تحریر ؛۔ فضل خالق خان
شاہراہوں کی تعمیر کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ قیام پاکستان سے لے کر تاحال پاکستان کی ترقی کے لئے پنجاب اور سندھ سمیت اب خیبر پختونخوا میں بھی ترقی کے اس سفر کو آگے لے جانے کیلئے شاہراہوں کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے جس کی وجہ سے ان صوبوں کی عوام سفری سہولیات کے حوالے سے تبدیلیاں محسوس کررہے ہیں۔

موجودہ صوبائی حکومت نے بھی سڑکوں کی تعمیر ومرمت کی ضرورتوں کو محسوس کرتے ہوئے اس حوالے سے شاہراہوں کے تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے صوبے کے اہم علاقوں کو پہلے سے موجود پشاور اسلام آباد موٹر وے سے منسلک کرنے کیلئے سوات ایکسپریس وے منصوبے کے پہلے فیز کو مکمل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ منصوبے کے آفیشل ویب پیج پر جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کرنل شیر خان انٹر چینج سے کاٹلنگ تک مکمل ہونے والے50 کلومیٹر پر محیط پہلے فیز کے حصے کو عوام کی آمدورفت کے لئے کھولنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے

جس کا آج 21 مئی کو افتتاح موجودہ حکومت کررہی ہے جبکہ دوسرا فیز جو دسمبر2018 تک مکمل کیا جارہا ہے کا افتتاح صوبے کے آنے والی حکومت کرے گی،خیبر پختونخو ا کی موجودہ حکومت کا شروع کردہ منصوبہ سوات ایکسپریس وے کا پہلا فیز تکمیل کے بعد آج 21مئی سے عام ٹریفک کے لیے کھول دیا جارہا ہے جس سے سوات ، شانگلہ دیر چترال اور کوہستان کے لوگوں کو سفری سہولیات میسر ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں کی لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر ہوں گے جس سے یہاں کی معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔

سوات موٹر وے کا50 کلومیٹر پر محیط پہلا فیز کرنل شیر خان انٹر چینج سے کاٹلنگ تک پایہ تکمیل تک پہنچا ہے جسے عوام آمدورفت کے لیے اب استعمال کرسکیں گے۔کاٹلنگ سے چکدرہ تک 30 کلومیٹر پرمحیط دوسرا فیز ٹریفک کے لئے دسمبر 2018 میں کھولا جائے گا۔ سوات ایکسپریس وے کے دونوں فیز مکمل ہونے کے بعد دوسرا فیز جو 30 کلو میٹر پر مشتمل ہے اور جو کاٹلنگ سے چکدرہ تک ہوگی کے مکمل ہونے پر اس کے استعمال سے نہ صرف سوات اور شانگلہ کی طرف جانے والے مسافر بلکہ دوسری جانب دیر لوئر ، دیر اپر اور چترال تک جانے والے لوگوں کو موجودہ وقت میں درپیش سفری مشکلات سے نجات ملے گی اور دو گھنٹے کا سفر اب صرف 45 منٹ میں طے کیا جاسکے گا ۔

اس سے سوات اور چترال کے سیاحتی مقامات تک جانے والے ملک اور بیرون ملک سے آنے والے سیاح بھی سفری سہولیات سے مستفید ہوں گے ۔ سوات ایکسپریس وے جو کہ کسی بھی صوبائی حکو مت کی جانب سے بنایا جانے والا پہلا موٹر وے منصوبہ ہے ، اسکے تعمیراتی کام کی ذمہ داری پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ایکٹ 2014 کے تحت فرنٹےئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کے سپرد کی گئی۔اس منصوبے پر تعمیراتی کام کا آغاز ستمبر2016میں کیا گیا تھا اور دن رات کام جاری رکھنے کی بدولت پہلا فیز مکمل طور پر تعمیر کرلیا گیا ہے،اس روڈ کی تعمیر سے ملاکنڈ آنے جانے والوں کے لیے سفر سہل اور مسافت کا دورانیہ بھی کم ہوگیا ہے۔ سوات ایکسپریس وے کی کل طوالت 80کلومیٹر ہے جو پشاور،اسلام آبادموٹر وے پر موجود کرنل شیر انٹر چینج سے شروع ہو کر چکدرہ تک جائے گی،منصوبے میں سڑک کو ابتدائی طور پر دو رویہ رکھا گیا ہے تاہم مستقبل میں اسے تین ٹریک اور اگر ضرورت پڑی تو اسے 6لین تک لے جانے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔مجاز حکام کے مطابق سوات ایکسپریس وے 2کلومیٹرنوشہرہ، 18کلومیٹر صوابی،40کلومیٹر ضلع مردان جبکہ 21کلومیٹرملاکنڈ کی حدود میں آ تی ہے، اس سڑک کی چوڑائی80میٹرہے جبکہ اس منصوبے میں الہ ڈھنڈاور پلئی کے مقامات پر 2کلومیٹر طویل ٹنل بھی شامل ہیں۔ اعداد و شمارکے مطابق روزانہ 18000گاڑیاں ایکسپریس وے استعمال کریں گی ۔

منصوبے میں کاٹلنگ کے علاوہ دھوبیان،اسماعیلہ، پلئی، بٹ خیلہ اور چکدرہ کے مقامات پر انٹر چینج بنائے جا رہے ہیں جس پر تعمیراتی کام تیزی سے پایہ تکمیل کی جانب گامزن ہے اور آئندہ چند ماہ میں مکمل ہونا متوقع ہے۔ اس منصوبے سے دیر، شانگلہ،چترال اورکوہستان کے عوام بھی مستفید ہونگے۔ ایکسپریس وے سے ملحقہ دیہاتوں کے مکینوں کو روزگار کے ساتھ ساتھ کاروبار کے اچھے مواقع بھی میسر آسکیں گے ۔ماضی میں مذکورہ علاقے غیر ترقی یافتہ رہے کیونکہ ان کی بڑی اوراہم منڈیوں تک رسائی کم تھی۔سوات ایکسپریس وے سے صوبے سمیت سوات اور دیر وچترال میں سیاحت کے شعبے کو بھی فروغ ملے گا اور سیاحوں کی ان علاقوں تک رسائی آسان ہو جائے گی جس سے نہ صرف صوبے بلکہ سیاحتی علاقوں کے لوگوں کی معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے اور اس منصوبے سے صوبے میں کاروبار کے بالواسطہ مواقع بھی پیدا ہوں گے جو بے روزگاری کے خاتمے میں معاؤن ثابت ہوگی۔

2,970 total views, no views today



