چیف جسٹس ناصر الملک صاحب آپ کو یہ جلیل القدر عہدہ مبارک ہو۔ میرے لیے اور اہل سوات کے لیے یہ فخر کا مقام ہے کہ آپ کی وجہ سے سوات کو اتنا بڑا عزاز نصیب ہوا ہے۔ یہ رتبہ، یہ عہدہ اور اعزازات آپ کی قابلیت کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔ چیف جسٹس کا حلف لینے سے آپ کا کام بڑھ گیا اور آپ کی ذمہ داریوں میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے، لیکن اس سے ایک فائدہ بھی ہوا ہے کہ عوام کو انصاف حاصل کرنے میں جو دشواری پیش آرہی ہے، انصاف کی راہ میں یہ جو جگہ جگہ پہاڑ جیسی رکاؤٹیں کھڑی کی گئی ہیں، کچہریوں میں تاریخ پہ تاریخ دینے کا جو رواج چل نکلا ہے، ظالم اور مظلوم کی جو جنگ انصاف کے نام پر وکیل لڑ رہے ہیں۔ یہ تمام عمل بہت صبر آزما اور تھکادینے والا عمل ہے۔ یہ وقت کا زیاں بھی ہے اور مالی تباہی کا سبب بھی اور اس سے دشمنیاں مزید بڑھ رہی ہیں۔ عدل اور انصاف کے لیے لوگ عدالتوں اور کچہریوں کا رخ کرتے ہیں لیکن وہاں وہ ذلیل و خوار ہوتے ہیں کہ کرپٹ معاشرے میں انصاف عنقا ہے۔
جناب والا! آج کل غریب کے لیے انصاف کا حصول بہت مہنگا ہوگیا ہے۔اس طرح دولت مند لوگوں کے لیے عدالت اور کچہری میں حاضری دینا ایک فیشن سا بن گیا ہے۔ عدالت اور کچہری میں مقدمات کا فیصلہ جلد نہیں کیا جاتا۔ کبھی ایک فریق کا وکیل غیر حاضر ہوتا ہے، تو کبھی وکیل بیمار۔ اس طرح کبھی جج صاحب چھٹی پر یا پھر کسی کام سے عدالت میں موجود نہیں ہوتا ہے۔ صبح کا نکلا ہوا انصاف کا طالب بعد میں آئندہ تاریخ کا رقعہ ہاتھ میں لے کر تین بجے واپس گھر لوٹ آتا ہے۔ ظالموں کے لیے یہی تاریخ کا بدلنا اور آئندہ تاریخ پر آنا اور آئندہ تاریخ پر جاکر پھر اگلی تاریخ کا رقعہ لے آنا کوئی بڑی بات نہیں، لیکن مظلوم کے لیے یہ سب کچھ ایک عذاب سے کم نہیں ہوتا۔
جناب والا! یہ انصاف کا طریقہ کار اتنا پیچیدہ کیوں بنایا گیا ہے؟ ایک ایک مقدمے کا چالیس پچاس سال گزرنے کے بعد بھی چلتا رہنا کیا انصاف کے تقاضے پورے کرتا ہے؟ اور انصاف جلد اور فوری نہ ملنا معاشرے میں کون کون سی برائیاں پیدا کرتا ہے، اس پر کبھی کسی نے غور فرمایا ہے؟ پاکستانی معاشرہ جس تیزی سے گراؤٹ کا شکار ہے اور عوام میں فی الحال جو بے چینی پائی جاتی ہے، اس پر کبھی ذمہ دار اہل کاروں نے سوچا ہے؟ ہمارا ملک پاکستان کیوں ترقی نہیں کرتا؟ ہمارے بچے جو مستقبل کے معمار ہوتے ہیں، کیوں جاہل اور گنوار رہ جاتے ہیں؟ کیوں کہ اُن کے بڑے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ عدالتوں اور کچہریوں کے باہر کھڑے کھڑے تاریخ پر تاریخ لینے میں گزارتے ہیں۔ ہمارے عوام کیوں غریب اور خوار ہوتے ہیں، کیوں کہ ان کے پاس بچوں کے لیے رزق حلال کمانے کا جو وقت ہوتا ہے، وہ تھانہ اور کچہری میں صرف ہوتا ہے۔
جناب چیف جسٹس ناصر الملک صاحب! آپ کو یہ بڑا اور اہم عہدہ مبارک ہو، لیکن آپ کے پاس وقت کم ہے اور کام زیادہ۔ آپ کے پاس ایک سال اور دس دن ہیں،یعنی 375دن۔ اس عرصے میں آپ نے انصاف کو سستا کرنا ہے۔ عدالتی طریقہ کار کو آسان بنانا ہے۔ عدالتوں میں آئے روز تاریخوں کے بدلنے پر پابندی لگانے کے لیے آپ کو عدالتی اصلاحات کرانے پڑیں گے۔ اس وقت ملک بھر میں تقریباً سولہ لاکھ سے زیادہ مقدمے التواء کا شکار ہیں۔ ان پینتیس لاکھ پرانے مقدموں کو بھی آپ نے مختلف عدالتوں میں نمٹانا ہیں۔ آپ نے انصاف کا بول بالا کرنا ہے۔ اگر آپ نے انصاف کا حصول سستا اور آسان بنا دیا، تو آپ کا نام سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ جناب چوہدری افتخار احمد صاحب سابق چیف جسٹس نے ایک بڑا نام کمایا ہے، لیکن پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ آپ اُن سے بھی بڑا نام کمائیں۔ اہل سوات چاہتے ہیں کہ عدل و انصاف کے میدان میں اور قانون کی تاریخ میں آپ کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے۔
جناب والا! عدالتی اصلاحات کیجیے اور پھر ان پر عمل ممکن بنائیے۔ بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے انسان کو قانون کا پابند بنا دیجیے۔ تاکہ ہمارا ملک ترقی کرسکے اوراس ملک کے عوام کی قسمت بھی بدل جائے۔
742 total views, no views today


