کا قرآن پر متفق ہونا اس اتفاق کو مزید پختہ تر کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اسلامی ممالک اس میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ دین میں تفرقہ بندی شرک کے مماثل ہے لیکن درحقیقت جذبہ محرکہ نہ ہونے کے سبب ہر ایک اپنا راگ الاپ رہا ہے۔کسی کو کوئی غلط بھی نہیں بول سکتا کہ اس کے پاس اپنے حق میں دلائل کے انبار ہوتے ہیں۔ اس طرح اس گتھی کو سلجھانے کے لیے سالوں درکار ہوتے ہیں۔ اگر سال نہیں، تو مہینے تو لازمی بات ہیں۔ ان حالات میں، مَیں سمجھتا ہوں جتنا جلد یہ اتحا د ممکن ہوتا ہے، اس کے دور رس فوائد آنے والی نسلیں اٹھا سکیں گی۔ رہی بات سیکولر اور لبرل نظریات کی، تو اس کے ساتھ تعقل پسندی کے مطابق مواد ہاتھ آسکتا ہے۔ جتنا نقصان اٹھانا تھا، وہ ہم نے اٹھا لیا۔ اب ہم کو ہوش کے ناخون لینا ہوں گے۔ ہمیں نیم خوابیدہ زندگی سے نکلنا ہوگا۔دانشوروں اور علما کا ا س میں کردار بہت زیادہ ہوگا، اس کے لیے پلیٹ فارم ریاستی ڈھانچے میں بن سکتا ہے، تو کوئی ایک فرقہ بھی یہ کام بخوبی کرسکتا ہے۔ مہذہبی رواداری کاایک وفاقی ادارہ بھی موجود ہے۔ اس طرح ریاست بھی اس کام کو سہل بنا سکتی ہے۔ اگر ایک خدا، ایک رسولؐ اور ایک قرآن ہے، تو کیوں ہم کچھ باتوں پر ایک دوسرے کے ساتھ متفق نہیں ہوسکتے ہیں۔ مدارس میں اس پر سوچ و بچار کرکے ایک متفقہ نصاب کے لیے کوشش اس کام کو مزید آسان اور سہل بنا سکتی ہے۔ تمام فرقوں سے اپنے نصاب کے لیے تجاویز لینا بھی سود مند ہوگا۔ ریاستی سر کردگی میں اس کے لیے نیا محکمہ بنا نا ضروری ہے۔
بہت سے مسلمان دانشوروں جیسے ابنِ رشد، ابنِ سینا ، البیرونی، ابنِ مسکویہ وغیرہ نے سائنسی اور فلسفی تحقیقات کی ہیں، لیکن ان پر بھی کفر کے فتوے لگائے گئے۔ جمال الدین افغانی، سرسید، مولوی ذکاء الدین وغیرہ ماضیِ قریب کی کہانی ہیں۔ بلاشبہ ان سب میں سر علامہ اقبال کی اپنی ایک جداگانہ حیثیت ہے۔ درحقیقت وہ ایک بلند پایہ شاعر تھے۔ اس کی فکر کلی طور پرمذہبی تھی۔ مسلمانوں کے زوال پر گہری نظری رکھے ہوئے تھے۔ علامہ اقبال کو ہم سیکولر مفکر نہیں کہہ سکتے اور اس کی اصل وجہ ہی یہ ہے کہ اس نے مذہبی تعلیمات کو جدید پیرایہ میں پرونے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔اس کا Reconstruction of Islamic Thoughts in Islam اور The Development of Metaphysics in Persia کتابیں اس بات کی شاہد ہیں۔ اقبال نے برملا یہ کوشش کی ہے کہ مغربی فلسفہ اور جدید سائنس کو خود پڑھ کر اسلام اور قرآن کے تناظر میں پرکھا جائے اور مسلمانوں میں رواج دیا جائے، تاکہ مسلمان جدید علوم سے آشنا ہوجائیں۔ اقبال کی نظر میں علم سے مراد وہ علم ہے جس کا دار و مدار حواس خمسہ پر ہو۔ عام طور پر اقبال نے علم کو انہی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے مغربی مفکرین اور حکمرانوں کے بے بنیاد پروپیگنڈے کے خلاف ان حالات میں واقفیت پید اکرنا چاہیے اور ان کا مؤثر جواب دیا جانا چاہیے۔ قرآن اور اسلام کے بنیادی تصورِ امن پربیانیہ مرتب کردینا چاہیے۔ باہمی اختلافات کو مٹانے کے لیے ایک دوسرے کی رائے کو احترام دیا جانا چاہیے۔ مکالمہ، غور اور تحقیق کو رواج دیا جانا چاہیے۔اس طرح ہی ممکن ہے کہ کسی نتیجے پر پہنچا جائے۔ دین کو قرآن کی شکل میں محفوظ کردیا گیا ہے ۔دنیا میں 54 نام نہاداسلامی ممالک ہیں اور ان کا کیا حال ہے؟ وہ ہم سب کو پتا ہے۔کہیں اور کسی بھی جگہ قانون و شریعت نافذ نہیں ہے۔ مغربی ممالک کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے ان ممالک میں ایک کہرام برپا ہے۔ ہر جگہ قتل و غارت اور وسائل لوٹنے کا بازار گرم ہے۔ہمارا خون ارزاں ہوچکا ہے۔ بد قسمتی، بے حسی، دہشت گردی، مذہبی جنونیت اور فرقہ بندی ہمار مقدر بن چکی ہے۔ اب سوچا جانا چاہئے کہ آگے کیا ہوگا ؟
میں سمجھتا ہوں کہ دین کو عملاً نافذ کیا جانا چاہیے۔حق اور باطل میں کوئی درمیانی راستہ نہیں ہے۔ دین اپنی اساس میں جدید سے قدیم اور قدیم سے جدید ہوتا ہے۔ انتشار اور افراتفری کا اسلام اور قرآن سے دور کا واسطہ نہیں ہوتا ۔ اسلام دیگر پیغمبروں کی شریعتوں کا تسلسل ہے۔قرآن کے آنے کے بعد وحی کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔ دین کے رو سے حزب اللہ اور حزب الشیطان کی درجہ بندیاں ہوچکی ہیں۔
اسلام کیا نظام دیتا ہے؟ کیا اہداف اور ترجیحات متعین ہوتی ہیں؟ یہ امت کے افراد باہمی صلاح و مشورے سے طے کریں گے۔ اس عمل کا اہل کون ہوگا؟ ہر متقی، اہلِ علم اور باصلاحیت افراد دین کی تفہیم کرتے ہوئے نظام کے ستونوں کا جائزہ پیش کریں گے۔ امت کے خادم یہی لوگ تصور کیے جائیں گے۔امت کے اتفاق، اتحاد اور یگانگت کے لیے صلاح و مشاورت کریں گے۔ دین کو عملاً نافذ کرنے کے لیے حکومتِ وقت کو افہام و تفہیم سے کام لینا ہوگا۔
تقلیداوراختلاف کے لیے سائنسی پیمانے، سماجی اور معاشرتی میدان میں نئے اختراعات اور تجربات کے لیے نئے اصول وضع کرنے ہوں گے۔ جدید فقہ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ قدما اور سلف صالحین ہمارے لئے صد قابل احترام ہیں۔ اُن کی امت کے لیے کافی خدمات ہیں۔ اس لیے اُن کے ثابت شدہ سائنسی اورعلمی تحقیقاتی کام سے استفادہ ہمارے لیے اہم امور میں سے ہے۔
2,120 total views, no views today



