کوئی مائی کا لال حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ کی شان میں گستاخی کا مرتکب نہیں ہوسکتا کہ ان کا ذکر بہت بلند ہے، وہ رحمت العالمین ہیں۔ ان کی ذات بابر کت صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ عالمین کے لیے رحمت ہے۔ جس میں حیاتیات، نباتات، جمادات اورکائنات سب کے سب شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر درود وسلام بھیجتا ہے، فرشتے ان پر درود وسلام بھیجتے ہیں۔ یہ راجپال کون ہوتا ہے؟ یہ رشدی کس بلا کا نام ہے اور یہ آسیہ مسیح کون ہوتی ہے؟ آسمان پر تھوکنا اپنے منھ پر ہی تھوکنا ہوتاہے۔ ناموس رسالت کسی کا ٹھیکہ نہیں ہے، یہ جو گلہ پھاڑ پھاڑ کر چیختے ہیں، چلاتے ہیں، یہ محض اپنا اُلو سیدھا کرتے ہیں۔ مقدس نام پر سیاست کرتے ہیں۔ عظمت رسولؐ کے ہم سارے پروانے ہیں، سارے متوالے ہیں۔ یہ دنیا بھر کی خاموش اکثریت ان کی نام لیوا ہے۔ پتہ ہے قایدِ پاکستان، بانئی پاکستان محمد علی جناح نے اس لاء کالج لندن میں صرف اس لیے داخلہ لیا تھا کہ اس کے گیٹ پر دنیا کے سب سے بڑے قانون دان حضرت محمدؐ کانام لکھا ہوا تھا۔ یہ جو دنیا میں اقوام متحدہ ہے، اس کا منشور رسول اللہ کا آخری خطبہ قرار پایا ہے، یہ جو دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت کا داعی ملک ’’برطانیہ‘‘ ہے، اس کے لاء کو عمر لا ء کہتے ہیں۔ یہ جو کہتے ہیں کہ اسلام کو خطرہ ہے، اسلام کو کبھی خطرہ ہی نہیں ہوسکتا۔ اصل خطرہ مسلمانوں کے اپنے اعمال کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ مسلمان اپنی کرتوت کی وجہ سے مرتا ہے، فنا ہوتا ہے، مٹتا ہے۔ اسلام تو زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ کافر مسلمان ہوجائے گا، عیسائی مسلمان ہوجائے گا، دہریہ مسلمان ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ غیر مسلم سے اسلام کاکام لے لے گااور اسلام تاقیامت زندہ رہے گا کہ اس کا رکھوالا وہ خود ہے۔ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھو! چنگیز خان آیا، خوارزم شاہی کی اینٹ سے اینٹ بجائی گئی۔ ہلاکو خان آیا بغداد کو تباہ وبرباد کرکے چھوڑ دیاگیا۔دجلہ اور فرات میں پانی کی جگہ انسانی خون موجزن ہوتارہا، اسلامی کتب کو جلا یاگیا لیکن پھر بھی وہی ہلاکو خان تھا جب اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، تو اس نے اپنے وزیر نظام الملک طوسی کو حکم دیا کہ اسلامی علم کے نصاب کو مرتب کرو اور آج سے تقریباً سات سو سال پہلے درس نظامی رائج ہواجو کہ آج تک رائج ہے۔ (حوالہ دیکھیے ڈاکٹر غلام جیلانی کی تصنیفات )
یہ جو علامہ اقبال کہتا ہے کہ
دہر میں اسم محمدؐ سے اجالا کردے
یہ اجالا تو کب سے آیا ہوا ہے، چار سو نورہی نور ہے۔ داعئی اسلام حضرت محمدمصطفی ؐ میں رواداری کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی۔ اسلام برداشت کانام ہے ،روداری کانام ہے،مذہبی بھائی چارے کانام ہے۔ یہ سورۃ کا فرون کیا ہے؟ ’’میرا دین میرا ہے، تمھارا دین تمھارا۔‘‘ یہ کس بات کی دلیل ہے؟بے شک یہ مذہبی رواداری کی دلیل ہے۔ یہ انتہاء پسندی سے کوسوں دور ہے، یہ رضائے الٰہی کانام ہے، یہ مخلوق خدا سے پیار کا نام ہے، یہ عظمت انسانیت کا نام ہے، اس میں کسی پر زور نہیں، کسی پر جبر نہیں ہے۔ یہ خود اختیار ی کا نام ہے، یہ کسی پر جبر اً ٹھونسا نہیں جاسکتا۔ یہ انسانی روح میں تحلیل ہوجانے کانام ہے۔ یہ آنکھوں میں سرمہ لگانے کانام نہیں ہے، یہ عمل کانام ہے۔ یہ پاکیزگی کا نام ہے۔ یہ کسی مخصوص لباس کانام نہیں ہے، کسی مخصوص کلچر کانام نہیں ہے، کسی مخصوص تہذیب کانام نہیں ہے۔ یہ عقیدے کانام ہے ، یہ ایک اللہ اور ایک رسول محمدؐ اور ایک قرآن پر ایمان رکھنے کانام ہے۔ یہ روز آخر ت پر ایمان رکھنے کا نام ہے۔ یہ تمام پیغمبروں اور نبیوں پر، آسمانی کتب پر اور فرشتوں پر ایمان رکھنے کانام ہے۔ یہ حال اور حرام میں تمیز رکھنے کا نام ہے۔ یہ ظلم مٹانے کے لیے آیا ہے۔ یہ دنیا سے جہالت ختم کرنے کے لیے آیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کائنات پر غور و فکر کرنے کے لیے آیا ہے۔ یہ تسخیر کائنات کے لیے آیا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو انسانوں کے لیے مسخر کیا ہوا ہے۔ یہ تعلیم کو پھیلانے کے لیے آیا ہے۔ مسلمان کے بچے کے لیے کافر سے تعلیم حاصل کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے کہ غزوہ بدر کے کافر قیدیوں کے لیے مسلمان بچوں کو تعلیم سکھانے کا عمل فدیہ قرار دیا گیا تھا۔ ہاں رسول مقبولؐ نے مسلمانوں کوخطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ علم حاصل کرو خواہ تمھیں اس کے لیے چین جانا پڑے۔ حالاں کہ اس وقت مدینہ طیبہ اسلامی علوم کا مرکز تھا۔ ہاں رسول مقبولؐ نے فرمایا تھا کہ علم مسلمانوں کا گم شدہ خزانہ ہے، جہاں سے بھی ملے اسے حاصل کرو اور یہ کہ مسلمان مرد و عورت پر یک ساں علم حاصل کرنا فرض ہے۔ فرض کا مطلب سمجھتے ہو کیا ہے؟ یعنی علم حاصل کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ یہ علم حاصل کرنا جہالت کے خلاف جہاد ہے۔ یہ برداشت اور رواداری مسلمانوں کا ہتھیار ہے۔
پیار و محبت سے انسانوں کے دل جیتے جاتے ہیں۔ اس سے اسلام پھیلتا ہے کہ یہ اسلام کی اصل روح ہے۔
1,208 total views, no views today


