بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج نے دہشت گرد ی اور پر تشدد انتہا پسندی کے خلاف بھرپور جنگ کی ہے ۔انہوں نے جرمنی میں میونخ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے اخراجات 250 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں اور در حقیقت ان اخراجات کا معمولی حصہ ہی ہمارے عالمی شراکت داروں نے ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 35 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے اس جنگ میں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ دیا ہے۔ بری فوج کے سربراہ نے کہاکہ وہ فخر اور وثوق سے یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ ہماری سرحد کے اندر دہشتگردوں کے کوئی منظم ٹھکانے موجود نہیں ہیں۔تاہم انہوں نے کہاکہ دہشت گردوں کی مختلف صورتوں میں موجودگی خارج ازامکان قرار نہیں دی جاسکتی اور ان کے فعال اور سلیپر سیلز موجود ہیں اور یہ دہشتگرد پہاڑوں، سرحدی قصبوں اور پناہ گزینوں کے 54 کیمپوں اور بعض بڑے شہروں اور قصبوں میں روپوش ہیں۔افغانستان میں دہشتگردوں کی موجودگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد پر باڑ لگائی تاہم دہشتگردی کے خاتمے کیلئے عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانے ہیں جہاں سے پاکستان کے خلاف حملے اور ان کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ گزشتہ سال ہمارے سرحدی علاقوں میں ایک سو اکتیس دہشتگردی کے حملوں میں سے ایک سو تئیس کی منصوبہ بندی افغانستان سے کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس عالمی اتفاق رائے پر مکمل عملدرآمد کا تہیہ کررکھا ہے کہ افغان مسئلے کا واحد حل سیاسی مفاہمت ہے۔قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان میں تیس لاکھ افغان مہاجرین آباد ہیں اور اب ان کی اپنے وطن واپسی کا وقت آگیا ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ الزام تراشیوں کی بجائے اب وقت کا تقاضا ہے کہ نیٹو اور اس کے اتحادی آڈٹ کریں اور اس تعطل کی وجوہات تلاش کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ اور فوجی آپریشن کئے اور حکومت اور تمام فریقوں نے قومی لائحہ عمل تیار کیا جس کا مقصد دہشتگردی کے خلاف جنگ اور انتہا پسندی کا بتدریج خاتمہ کرنا ہے۔بری فوج کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان نے قومی لائحہ عمل کے تسلسل کیلئے گزشتہ سال آپریشن ردالفساد شروع کیا جس کے تحت بہتر انداز میں مقدمات چلانے، پولیسنگ اور تعلیمی اصلاحات کے علاوہ دہشتگردی کی مالی معاونت کی روک تھام اور اشتعال انگیز تقاریر کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مشترکہ عزم اور پوری قوم کی استقامت کی بدولت کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔
1,636 total views, no views today



