سوات،سیرینہ ایمپلائزیونین کا ہوٹل انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ونعرہ بازی،ماہ رمضان میں مزدوروں کو بلاوجہ نکالنا سراسرظلم ہے،منیجراورسکیورٹی سپروائزکے خلاف فوری تحقیقات اوربرطرف ملازمین کی بحالی کا مطالبہ،جائز مطالبات منظورنہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کی دھمکی دے دی،گذشتہ روز سیرینہ ایمپلائزیونین سی بی اے
کے عہدیداروممبران نے ہوٹل انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اورپلے کارڈوبینرزاٹھائے نعرے لگاتے ہوئے سوات پریس کلب کے سامنے پہنچ گئے جہاں پراظہارخیال کرتے ہوئے یونین کے صدرعبدالسلام،جنرل سیکرٹری اکرام اللہ ،نائب صدرسلطان خان اوردیگر نے کہاکہ سیرینہ انتظامیہ نے رمضان کے بابرکت مہینے میں ہمارے دوساتھیوں کو بلاجوازبرطرف کردیا ہے حالانکہ ان ملازمین کو یہاں پر خدمات دیتے ہوئے تین سال ہوگئے اور اس عرصہ میں ان کی کارکردگی بھی کافی مثالی اوربہتررہی مگرانتظامیہ نے انہیں نکال کر دیگرملازمین میں بھی تشویش اوربے چینی پھیلا دی اورانہیں پریشانی میں مبتلا کردیا ہے کیونکہ اس طرح کے ظالمانہ اقدامات مزدوروں کے معاشی قتل کے مترادف ہیں جوکسی بھی صورت برداشت نہیں کئے جائیں گے،انہوں نے کہاکہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہونے والے اس ظلم کے خلاف ہم نے لیبرڈپارٹمنٹ کو درخواستیں بھی دی ہیں جبکہ انصاف نہ ملنے کی صورت میں دیگراعلیٰ حکام کو بھی آگا ہ کریں گے، انہوں نے کہاکہ سیرنیہ انتظامیہ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ادارہ تباہ ہورہاہے ،کئی افیسروں نے من مانیوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے مگر انہیں روکنے والا کوئی نہیں ،انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے برطرف ہونے والے دونوں ساتھیوں کو فوری طورپربحال کرنے سمیت منیجرسلمان اورسکیورٹی سپروائزراحسان الحق کا احتساب کیا جائے ،انہوں نے کہاکہ جائزمطالبات منظور نہ ہوئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبورہوجائیں گے،اس موقع پر انہوں نے وزیراعلیٰ پرویزخٹک اورصوبائی حکومت سے بھی اس سلسلے میں اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ،مظاہرہ میں خضرحیات،عبداللہ اوریونین کے دیگرعہدیداروممبران بھی موجود تھے۔
531 total views, no views today


