تحریر ناصرعالم
ویسے تو سوات خوبصورتی اورقدرتی حسن سے مالامال وادی ہے جہاں پر اونچی اونچی پہاڑیاں،آزادی کے نغمے گاتی ابشاریں اورخوشی کے گیت گاتابہتا دریااس وادی کے حسن میں مزیداضافہ کررہے ہیں
مگر یہاں پر ایک ایسی وادی بھی موجود ہے جواپنی خوبصورتی اوردلکشی کی وجہ سے مرغزار کہلاتی ہے ،سوات
کے مرکزی شہر مینگورہ سے چودہ کلو میٹردور وادی مرغزارکو اگر سوات کا دل کہا جائے تو نامناسب نہیں ہوگا جہاں پر اونچے پہاڑ اورٹھنڈہ پانی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کررہے ہیں،یہی وجہ ہے ریاستی دورمیں اس وقت کے بادشاہ اپنی تھکاؤٹ کو دورکرنے اورکھلی فضاء میں سانس لینے کیلئے مرغزارکارخ کرتے تھے اوراس مقصد کیلئے انہوں نے یہاں پر ایک محل بنایاتھاجوآج کل عدم کوجہی کے سبب اپنی افادیت کھونے لگاہے ،اس محل کو ہوٹل میں تبدل کرنے کے بعد اس کی دیکھ بھال میں مسلسل کوتاہی کی وجہ سے تاریخی محل کاحلیہ بگڑگیاہے ،ہرسال ہزاروں کی تعدادمیں سیاح اس محل کو دیکھنے کیلئے آتے ہیں مگروہ ذہن میں جو نقشہ سجاکر آتے ہیں یہاں آکر انہیں مایوسی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے اوریوں ان ک امید حسرت میں تبدیل ہوجاتی ہے،شاہی خاندان توجہ دے، سوات کے سیاحتی علاقہ مرغزار میں 1941ء میں ریاست کے پہلے بادشاہ میاں گل عبدالودود کی بنائی گئی تاریخی حویلی’’سفید محل‘‘ اپنی تاریخی اہمیت کھونے لگی، ریاست کی اس تاریخی حویلی کی حالت روز بہ روز خراب ہوتی جارہی ہے
،یہاں کے بزرگوں کے مطابق بادشاہ سوات میاں گل عبدالودود نے 1941ء میں سوات کے صدر مقام سیدو شریف سے چودہ کلومیٹر کے فاصلے پر سیاحتی اور یخ مقام مرغزار میں 27 کنال اراضی پر تاریخی حویلی ’’سفید محل‘‘ بنائی تھی جس میں اس وقت دور جدید کے تمام تقاضوں کا خیال رکھا گیا تھا،ان کا کہنا ہے کہ اس محل میں تیس کے قریب کمرے، بڑے ہال، برآمدے اور وسیع صحن بھی موجودہیں، اس تاریخی محل میں استعمال ہونے والا ماربل بھارت کے ریاست راجھستان کے علاقہ جے پور سے لایا گیا تھا، تاریخ کی کتابوں کے مطابق بادشاہِ سوات، بھارت کے دورہ پر گئے تھے جہاں جے پور میں ایک نواب کے محل میں انہوں نے سفید رنگ کا ایک ماربل دیکھا جس کی خوبی یہ تھی کہ وہ زیادہ دھوپ میں بھی گرم نہیں ہوتا تھا آج بھی اس پر شدید گرمی میں بھی ننگے پاؤں چلتے وقت ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے، بادشاہ سوات نے جے پور سے سفید محل مرغزار کے لئے وہ ماربل بڑی تعداد میں منگوا کر سفید محل کے فرش ، دیواروں اور واش رومز میں استعمال کیا ،ریاستی دورمیں اس حویلی میں بادشاہِ سوات موسم گرما میں جاتے اور عام لوگوں کے لئے بھی یہ محل کھلا ہوتا تھا، لوگ بادشاہ سوات سے ملنے بھی اس محل میں جاتے تھے ، مرغزار میں واقع ریاست سوات کا تاریخی محل اس وقت سوات کے دو شہزادہ بھائیوں سابق صوبائی وزیر شہزادہ اسفندیار امیر زیب (شہید) اور شہزادہ شہر یار امیر زیب کی مشترکہ ملکیت ہے، سوات کی تاریخی حویلی اور اس کی خراب صورت حال کے بارے میں جب شاہی خاندان کے چشم وچراغ شہزادہ شہر یار امیر زیب سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ریاست سوات کی تاریخی حویلی کی حالت دن بہ دن خراب ہورہی ہے، انہوں نے کہا کہ اس حویلی کو ہم نے ہوٹل یا گیسٹ ہاوس کے لئے کرایہ پر اس لئے دیا تھا کہ انتظامیہ اس کی تاریخی حیثیت کو بحال رکھے گی اورملک بھر کے سیاحوں کو سوات آکر اس تاریخی حویلی دیکھنے کا موقع ملے گا، ان کا کہنا ہے کہ اب وہ حویلی کا معاہدہ ختم کرنے والے ہیں جس کے بعد اس حویلی کو اصلی حالت میں لایا جائے گا اور ایک بار پھر ملکی و غیر ملکی سیاح اس تاریخی حویلی کو اصلی حالت میں دیکھ سکیں گے،ادھرعوام کا کہناہے کہ ریاست سوات کے بعد اس تاریخی محل کو سوات کے شہزادوں نے مختلف ادوار میں کرایہ پر دیا اس محل کو کرایہ داروں نے ’’وائٹ پیلس ‘‘ کے نام سے ہوٹل میں تبدل کردیا جس کے بعدیہ تاریخی عمارت ٹو ٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگی،اس تاریخی محل کی افادیت اوراہمیت کو بحال کرنے اوراسے ایک بار پھر سیاحوں کی توجہ کا مرکزبنانے کیلئے سوات کے شہزادوں کو کرداراداکرنا چاہئے بصورت دیگریہ حویلی اپنی تاریخی حیثیت مکمل طورپر کھودے گی۔
1,217 total views, no views today



