بریکوٹ( ریاض احمدسے)سوات میں محکمہ سوئی گیس کرپشن اور اقراباء پروری کا عروج پر پہنچ گیا ہے جبکہ رہی سہی کسر سیاسی مداخلت نے پوری کردی ہے ۔علاقہ موسیٰ خیل گاؤں گورتئی کے صارفین نے سوئی گیس کنکشن کے لئے تمام کاغذئی کاروائی مکمل ہونے کے باوجود سیاسی اثر رسوخ نہ ہونے کی وجہ سے کنکشن خواب بن گیا ہے ۔ان میں وہ صارفین بھی شامل ہیں جنہوں نے کنکشن کے حصول کے لئے ارجنٹ 25ہزار روپے بھی جمع کئے ہوئے ہیں محکمہ سوئی گیس کے قوانین کے مطابق ارجنٹ داخلہ کرنے والوں کو دس دن کے اندراندر کنکشن اور میٹر کی فراہمی ہے مگر وہ بھی کئی ماہ سے کنکشن کے حصول سے محروم چلے آرہے ہیں ۔گذشتہ ماہ جماعت اسلامی کے ایم این اے عائشہ سید نے اسمبلی میں محکمہ سوئی گیس سوات کے کرپشن اور اندھیر نگری چوپٹ راج کے خلاف آواز بھی اٹھائی اور اخباری بیانات بھی جاری کئے مگر اس کے باوجود محکمہ سوئی گیس سوات ٹھس سے مس نہیں ہو رہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق اس وقت عموماً سب ڈویژن بریکوٹ اور خصوصاً علاقہ موسیٰ خیل کا گاؤں گورتئی میں درجنوں صارفین نے سوئی گیس کنکشن کے لئے مطلوبہ کاروائی پورے کئے ہوئے ہیں اور کئی ماہ سے اس انتظار میں ہیں کہ آج ہمیں کنکشن اور میٹر ز سے نوازا جائے گا مگر محکمہ سوئی گیس سوات میں سیاسی مداخلت اور کرپشن کی وجہ سے انہیں ابھی تک کنکشنز فراہم نہیں کئے گئے ہیں ۔صارفین محکمہ سوئی گیس سوات کے مسلسل طواف کرنے پر مجبور ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے ۔علاقے کے بعض گلیوں میں صارفین نے محکمہ سوئی گیس کے اہلکاروں کے کہنے پرکنکشن کے لئے کھڈے بھی کھودے ہیں جن میں ابھی تک بہت سے راہ گیر گر کر زخمی بھی ہوچکے ہیں اور مزید خدشہ ہے کہ جانی نقصا ن ہوجائے ۔وویلیج کونسل گورتئی نائب ناظم داود خان نے محکمہ سوئی گیس کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ سوئی گیس سفید ہاتھی بن گیا ہے یہاں پر جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون چل رہا ہے اگر محکمہ سوئی گیس والوں نے گاؤں گورتئی میں صارفین کو تین دن کے اندر اندر سوئی گیس کنکشن فراہم نہیں کیا گیا تو کنزیومر کورٹ کا دروازہ کھٹکٹھائیں گے۔انہوں نے وفاقی حکومت اور محکمہ سوئی گیس کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ سوئی گیس سوات میں کرپشن اور اقراباپروری کا نوٹس لیں تاکہ عام آدمی سکھ کا سانس لے سکیں ۔
1,576 total views, no views today



