یوں لگتا ہے جیسے لفظ ’’منشیات‘‘ مختلف قسم کے نشوں سے مل کر وجود میں آیا ہو۔ کبھی پھر ایسا لگنے لگتا ہے کہ یہ لفظ ’’منشا‘‘ سے ماخوذ ہو جس کے معنی ’’مرضی‘‘ کے ہیں۔ لفظ منشیات کی حقیقت جو بھی ہو، اس کا تعلق نشہ سے ہو یا مرض سے، ہمیں اس کے نام سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ ہمیں تو اس کے کام اور کارنامے کے بارے میں چند باتیں کرنی ہیں۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے اور ترنگ میں آکر کہتے ہیں کہ جتنی بھی کھانے پینے کی چیزیں ہیں، یہ ہمارے لیے ہی پیدا کی گئی ہیں۔ اب اگر ہم انھیں نہ کھائیں اورنہ پئیں تو یہ کفرانِ نعمت ہوگی۔ خواہ وہ جو کچھ بھی ہو، ہمارے لیے ہے۔ نعمتوں کی نا شکری اور کفرانِ نعمت تو قابل تعزیر ہے۔ یہ تو اُن لوگوں کا نظریہ ہے جو منشیات پسند ہیں۔ ساری کی ساری نعمتیں ملا کر اور غیر نعمتیں جوڑ کر عقلی دلیل پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کچھ بھی ہو کم از کم نشہ آور نعمتوں کے استعمال سے بہتر ہے کہ کفرانِ نعمت کا مرتکب ہوجائے۔
دنیا میں بہت سارے عظیم لوگ جو کئی طرح کے علوم حاصل کرنے اور نام و شہرت حاصل کرنے کے باوجود اپنے آپ کو کھوجنے اور تلاشنے میں مصروفِ کار ہیں۔ خود کو پہچاننے میں سرگرداں ہیں،مگر اپنے آپ کو تلاشنے اور پہچاننے میں بری طرح ناکامی کا اظہار کر بیٹھتے ہیں۔ اُن کی تشنگی ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آرہی۔ زندگی ختم ہوجاتی ہے مگر منزل کا قرب نصیب نہیں ہوتا۔
حیرت کی بات تو یہ ہے پھر یہ کون لوگ ہیں جنھیں کوئی اپنے گھر کے پچھواڑے میں رہنے والا بھی نہیں جانتا۔ جنھوں نے کبھی اپنے آپ کو تلاشنے اور پہچاننے کی کوشش بھی نہ کی ہوگی اور لگے ہیں خود کو نشے میں ڈبو کر غموں سے چھٹکارا حاصل کرنے۔ حق تو یہ ہے کہ خودکو کھوجا جائے۔ اپنی اہمیت، افادیت، مقصدیت اور ضرورت کو معلوم کیا جائے کہ میں کیا ہوں، کیوں ہوں، کس لیے ہوں، کہاں ہوں؟ مگر یہ کیا کہ جتنی اپنے آپ سے خداداد واقفیت ہے، اُسے بھی بھول جانے کی کوشش کی جائے۔ کیوں کہ نشہ کہتے ہی ’’خود فراموشی‘‘ کو ہیں۔
نوجوانوں کو منشیات کی طرف راغب کرنے میں دوست وا حباب، ارد گرد کا ماحول، زرد قسم کی عشقیہ شاعری جس میں حسن و شباب اور شراب و کباب کا ذکر بر ملا ہوتا ہے، فلموں، ڈراموں، عامیانہ اور خود ساختہ عشق کا بہت زیادہ ہاتھ ہے۔
کچھ دانش وروں کا خیال تھا کہ عشق کیا نہیں جاتا بلکہ ہوجاتا ہے۔ ہوسکتا ہے ایسا ہی ہو مگر ہمارا نظریہ یہ ہے کہ عشق خود بہ خود نہیں ہوجاتا بلکہ عشق کیا جاتا ہے۔ اب عشق کی تلاش میں باقاعدہ تیاری کے ساتھ نکلا جاتا ہے۔ حسن کی تلاش، شباب کی تلاش، جیسے جیسے بے باکی بڑھتی جائے گی، عشق بھی بڑھتا جائے گا۔ کیوں کہ بے باکی اور دیدہ دلیری کی برکت سے رعب جمال ختم ہوکر رہ جائے گا۔ لیکن عشق میں ناکامی پر جو بے مقصد اور بے نتیجہ روگ لگ جاتا ہے، تو اپنے آپ کو عاشق صادق ظاہر کرنے کے لیے منشیات کا سہارا لیا جاتا ہے جو کہ عبث ہے، محبوب تو وہی ہے جس نے دھتکار دیا، اب اپنے آپ کو سیگرٹ کے دھویں میں اڑانے یا سرخ پانی میں بہادینے کا کیا مطلب؟
ہمارا نظریہ تو اس شعر میں مضمر ہے کہ بہ قول شاعر
مغرور جو کہتی ہے تو کہتی رہے دنیا
ہم مڑ کے کسی شخص کو دیکھا نہیں کرتے
یہ بھی ضروری نہیں کہ فقط عشق مجازی میں ناکامی ہی کی وجہ سے دل گھائل ہوجائے اور منشیات کا استعمال شروع کردیا ۔
اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی وصل کی راحت کے سوا
اب اگر اس شعر کے مفہوم پہ غور کیا جائے، تو اس میں دونوں پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا۔ غم خواہ کوئی بھی ہو، غم لگ جانے کی کوئی بھی توجیہ ہو، اس کا مداوا شراب و کباب میں تو نہیں ہے۔ آخر یہ کس نے کہا کہ نشہ کسی غم کا یا کسی ناکامی کا علاج ہے؟ شاید وقتی طور پہ غفلت سے ہم کنار کردے، ورنہ سکون اور راحت تو نشہ آور چیزوں میں نہیں ہے۔ اس سے توبہتر ہے کہ غور و فکر کرنے کی عادت ڈالی جائے مسائل کے حل کے لیے سوچا جائے۔ گہری سوچ کے نتیجے میں بعض اوقات زبان یا قلم سے ایسی بات ضرور نکل جاتی ہے جس سے اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی بھلائی بھی ظہور پذیر ہوجاتی ہے۔
جو لوگ سوچنے اور غور و فکر کے عادی ہوجاتے ہیں، اُنھیں اس عمل میں لذت اور ایک انجانی سی خوشی کا احساس ہونے لگتا ہے اور یہی لذت دراصل نشہ کہلاتا ہے، تو کیوں نہ بجائے منشیات کے نشے میں ڈوبنے کے غور و فکر کے نشے خود کو ڈبویا جائے۔ تاکہ کسی کا بھلا تو ہوسکے۔ اگر دیکھا جائے، تو ہمارے وجود کو نشہ آور چیزوں کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ یہ ہمارے بدن کے لیے مفید ہونے کے بجائے نقصان دہ ہے، تو جان بوجھ کر یہ زہر رگوں میں کیوں اُتاری جائے۔
نشہ کرنے سے اعصاب، پھیپھڑے، دل اور جگر متاثر ہوتے ہیں۔ دماغ سن رہتا ہے۔ یادداشت کے خلیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ ہوش نہیں رہتا۔ معاشرے میں بے اعتبار ہوکر رہ جاتا ہے۔ نشہ کرنے والے حضرات سے لوگ بے تعلق ہوجاتے ہیں۔ معاشرتی زندگی میں ایسے لوگوں کو کوئی بھی شریک کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اگر فی زمانہ غور کیا جائے، تو ہوش میں رہنے والے بھی بڑی مشکل سے زندگی جیے جارہے ہیں۔ نزاکت زمانہ اس قدر بڑھ چکی ہے کہ کسی سے گلہ شکوہ کرنے کی گنجائش بھی نہ رہی۔ ماحول ہی اس قدر ابتر ہوچکا ہے، تو پھر قصور کس کا ہے؟ اب اگر ایسے میں کوئی نشئی ہو جسے ہوش تک نہ ہو جس کا معاشرے میں کوئی کردار ہی نہ ہو جسے کوئی انسان بھی نہ سمجھتا ہو، تو بھلا بتائے وہ کس طرح زندگی بسر کرے گا؟ یہاں تو ’’میاں‘‘ اچھے خاصے لوگوں کو کوئی گھاس تک نہیں ڈالتا، جب تک مفاد وابستہ نہ ہو۔ تو کس باغ سے اُٹھ کر جھومتا جھامتا چلا آرہا ہے۔ اپنے مسائل، رنج وغم اور دکھ درد کے اظہار اور بیان کرنے کے لیے معبود حقیقی سے بڑھ اور کوئی نہیں ہے۔ نشہ وقتی غفلت کے سوا اور کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس میں تباہی و بربادی کے سواکچھ بھی نہیں۔
یہ نشہ آور مشروبات اور اشیاء نہ جانے کس طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ انھیں کون کشید کرتا ہے، کون بناتاہے اور کون سپلائی کرتا ہے؟ اب تو ہر شہر کی داخلی حد پہ ناکہ بندی اور چیک پوسٹ موجود ہے۔
برسبیل تذکرہ، ہم ایک مرتبہ کہیں جارہے تھے۔ ہماری گاڑی روکی گئی۔ ہم نے اپنا تعارف کرایا اور کہا کہ اس وقت ان ڈیوٹی ہیں، مگرچیک کرنے والے صاحب نے ہماری بات کو سننے کی زحمت بھی گوارا نہ کی تلاشی لیتے رہے۔ بہ ہر حال ہمیں اعتراض نہ ہوا۔ کیوں کہ یہ اُن کا فرض بنتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ چیکنگ تو ہر کسی کے لیے سخت ہے، مگر پھر بھی یہ منشیات۔۔۔؟
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہاں جہاں منشیات ملتی ہے، اُن جگہوں ہی میں ان کی تیاری بھی ہوتی ہوگی۔ یوں ایک شہر سے دوسرے شہر منتقلی کی ضرورت بھی نہ ہوگی۔ آخر کوئی تو طریقہ ہوگا۔ خیر، طریقۂ واردات جو بھی ہو منشیات کی تیاری، اس کا استعمال اور منشیات فروشی بری حرکتیں ہی ہیں۔ انھیں کوئی بھی اچھا کام بہ ہرحال نہیں کہے گا۔ اس قسم کے کاموں سے اجتناب ضروری ہے۔
منشیات کے خاتمے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ قوتِ ارادی سے کام لے کر منشیات کے عادی افراد اس کا استعمال ہی ترک کردیں۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری، جب پینے والے نہ رہیں گے، تو اس کی کشیدہ کاری بھی ختم ہوکر رہ جائے گی۔ جس پیداوار کی طلب ہی باقی نہ رہے، تو اس پیداوار کا سلسلہ بھی ناپید ہوکر رہ جائے گا۔ ہوسکتا ہے کہ اس کی تیاری یا سپلائی میں فروخت کار یا منشیات فروش کو وقتی طور پر مالی فائدہ ہو، مگراس کے عادی افراد کو ناقابل تلافی نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
خیر، دونوں فریقین کے لیے یہ رستہ انتہائی غلط اور پر خطر ہے، تو پھر کیوں جان خطرے میں ڈال کر اپنے اور دیگر لوگوں کی رگوں میں زہر گھولا جائے۔ نشے کی عادت کو ہمت مرداں کے تحت ہی ترک کیا جاسکتا ہے۔ بہ ہر حال اس دور میں ہر شخص کو نشے کی خرابی کا بہ خوبی علم ہے۔ کوئی بھی اتنا ناداں یا بے بہرہ نہیں کہ وہ اپنی اچھائی یا برائی نہ سمجھ سکے۔
2,168 total views, no views today


