پانی کی اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کیونکہ اس کے بغیرکسی بھی ذی روح کا زندہ رہنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے مگرافسوس کہ اہل سوات کیلئے زندہ رہنے کیلئے یہ ضروری بھی ناپید ہونے لگی ہے ، بجلی لوڈشیڈنگ اورکم وولٹیج کی وجہ سے مینگورہ شہر میں پانی کابحران شدیدہوگیااورعلاقہ میدان کربلا کا منظرپیش کرنے لگا،پینے کاپانی آب حیات بن گیا اورلوگ دیگرکام کاج چھوڑکر پانی کی تلاش میں سرگرداں نظر آنے لگے ہیں اورساتھ ساتھ حکومت اورمحکمہ واپڈاکو دہائیاں بھی دے رہے ہیں،سوات میں بجلی کی گھنٹوں گھنٹوں اورناروالوڈ شیڈنگ کی وجہ سے اگر ایک طرف دیگر مشکلات پیداہوگئی ہیں تو دوسری طرف اس صورتحال کے سبب مینگورہ شہر کی پینسٹھ یونین کونسلوں میں موجود تمام تر ٹیوب ویل بھی رک گئے ہیں جس کے نتیجے میں پانی کے بحران نے سراٹھالیا ہے،اس حوالے سے مختلف علاقوں کے لوگوں کی جانب سے شدیدردعمل سامنے آرہاہے،ان کاکہناتھا کہ سوات واحدعلاقہ جہاں کے لوگ ہر ماہ بڑی پابندی اورباقاعدگی کے ساتھ بجلی کے بھاری بھاری بل جمع کراتے ہیں مگر اس کے باوجود بھی محکمہ واپڈااس علاقہ کو مسلسل نشانہ بنا رہاہے یہاں پر لوڈشیڈنگ کا کوئی شیڈول موجود نہیں بلکہ واپڈاوالے جب چاہئے بجلی بندکردیتے ہیں ،اس وقت سوات بھر میں اٹھارہ گھنٹے سے زیادہ لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کا کاروبار مکمل طورپر تبا ہ ہوگیااوروہ دووقت کی روٹی کیلئے ترستے نظر آنے لگے ہیں جبکہ دوسری طرف بجلی کی مسلسل بند ش سے یہاں کے تمام ٹیوب ویل بند ہوگئے ہیں جس کے باعث پانی کی قلت نے سراٹھاکر عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کردیاہے،عوام دیگرکام کاج چھوڑ کر پانی کی تلاش میں سرگرداں پھررہے ہیں ،بعض لوگ کرایہ پر گاڑی حاصل کرکے دریائے سوات سے پانی لانے پر مجبورہیں جبکہ دیگرلوگ دوردرازکے علاقوں میں موجود قدرتی چشموں اورکنوؤں سے پانی لارہے ہیں،پانی کی قلت کی وجہ سے گھریلوصارفین اوربازاروں میں کاروبار کرنے والوں کو بھی شدیدپریشانی کا سامنا ہے جبکہ مساجد میں وضو کیلئے بھی پانی موجود نہیں اس صورتحال کی وجہ سے عوام سخت ذہنی پریشانی میں مبتلا ہیں مگر حکومت اورمحکمہ واپڈاکو عوام کی پریشانی کا ذرہ بھر احساس نہیں، لوڈشیڈنگ ،کم وولٹیج اورپانی بحران کے سبب مینگورہ شہر سمیت دیگرعلاقے میدان کربلا کامنظر پیش کررہے ہیں،باربار اپیلو ں اورمطالبات کے باوجود بھی حکام خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ،بجلی لوڈشیڈنگ کے خلاف مختلف اوقات میں عوام نے احتجاجی مظاہرے بھی کئے مگر ذمہ داروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اوروہ ائرکنڈیشنرکمروں اوردفاتر میں میں بیٹھ کر عوام کی بے بسی کا تماشا دیکھ رہے ہیں،لوڈشیڈنگ کی شکل میں جاری ظلم کے خلاف کوئی خودسوزی تو کوئی خودکشی کی دھمکیاں دے رہا ہے مگرحکومت ان کی دادرسی کرنے کی بجائے اس صورتحال سے لطف اندوزہورہی ہے ،
صوبہ بھی خاموش مرکز بھی خاموش ،سستے انصاف کی فراہمی کا نعرہ لے کراقتدارمیں آنے والوں کاانصاف بھی عوام نے دیکھ رہے ہیں ،دوسری جانب لون دینے کا واویلامچانے والوں نے قوم کو قرض تلے دبادیا اور اب اس پر مٹی کاانبارلگانے کیلئے پاپڑبیل رہے ہیں،بجلی غائب،پانی غائب،مہنگائی ،بے روزگاری کا سیلاب ،قدم قدم مسائل ومشکلات کے ڈھیرمگر عوام پھر بھی مایوس نہیں اس امید پر کہ کسی نہ کسی موڑپرانہیں کوئی مسیحا ملے گاجو ان کی تکالیف کا مداواکرے گا،
حکام کی بے حسی اورعوام کی بے بسی کے اس عالم نے دنیاکوانگشت بدنداں کردیا ہے مگر نہ تو حکام کی بے حسی ختم ہورہی ہے اور نہ ہی عوام کی بے بسی ختم ہونے کا نام لے رہی ہے نجانے آگے جاکر اس قوم کا کیا بنے گا۔۔؟ بیشک حکومت کی بند آنکھیں اسی طرح بندرہیں مگر عوام اس کے مظالم کے خلاف اپنااحتجاج اوراہل قلم صفحات سیاہ کرنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رکھیں گے اس امید پر کہ کسی دن تو حکومت کی یہ بند آنکھیں کھل جائیں گی۔
920 total views, no views today


