برسراقتدارآکر تمام تربحرانوں پرقابوپانے سمیت عوام کو زندگی کے تمام تر شعبوں میں ریلف دینے اورملک وقوم کوترقی کی راہ پرگامزن کرنے کی دعویدارمسلم لیگ ن سواتی عوام کی ترجمانی میں ناکام ہوگئی ہے کیونکہ اس پارٹی کو اقتداربھی ملا اوراختیار بھی ملا مگر اس کے باوجود بھی اپنے وعدوں کو عملی جامہ نہ پہنا سکی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس پارٹی کے نعرے صرف اورصرف اقتدارکے حصول کیلئے تھے اورمقصدپوراہوجانے کے بعدپی ایم ایل نے سوات سے ایسامنہ موڑلیاجیسے یہاں کے عوام اس ملک کی رعایاہی نہیں بقول شاعرکہ ،کیسے نظریں پھیر لیں مطلب نکل جانے کے بعد،ملکی سطح پر لیگی سیاست سے قطع نظر سوات میں اس کی سرگرمیوں پر نظر ڈالی جائے تو وہ انتہائی مایوس صورت اختیار کرچکی ہے ،یہاں پر اس پارٹی کے لیڈر اوروزیراعظم کے مشیر نے عوام سے منہ موڑ لیا ہے ،موصوف نے کچھ عرصہ قبل تک جومسلسل سیاسی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی تھیں آخرکار ان سرگرمیوں نے بھی دم توڑدیااورخودکو سوات کارہائشی کہنے والے مشیرصاحب تو اب سوات کارخ کبھی کھبارہی کرتے ہیں اورماہ رمضان میں توزیادہ تر غائب ہی رہیں پتہ چلا کہ وہ بیرون ممالک کے دورے کررہے ہیں ،سوات میں لیگی لیڈر شپ کی دم توڑتی سرگرمیوں کی وجہ سے عوام ان سے بے زارنظرآنے لگے ہیں، بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ یہاں کے عوام کوابھی تک کوئی مخلص لیڈر نہیں ملاجو بھی آتا ہے عوام کو مایوس کرکے چلاجاتا ہے،مرکز میں برسراقتدارن لیگ ہویا صوبے میں برسراقتدارپی ٹی آئی دونوں نے عوام کو ہرسطح پر مایوس کردیا ہے پی ٹی آئی کوتو جوممبران ملے ہیں اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے وہ اقتدارچلانے کے قابل ہی نہیں اس لئے عوام ان سے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں رکھتے مگرمسلم لیگ کی لیڈر شپ توسیاسی میدان میں کافی تجربہ رکھتی ہے کم ازکم اسے عوام کی ترجمانی کرنی چاہئے جسے اقتدارچلانے اور عوام سے ووٹ بٹورنے کابھی خاصاتجربہ ہے ،مسلم لیگ ن عام انتخابات اوربعدمیں سوات میں ضمنی الیکشن کے دوران سب سے زیادہ سرگرم سیاسی پارٹی تھی،سوات میں مخالف اورمدمقابل پارٹیاں الیکشن مہم کے دوران ن لیگ پر ٹرانسفارمر،کھمبے اوربجلی کی تاروں کوسیاسی رشوت کے طورپربانٹنے کا بھی الزامات لگاتی رہیں جن میں مختلف مقامات پرخالی خولی سوئی گیس منصوبوں کا افتتاح کرنے کاالزام بھی شامل تھامگرن لیگ نے ان باتوں یاالزمات کی پرواہ کئے بغیرمہم چلائی چونکہ اس وقت سیاسی میدان کافی گرم تھا لہٰذہ کوئی بھی ان الزامات اورسیاسی نعروں کو خاص دھیان نہیں دیتا تھا،سوات کے حلقہ پی کے 86پرہونے والے ضمنی الیکشن میں تو مسلم لیگ ن اس قدرسرگرم تھی کہ ایسالگتاتھا کہ پولنگ ہوتے ہی ن لیگ کی بھاری اکثریت سے جیتنے کا اعلان ہوگا کیونکہ ایک طرف اس پارٹی کی دن رات کی سرگرمیاں تھیں تودوسری جانب مذکورہ سیٹ کئی مرتبہ ن لیگ کے حصے میں آئی تھی یعنی ایک طرح سے یہ ن لیگ کی سیٹ تھی جس پرضمنی الیکشن کی صورت میں خانہ پری ہونی تھی مگر نتائج سامنے آنے کے بعدیہ سیٹ بھی ن لیگ کے ہاتھ سے نکل گئی اورعام انتخابات کی طرح ضمنی انتخابات میں بھی یہاں پرن لیگ کو ناکامی کا منہ دیکھناپڑا ،کیوں ؟کیا وجہ تھی ؟ ملک کی سب سے بڑی پارٹی نے اپنی جیتی ہوئی سیٹ کیوں ہاری؟کیاعوام کا مسلم لیگ ن پرسے اعتماداٹھ گیا یایہاں پرموجودپارٹی قیادت صحیح معنوں میں وہ کردارادانہیں کرسکی جواداکرناچاہئے تھا؟
ماضی میں مسلم لیگ جب بھی اقتدارمیں آئی ہے سوات میں اس کی اچھی خاصی نمائندگی موجود ہوتی مگر اس کے باوجود بھی یہاں کے عوام کی اس پارٹی سے وابستہ امیدیں دم توڑی گئیں،سوات سے مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے کئی ممبران صوبائی اوروفاقی وزیربھی رہ چکے ہیں مگر اس کے باوجود بھی وہ یہاں کے عوام کیلئے کچھ نہ کرسکیں، جب سے مسلم لیگ دھڑہ بند ی کا شکار ہوئی اوربعدمیں ملاکنڈڈویژن اورسوات میں ق لیگ کا ھڑہ ن لیگ میں ضم ہوگیا تو اس وقت اس پارٹی میں کچھ جان آگئی تھی مگرکچھ عرصہ بعدیہ جان پھرنکل گئی اوراس بات کا اندازہ چندماہ قبل سوات میں ہونے والے ضمن الیکشن سے لگایا جاسکتا ہے جس میں اس پارٹی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا،اس الیکشن میں دیگرکئی سیاسی پارٹیوں کوبھی ناکامی کا سامنا کرناپڑا مگران کی طرف زیادہ دھیان اس لئے نہیں جاتا کیونکہ الیکشن مہم میں وہ ن لیگ سے کافی پیچھے تھیں جبکہ ن لیگ نے جس زوروشورسے مہم چلائی تھی اس کے پیش نظر پیشترتجزیہ نگاروں نے اسکی جیت کو یقینی قراردیاتھا یہاں تک کہ سوات میں اس کی لیڈر شپ بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہوگئی تھی کہ فتح ان کے حصے میں ضرور آئے گی مگر نتائج آنے کے بعد پتا چلاکہ ن لیگ کی جیتی ہوئی سیٹ کو پی ٹی آئی نے اپنے نام کرلیا ہے جس کے بعد ن لیگ نے دھاندلی کی رٹ لگائی مگروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خاموشی اختیار کرلی جس کا مطلب تھا کہ ن لیگ نے اپنی شکست تسلیم کرلی اورایک طرح سے اس کے غبارے سے ہوا نکل گئی،آج کل مسلم لیگ کی لیڈر شپ بیرون ممالک کے دوروں پر ہے ،کس مقصد کیلئے ؟اس بارے میں کچھ نہیں کہاجاسکتاتاہم اس کی یہاں پر عدم موجودگی کو عوام اورخصوصاََ لیگی کارکن بڑی شدت سے محسوس کررہے ہیں جس کاشائد مشیرصاحب کو احساس نہیں ،
سوات میں لیگی قیادت کی عوام سے دوری ،ان کے مسائل کے حل میں عدم دلچسپی اورلاپرواہی کے سبب مسلم لیگ ن کاگراف مسلسل گررہا ہے اوراگر یہ صورتحال کچھ عرصہ تک اسی طرح برقراررہی توآئندہ الیکشن میں اسے ووٹ دینے والا توکیا اس کا نام لیوابھی نہیں ہوگالہٰذہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ن لیگ کی مرکزی قیادت سوات میں پارٹی کی گرتی ساکھ کو بحال کرنے اور اسے سہارا دینے کیلئے نئے سرے سے منصوبہ بندی کرے تاکہ سوات جیسے اہم ضلع میں یہ پارٹی اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت دوبارہ حاصل کرسکے۔
1,096 total views, no views today


