بریکوٹ ، ایک سروے رپورٹ کے دوران یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ بریکوٹ ضلع سوات کا مین گیٹ وے اور خوبصورت علاقہ ہے ،جوکہ کئی صدیوں سے بازیرہ کے نام سے مشہور تھا ۔یہاں پر بُدمت اثرات بھی موجود ہے ،اور تمام ذمہ دار اس گیٹ وے پر صبح وشام گزرتے جاتے ہیں ،لیکن ذمہ دار وں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ،کیونکہ یہ خوبصورت علاقہ ذمہ داروں کی عدم توجہ کے باعث مختلیف مسائل کا شکار ہے جس سے رہائشی عوام کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔
سب سے پہلے سوئی گیس جسے اچھے نعمت نے سر اٹھالیا ہے،جوکہ کئی سالوں سے مختلیف سیاسی قائدین نے افتتاح کرچکے ہیں ،لیکن بریکوٹ کے بدقسمت عوام سوئی گیس کے لئے تھکتے تھکتے انتظار کررہے ہیں،اگر سوئی گیس کا مسئلہ حل کیا جائے تو اس قیمتی جنگلات بھی بچ سکتے ہیں ،اور عوام کوبھی سکھ کاسانس میلنگے۔
اسطرح صحت کے حوالے سے رورل ہیلتھ سنٹر بریکوٹ پر نظر ڈالے تو دل بھی آنسو بھر سائیگی ،والی سوات کے زمانے میں تعمیر کیا گیا سول ہسپتال جوکہ مین شاہراہ پر واقع ہے ،ہسپتال ھذا بریکوٹ کاسب سے بڑا اور اکلوتا ہسپتال ہے ،جب کوئی حادثہ پیش ائے تو مریضوں کو پہلے یہاں لے جانا پڑتا ہے لیکن بد قسمتی کے باعث ہسپتال ہذا مسائل کے لپیٹ میں ہیں ،ایمرجنسی وارڈ نہ ہونے کی وجہ سے مریض کھلے اسمان تلے بے یارو مدد گار تڑھپتے تڑ ھپتے رہتے ہیں ،اسلئے ایمرجنسی وارڈ لازمی قرار دیا جائیں ،تاکہ عوام اپنے حادثاتی مریضوں کو سیدو شریف لے جانے پر مجبور نہ ہو کیونکہ اکثر اوقات حادثاتی مریض بروقت امداد حاصل نہ کرنے کی وجہ سے راستے میں دم توڑتے ہیں ۔
اسطرح اگر بجلی کے مسلئے پر نظر ڈالیں تو محکمہ واپڈا نے تحصیل بریکوٹ کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا ہے ۔ایک طرف عوام ٹرانسفرمرں کے حصول کے لئے باگتے جارہے ہیں اور دوسرے طرف محکمہ واپڈا بیس گھنٹے لوڈشیڈنگ کرکے عوام کو عذاب میں مبتلا کرتے ہیں ۔بریکوٹ کے آبادی جس میں محلہ گل آباد ، محلہ تحصیل،محلہ فضل آباد وغیرہ شامل ہیں ،تقریبا بیس ہزار لگ بھگ آبادی بتایا جاتا ہے ،یہا ں پر والی سوات کے زمانے سے مختلیف ٹرانسفرمرز لگے ہوئے ہیں لیکن اس کے بعد کسی بھی حکمران نے یہاں ٹرانسفرمر لگانے کی زحمت نہیں کئے ہیں ،اگر موجودہ حکمران احساس کرکے بریکوٹ میں مختلیف جگہوں پریعنی چینوگان ،محلہ تحصیل، وغیرہ میں ٹرانسفرمروں کا تنصیب کیا جائیں تو کافی حد تک مسئلہ حل ہوجاتا ہیں ۔لوڈشیڈنگ کے باعث کاروباری سرگرمیا ں بُر ی طرح متاثر ہیں ،لہذا لوڈشیڈنگ کا سلسلہ قابو کرایا جائیں اور شیڈول کیساتھ عوام کو ریلیف دیا جائیں ۔اس تاریخی علاقہ کے لئے کھنڈڑ نما سڑکیں پہچان بن چکا ہے ،جب کوئی بھی سڑک پر گزر جاتاہے تو اس کے خیال میں آتا ہے کہ بریکوٹ اگیا ہے ،سڑکوں کے وسط میں بڑے بڑے کے باعث لوگ مینٹوں کا راستہ گھنٹوں میں طے کرتا ہے ،اور اسطرح گھنٹوں میں ٹریفک میں خلل پیدا ہوجاتا ہیں ،سڑکوں پر چلنے پھیرنے والے گاڑیاں روزانہ ورکشاپس کی حاضری دیتے ہیں ۔لہذا امر اس بات کی ہے کہ ہمارے ممبران اسمبلی اپنے اپنے حلقوں کے مسائل پر نظر رکھے اور خصوصی کرکے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کریں ،کیونکہ بریکوٹ دیگر علاقوں کے نسبت پر بہت پسماندہ رہ چکا ہے ۔آج کل عوام کو موجود ممبران اسمبلی سے بہت توقعات وابستہ ہے ،ممبران اسمبلی کو چایئے کہ عوام کو مایوسی کا موقع نہیں دیا جائیں ۔ خصوصی رپورٹ :عبید فضل
482 total views, no views today


