سوات اور اہل سوات کی کوئی ایک بدقسمتی نہیں جس پر قلم اٹھایا جائے۔ نام نہاد طالبانائزیشن کے بعد سوات لامتناہی مسائل اور مشکلات کا شکار چلا آ رہا ہے۔ فوجی آپریشنوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد اہل سوات کے ساتھ برسر اقتدار جمہوری حکومتوں اور پاک فوج نے وعدہ کیا تھا کہ اہل سوات کی بہ حالی اور علاقے کی تعمیرِ نو ترجیحی بنیادوں پر کی جائے گی لیکن سب جانتے ہیں کہ تعمیر نو اور بہ حالی کے نام پر جو رقوم قومی بجٹ میں مختص کی گئی تھیں اور جو امداد بیرون ممالک سے آئی تھی، اس کا بیشتر حصہ تعمیر نو اور بہ حالی کے دعوے داروں کی ذاتی جیبوں میں چلا گیا ہے۔ سوات کی سڑکیں ویسے کی ویسے تباہ حال ہیں۔ تباہ شدہ تعلیمی اداروں میں ابھی تک بہت سے تعمیر نو اور مرمت کے منتظر ہیں۔ سوات بھر میں تباہ ہونے والے پلوں پر تعمیراتی کام بعض طاقت و ر حلقوں کے ایما پر غیر ضروری اور دانستہ تاخیر کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ جس کی بڑی مثال کانجو پل ہے جس نے پنچ سالہ منصوبے کو بھی مات دے دی ہے۔ امن و امان کی صورت حال کو بھی تسلی بخش قرار نہیں دیا جاسکتا کہ جب تک ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری رہے گا، سوات میں کامیاب فوجی آپریشن پر انگلیاں اٹھتی رہیں گی۔
یہ تو وہ مسائل ہیں جن کے حل کے لیے متعلقہ حکام دعوے کرتے رہتے ہیں اور ان کا حل اے این پی کی پانچ سالہ صوبائی حکومت میں بھی نہیں نکل سکا تھا اور اب پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے بھی ان مسائل پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ صوبہ خیبرپختون خوا بالعموم اور اہل سوات کا خصوصاً یہ خیال تھا کہ اگر عمران خان کی تحریک انصاف صوبہ خیبر پختون خوا میں برسر اقتدار آگئی، تو اس کے نتیجے میں سوات اور اہل سوات کی تمام محرومیوں کا ازالہ کیا جائے گا، لیکن پی ٹی آئی کی حکومت کو ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن سوات کے مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔
عمران خان کی پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت میں اس وقت سوات بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کا شکار ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ کم وولٹیج کی وجہ سے ہر روز کسی نہ کسی علاقے کا ٹرانسفارمر ناکارہ ہوجاتاہے اور پھر اس کی مرمت کے لیے علاقے کے لوگ چندہ جمع کرتے ہیں اور واپڈا کے حکام کی خدمت میں چندہ سے جمع کی جانے والی رقم پیش کرکے اس کی مرمت ممکن بنادیتے ہیں۔ دوسری طرف بجلی کے بلوں میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی ہے اور بجلی کی عدم موجودگی کے باوجود صارفین بھاری بل جمع کرانے پر مجبور ہیں۔ اس ناگفتہ بہ صورتِ حال کے پیش نظر متاثرہ علاقے کے لوگ جب اپنا دکھڑا سنانے مقامی ایم پی اے فضل حکیم کے پاس چلے جاتے ہیں تو وہ خود متاثرین کے ساتھ رونا شروع کردیتے ہیں کہ یہ وفاقی حکومت کی سازش ہے اور وہ ناجائز لو ڈ شیڈنگ کے ذریعے ہماری صوبائی حکومت کو بدنام کرنا چاہتی ہے۔ جناب فضل حکیم ایم پی اے صاحب متاثرہ لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ محکمہ واپڈا کے خلاف احتجاج کریں اور اس احتجاج میں وہ خود بھی عوام کے ساتھ شریک ہوں گے۔ اس سلسلہ میں گزشتہ دنوں انھوں نے سوات پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’سوات میں ناروا لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے مختلف قسم کے مسائل اور مشکلات جنم لے رہے ہیں اور اب تو عوام اس صورت حال کے ذمہ دار ہمیں ٹھہرا رہے ہیں۔ لوگ مظاہرے اور جلسے جلوس کر رہے ہیں مگر واپڈ کی جانب سے خاموشی چھائی ہوئی ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’مینگورہ شہر میں زیادہ لوڈ کی وجہ سے ٹرانسفارمر جلنے کا سلسلہ جاری ہے مگر واپڈا کے پاس کسی قسم کا متبادل انتظام موجود نہیں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’وہ جلد ہی اپنے کارکنوں سمیت احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کریں گے اور اگر اس دوران میں کوئی نقصان ہوا، تو اس کی تمام تر ذمہ داری واپڈا حکام پر عائد ہوگی۔‘‘
ہمارے ایم پی اے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے جس راستے کا انتخاب کر رہے ہیں، وہ درست نہیں۔ سوات کی سات صوبائی اسمبلی کی سیٹوں میں سے چھے پر پی ٹی آئی کے امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔ دو قومی اسمبلی کی سیٹ ہیں اور دونوں پر ہی پی ٹی آئی کے ممبران کامیابی کا پھل کھا رہے ہیں لیکن عوام کو محض وعدوں اور خوش کن نعروں پر ٹرخا یا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے وعدہ کیا تھاکہ وہ صوبہ خیبر پختون خوا کو ایک ماڈل صوبہ بنا ئیں گے لیکن آج وہ وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں مصروف ہیں۔ انھیں اپنی صوبائی حکومت کی کارکردگی سے کوئی غرض نہیں۔ صوبے کے عوام کن مسائل کے شکار چلے آ رہے ہیں، انھیں اس کی بھی کوئی پروا نہیں۔
کیا اہل سوات اور خیبرپختون خوا کے عوام نے عمران خان پر اس لیے اعتماد کیا تھاکہ وہ پختونوں کے مسائل حل کرنے کی بجائے اپنے سیاسی مفادات اور وفاقی حکومت کی کارکردگی کو کم تر ثابت کرنے کے لیے اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور جلسے جلوس کریں گے؟
عمران خان! آپ پختونوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں۔ وہ اگر آپ کو کامیاب کراسکتے ہیں، تو آپ کو مسترد بھی کرسکتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ آپ احتجاجی مظاہروں کو چھوڑ دیں او ر صوبہ خیبر پختون خوا اور سوات جیسے آفت زدہ علاقے کی تعمیر و ترقی پر توجہ دیں۔ وزیرستان کے خانماں برباد عوام کی دست گیری کریں۔ عوام آپ کی کارکردگی کا جائزہ آپ کے بے مقصد احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے نہیں بلکہ آپ کی صوبے کی تعمیر و ترقی اور امن و امان کی بہ حالی کے لیے کی جانے والی عملی خدمات کو مدنظر رکھ کر لیں گے۔
اگر آئندہ عام انتخابات میں آپ کے نامۂ اعمال میں احتجاجی مظاہروں کے علاوہ عوامی خدمت کا کوئی غیرمعمولی کارنامہ نہ ہوگا، تو آپ کا حشر دوسرے مفاد پرست اور نااہل سیاست دانوں سے بھی زیادہ برا ہوگا۔
عمران خان نے سوات میں جن لوگوں کو عوامی نمائندوں کی صورت میں ہم پر مسلط کیاہے، وہ نااہل ہی نہیں اس قوم کے مجرم بھی ہیں۔ وہ سوات اور اہل سوات کے معمولی مسائل حل کرنے میں بھی بری طرح ناکام ہیں، اس لیے ان سے سوات کے بڑے مسائل حل کرنے کی بھی کوئی امید نہیں۔ فضل حکیم صاحب اپنی نااہلی کا الزام کسی دوسرے پر نہ لگائیں، اگر وفاقی حکومت آپ کے خلاف کوئی سازش کر رہی ہے، تو اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ قانون اور آئین کا راستہ اختیار کریں۔ سوات کے تمام ممبران مل کر صوبائی اسمبلی میں قرار داد لائیں۔سوات کے قومی اسمبلی کے ممبران اسمبلی کے فلور پر آواز بلند کریں اور تحریک انصاف کے چیئرمین کو بتائیں کہ انتخابات میں دھاندلی کا قصہ اب چھوڑ دیں۔
پھر بھی اگر کپتان صاحب کو احتجاجی مظاہروں اور جلسے جلوسوں کا اتنا ہی شوق ہے، تو وہ وفاقی حکومت سے وابستہ عوامی مسائل کے حل کے لیے صدائے احتجاج بلند کریں۔ آپ لوگوں نے عوام کو سہانے خواب دِکھا کر دھوکے سے ووٹ تو حاصل کرلیے لیکن یاد رکھیے، عوام اچھے برے کی تمیز اچھی طرح سے کرسکتے ہیں، وہ آئندہ عام انتخابات میں آپ لوگوں کا بھی سخت احتساب کریں گے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
766 total views, no views today


