یوں تو سوات کرۂ ارض پر دنیاوی جنت سے کم نہیں ہے۔ ہر سال گرمیوں میں سیاح جوق در جوق سوات کا رخ کرتے ہیں۔ بعض سیاح تو ایسے ہوتے ہیں کہ وہ گرمائی موسم سوات میں گزارتے ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے سوات میں دہشت گرد براجماں تھے جس کی وجہ سے سیاح بہت کم سوات آتے تھے۔ گزشتہ سالوں امن بہ حال ہوگیا، تو کچھ امید ہوچلی کہ سوات کی رونقیں پھر سے بہ حال ہوجائیں گی لیکن اٹھائیس جولائی 2010ء کے سیلاب نے سوات میں وہ تباہی مچائی کہ دو ہزار سال کی تاریخ میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔
کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش کے سال ایک خوف ناک سیلاب آیا تھا، جس سے بت کڑہ کے بدھ مت آثار ملبے میں دب گئے تھے (بہ حوالہ پروفیسر ڈاکٹر ٹوچی، اٹالین آرکیالوجسٹ)۔ جب کہ اٹھائیس جولائی 2010ء کا سیلاب تیرات کے میرہ سے دوہزار سال پرانا بدھا کا سٹوپہ بہا کر لے گیا اور اس طرح سیلاب نے اپنی تاریخ رقم کردی۔
سوات سیاحوں کا من پسند علاقہ ہے۔ حالیہ سیلاب سے سیاحت کے خوب صورت علاقے مدین، بحرین، کالام اورباغ ڈھیرئ بری طرح متاثر ہوئے، جس سے سیاحت کے شعبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ محکم�ۂسیاحت اور سوات انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ سیاحوں کے لیے جنگی بنیادوں پر سوات میں نئے سرے سے خوب صورت مقامات کا تعین کریں، اس لیے کہ سوات میں صحت افزاء اور پر فضاء مقامات کی کوئی کمی نہیں۔ اس سے مینگورہ، سیدو شریف کے مقامی ہوٹلوں کو کافی فائدہ ہوگا۔ مینگورہ بازار میں سیاحوں کی آمد سے کاروبار کو چار چاند لگ جائیں گے۔ کیوں کہ سیاحتی مقامات مینگورہ، سیدو شریف کے قریب واقع ہوں گے۔ مثلاً منگلور کی جانب بنجوٹ ویلی سیاحوں کے لیے ایک پر کشش وادی ثابت ہوسکتی ہے۔ شنگرء، سنڈہ سرے، دوہ سرے، سیاحوں کے لیے جاذب نظر علاقے اور اسپاٹ ثابت ہوسکتے ہیں۔ ملم جبہ اور شانگلہ ٹاپ جو کہ پرکشش اور خوب صورت جگہیں ہیں، سیاحوں کے لیے ارینج کیے جاسکتے ہیں۔ چارباغ سائیڈ پر طوھا یا طووا، منگلتان، بلکہ دریائے سوات کے ساتھ ساتھ بہت سارے علاقے سیاحوں کے لیے جنت سے کم نہیں ہوں گے۔ مینگورہ کے قریب جامبیل سائیڈ پر سنگر، سیدوشریف کی جانب اسلام پور، مرغزار ویلی جو سیاحوں میں پہلے سے مشہور ومعروف ہیں، بریکوٹ کی جانب پنجی گرام ، عباس چینہ ، املوک درہ ، کڑاکڑ ، ناٹ میرہ، کنڈاک،جہانگیر کی وادی، اس طرح شموزو علاقہ میں چونگئ زرہ خیلہ اور نیموگرام ایک تاریخی مقام ہے۔ میادم کی جانب سیاحوں کے لیے ایک بسا بسا یا ہوا شہر پہلے سے موجود ہے جس میں ہوٹلز، پی ٹی ڈی سی موٹل اور مختلف ریسٹ ہاؤسز بھی ہیں۔ یہ واقعی سیاحوں کے لیے ایک پر کشش وادی ثابت ہوگی۔
ہاں، اگر سوات انتظامیہ مدین، بحرین اور کالام کے لیے ایک آرام دہ سڑک کا انتظام کرے، توسوات سیاحت کے میدان میں بہت آگے جاسکتا ہے۔ ویسے ان مقامات تک ہیلی کاپٹر سروس سیاحت کے لیے ایک نفع بخش قدم ثابت ہوگا۔ اس کے علاوہ بدھ مت زائرین کے لیے سوات میں خصوصی مراعات اور آسائشوں کے لیے اقدامات کیے جائیں، تو مشرق بعید کے بدھ مت کے پیروکار زیادہ سے زیادہ تعداد میں سوات آنے کے لیے بے تاب ہوں گے۔ کیوں کہ سوات بنیادی طورپر بدھ مت والوں کے لیے ایک مقدس علاقہ ہے، اب اس کے لیے سوات میوزیم کو پھر سے سجایا جا رہا ہے اوربدھا کی وہ تمام نوادرات ٹیکسلا سے لائی جا چکی ہیں،جو سوات میں شورش کی وجہ سے حفاظت کے طور پر سوات سے منتقل کی گئی تھیں۔
سوات میں اَپر سوات ایک پرفضا علاقہ ہے جس میں سیب اور آڑو کے باغات کثرت سے ہیں۔ یہ پورا علاقہ سیاحوں کی دل کشی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس علاقے کی سیاحت سے مقامی ٹرانسپورٹ اور ہوٹلوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
بس سیاحوں کے لیے پُرکشش سرکاری اور نجی مراعات کا اعلان کرنا پڑے گا اور اسے عملی طورپر نافذ کرناپڑے گا۔
980 total views, no views today


