قارئین کرام! کافی عرصہ بعد ایک بار پھر ملالہ یوسف زئی اور ان کے دولت و شہرت کے لالچی باپ ضیا ء الدین پر قلم اٹھانے کی جسارت کر رہا ہوں۔ گزشتہ روز ملالہ یوسف زئی کی سترہ ویں سالگرہ خاموشی سے منائی گئی۔ اس طرح اس پر ہونے والے حملے کا دن بھی خاموشی سے ہی گزر جائے گا۔ اس کی بڑی وجہ اپنوں سے نفرت اور غیروں سے ان کی بے پناہ محبت ہے۔ کیوں کہ محض دوسال ہی گزرے ہیں کہ انھوں نے اپنا ملک اور اپنے لوگ ایسے بھلا دیے ہیں جیسے ان کا خمیر اس مٹی سے اٹھا ہی نہ ہو۔ ’’قید‘‘ کی یہ زندگی انھیں مبارک ہو۔ ان کی مثال اب کچھ یوں ہے کہ کوئی ارب پتی جس کے پاس دنیا کی ہر آسائش ہو، ہر سہولت ہو، ہر خوشی ہو لیکن وہ جیل میں قید ہو، تو ایسی آسائش، سہولت اور خوشی کے کیا معنی؟ ضیاء ’’صاحب‘‘ کی مثال ایسے ارب پتی کی ہے جس پر دنیا جہان کی تمام نعمتیں کھانا بند ہوں، اسے ہر وقت اپنی دولت کے لٹ جانے کی فکر دامن گیر رہتی ہو، رات کو پرسکون نیند کے لیے خواب آور دوا لیتا ہو۔ کیا ان سے ہم جیسے غیر معروف لوگوں کی زندگی بہتر نہیں ہے؟
پشتو کا مقولہ ہے: ’’وئ چا؟ پہ خپلہ۔ نو گلہ ولے د بلہ؟‘‘ یہ سب ضیاء ’’صاحب‘‘ کا قصور ہے اور وہ اس وجہ سے کہ جب وہ بحیثیت ایک سفید پوش زندگی گزار رہا تھا، تو اس وقت سے اس کے سر پر شہرت اور بے پناہ دولت کمانے کا بھوت سوار تھا۔ برسبیل تذکرہ، ہمارے ایک نہایت محترم ادیب، مؤرخ اور آدھ درجن کتب کے مصنف کے سوات کے مشہور عالم دین مولانا رحیم اللہ بابا جی کے ساتھ گہرے مراسم تھے۔ ایک روز ضیاء ’’صاحب‘‘ نے ان سے درخواست کی کہ باباجی سے میری ملاقات کی کوئی سبیل ڈھونڈیں۔ انھوں نے اس کی ملاقات کرائی۔ بابا جی سے ضیاء صاحب کی درخواست نے پورے محفل کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ ’’موصوف‘‘ نے باباجی سے ایک ایسا وظیفہ مانگا جس سے وہ راتوں رات اس دنیا کے امیر ترین شخص بن جائیں۔ ضیاء ’’صاحب‘‘ نے اپنی رواداد انھیں کچھ یوں بیان کی کہ بابا جی، میں نے اپنی غربت کی وجہ سے اپنے اسکول کے کینٹین کے لیے اپنی سوتیلی ماں سے کچھ پیسے ’’منافع‘‘ پر لیے ہیں اور میں انھیں ماہانہ ’’منافع‘‘ دیتا ہوں۔ یہ سنتے ہی بابا جی نے انھیں کہا کہ یہ تو سود ہے۔ مگر ضیاء ’’صاحب‘‘کو دولت کی لالچ لگی ہوئی تھی۔ انھیں دنیا کا امیر ترین انسان بننا تھا۔ انھیں سود وود سے کیا لینا تھا۔ بابا جی نے نہ چاہتے ہوئے بھی ہمارے محترم کی دوستی کا بھرم رکھتے ہوئے اسے وظیفہ دیا اور آج ضیاء ’’صاحب‘‘ دولت کے اس مینار پر بیٹھے ہیں جس کا وہ کبھی خواب ہی دیکھا کرتے تھے۔ اور اگر غلط نہ کہو تو اسی وظیفے کے بعد انکو سونے کی انڈے دینے والی ملالہ مل گئی ،یہ الگ بات ہے کہ اس مقام تک پہنچنے کے لیے انھوں نے اپنی پھول سی بیٹی کی بلی چڑھا دی۔ اس قربانی کے بدلے اسے ،یوکے ،کی چکاچوند سے بھرپور زندگی تو مل گئی، مگر تاحال سکون کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ آج شائد اس کو احساس ہو رہا ہو کہ وہ ایک طرح سے قیدی ہیں، نہ صرف وہ بلکہ اس کی پھول سے بچے اور اس کی بیوی بھی۔ شائد اب اسے احساس ہو رہا ہو کہ اس مقام تک پہنچنے کے لیے اس نے جو قربانی دی ہے، وہ ان اشیاء پر بے حد بھاری ہے، جس کے لیے ضیاء ’’صاحب‘‘ پاگل ہو رہے تھے۔
اب کچھ ذکر ضیاء ’’صاحب‘‘، ملالئی اس کی شریک حیات اور پھول سے بچوں کی قید کا ہو جائے۔ ضیاء ’’صاحب‘‘ آج انگلینڈ کی رنگینیوں میں زندگی گزار تو رہے ہیں، لیکن یہ اسے ماننا پڑے گا کہ اس کی زندگی کسی قید خانے سے کم نہیں ہے۔ کیوں کہ ہمارے ایک محترم دوست جب ان سے ملنے گئے، تو ان کے گھر پر ایک خاتون سمیت تین افراد کی ڈیوٹی لگی تھی، جو ہر آنے جانے والے پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے اور جب ان کے سوال و جواب کے بعد موصوف جب گھر کے اندر داخل ہوئے، تو ضیاء کی اصرار کے باوجود انھیں لابی سے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور اسپتال سے گھر جاتے ہوئے انھیں گھر کے گیٹ پر ہی چھوڑ کر واپس لوٹنا پڑا۔ کیا یہ ہے ہماری مہمان نوازی، جس کی پوری دنیا تعریفیں کرتے نہیں تھکتی؟ آج ضیاء ’’صاحب‘‘ دولت کے لالچ میں اتنا نیچے گرچکے ہیں کہ اپنی مٹی، اپنی دھرتی ماں کو تو یکسر بھول چکے ہیں لیکن پختونوں کی روائتی مہمان نوازی کا بھی جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔ اور تو اور انھوں نے تو وہ دوست بھی بھلا دیے ہیں جنھوں نے ملالہ کو ’’ملالہ یوسف زئی‘‘ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے اور اس کو اس بلندی پر پہنچا یا ہے۔
اس طرح جب ضیاء ’’صاحب‘‘کو یہ پتہ چلا کہ اس کے اپنے دوست اس سے جدا ہوہے ہیں اور وہ بھی اس کی اپنی ہی ہٹ دھرمی کی وجہ سے، تو سوات میں اس کے اکا دکا دوست جو اس کو اپنا ’’پیر‘‘ مانتے ہیں اوراپنی مفادات کی خاطر اس کے لیے یہاں پر راہ ’’ہم وار‘‘ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے، انھوں نے ایک طرح کی مہم شروع کردی ہے۔ ان کا کام ہے ضیاء ’’صاحب‘‘کے روٹھوں کو کسی بھی قیمت پر منانا۔ اگر میں غلطی پر نہیں ہوں، تو ہمارے قافلے سے ایک نہایت شفیق اور محترم استاد کو وہ ’’صاحب‘‘ کے قافلے میں شامل کروا چکے ہیں۔ اس بات پر مجھے واقعی دکھ ہوا ہے۔ کیوں کہ ہمارے مذکورہ محترم اگر کسی کو دوستی کا ہاتھ دیتے ہیں، تو پھر اس کا قبر تک ساتھ بھی دیتے ہیں۔ان کی روش اس شعر کے مصداق ہے کہ
اک قدم بھی ساتھ چلنا ہو تو اتنا سوچنا
دوستی اور دشمنی میں قبر تک جاتا ہوں میں
لیکن خیر مجھے اب بھی امید ہے کہ ہمارے قافلے کا یہ پنچھی ایک روز ضرور لوٹ کر آئے گا۔ کیوں کہ ان ضمیر فروشوں اور ہم میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس حوالے سے وہ پشتو کے ایک شاعر کیا خوب کہتے ہیں،
تہ د خپل زان د پارہ مرے زہ د خپل قام دپارہ
زاہدہ ستا ثواب زما گناہ تہ چرتہ رسی
اب تو ضیاء ’’صاحب‘‘ وہاں پر اپنے باس لوگوں کے ڈکٹیشن کے بغیر اپنے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکال سکتے، نہ کسی سے بات ہی کرسکتے ہیں۔ میرے ایک محترم کے مطابق جب وہ انگلینڈ چلے گئے، تو چند ما ہ کے لیے تو ان کے دل میں ایک ڈر سا موجود تھا کہ میں آتو گیا ہوں، لیکن میرا ویزہ ’’وزٹ‘‘ کا ہے، ختم ہونے کے بعد یہ لوگ مجھے کہیں واپس نہ بھیج دیں۔ اس طرح ضیاء ’’صاحب‘‘ کے خوابوں کے محل چکنا چور ہوجاتے، لیکن ملالہ کی بلی چڑھانے والے خود غرض اور لالچی انسان پر تو قسمت کی دیوی مہربان تھی اور اس نے جس چیز کو ہاتھ لگانا تھا، وہ تو سونے کی بننے والی تھی۔اور وہاں پر مستقل قیام کیلئے اس نے وہی سب حدود پار کرلی جس کا کوئی مسلمان سوچ بھی نہیں سکتا ہے لہٰذا ان کا یہ ڈر ختم ہوگیا اور وہی ہوا جس کا وہ صرف خواب ہی دیکھ سکتے تھے۔
آج ضیاء ’’صاحب‘‘ کی مثال اس جواری کی سی ہے جو ایک ہی داؤ میں میدان مار لیتا ہے، لیکن اپنے اسے چھوڑ دیتے ہیں اور وہ جیت کر بھی ہار جاتا ہے۔ ضیاء ’’صاحب‘‘ اور ملالہ کی زندگی کو دیکھتے ہوئے مجھے انڈیا کی وہ فلم یاد آتی ہے جس میں سری دیوی اپنے شوہر انیل کپور کو پیسوں کے لیے دوسری لڑکی سے شادی کرنے پر مجبور کرتا ہے، اور آخر میں اسے رونے کے سوا کچھ نہیں ملتا۔
ضیاء ’’صاحب‘‘آپ کو تو ہمارے حضور ﷺکا اسم مبارک لیتے ہوئے درود بھیجنے تک کی زحمت نہ ہوئی، آپ لوگوں سے بھلائی کی امید رکھنا دیوانے کی بڑ کے مصداق ہے۔ آپ تو وہاں جاکر ہمارے پیارے نبیﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی صفائیاں پیش کرتے رہے، آپ نے تو پاکستان میں ہونی والی دہشت گردی پر پاک فوج کو قصور وار ٹھہرایا ہے۔ آپ معہ اہل و عیال عمر قید ہوچکے ہیں، واپس پاکستان آنے کا سوچیے بھی مت۔ بقول شاعر
کعبہ کس منھ سے جاؤگی غالب ؔ
شرم تم کو مگر نہیں آتی
971 total views, no views today


