تحریر : ارشد علی خان
الیکشن میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کی طرف سے اپنے کارکنوں اور عوام کو ایک انتخابی نعرہ دیا جاتا ہے اسلام ، امن ، تبدیلی ، پختونوں کے حقوق اور دیگر نعرے سیاسی جماعتوں کی طرف سے ماضیمیں لوگوں کو مل چکے ہیں تاہم کامیابی کے بعد ان نعروں کو عملی جامہ پہنانے میں کونسی سیاسی جماعت کامیاب ہوتی ہے اور کس جماعت کو ناکامی کا سامنا رہا یہ قارئین کرام پر چھوڑتے ہیں جو اس حوالے سے بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں لیکن الیکشن 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور حلقہ این اے 4 کیلئے تحریک انصاف کے نامزد اُمیدوار مراد سعید نے حلقہ کے عوام کو ایک نیا نعرہ دیا کہ ” بجلی زما مرضی زما ” اور انتخابی مہم کے دوران وہ اس نعرہ کو متعارف کرایا اور ان کے منہ سے نکلنے والے یہی الفاظ لوگوں کے زبان پر آ گئے مراد سعید انتخابی مہم کے دوران لوگوں پر واضح کرتے رہے کہ اگر مرکز میں بھی تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تو پھر بجلی پر بھی ہماری گرفت ہو گی

اس کا بٹن ہمارے ہاتھ میں ہو گا لوگوں نے تحریک انصاف کو بھاری مینڈیٹ دیکر کامیاب کرایا اور اس اُمید کے ساتھ ان کو مینڈیٹ دیا کہ اس بار لوگوں کو بجلی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات مل جائے گی لیکن 25 جولائی کے الیکشن میں کامیابی تو تحریک انصاف کو حاصل ہوئی لیکن 2 اگست سے پورے سوات اور ملاکڈ ڈویژن میں بجلی کی طویل ترین بریک ڈاؤن اور شرمناک و اذیت ناک بجلی لوڈ شیڈنگ کا جو آغاز ہوا ہے وہ تاحال جاری ہے اور یوں محسوس کیا جا رہا ہے سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے لوگوں کو تحریک انصاف کا ساتھ دینے کی سزا دی جا رہی ہے 2 اگست سے شرو ع ہونے والے بجلی لوڈ شیڈنگ جو کہ گھنٹوں پر محیط ہوتا ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا اس دوران 2 یا تین تین دنوں کیلئے بھی بجلی تسلسل کے ساتھ بند کی گئی لوگوں کو ایک ایسے صورتحال سے دوچار کرنا پڑ رہا ہے جو برداشت کے باہر ہوتاجا رہا ہے سوات میں بجلی کی طویل ترین بریک ڈاؤن اور ناروا لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کو شدید پریشان کر رکھا ہے کاروباری سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئی ہے لوگوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس صورتحال کے باعث سوات کے طول و عرض میں پانی کا بحران بھی پیدا ہو گیا ہے

لوگ پانی کے حصول کیلئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں پانی کی قلت نے سوات میں ایک نیا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے شدید گرمی اور بجلی لوڈ شیڈنگ اور پانی کی قلت نے اہل علاقہ کو زندہ درگور کر دیا ہے سوات میں چھوٹے موٹے فیکٹریاں بھی بند ہو کر بیروزگاری کا ایک نیا سیلاب اُمڈ آیا ہے ۔ جبکہ طلبہ کو بھی اس سللسے میں شدید پریشانی کا سامنا ہے ان کی پڑھائی بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے جبکہ واپڈا کے ان مظالم کیخلاف عوام سڑکوں پر بھی نکل آئے ہیں شدید مظاہرے کئے جا رہے ہیں اور واپڈا و حکمرانوں کیخلاف شدید نعرے بازی بھی کی جا رہی ہے لیکن لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ میں کمی کی بجائے مزید اضافہ کیا گیا ہے اور یہاں تک کہ عید کے دنوں میں بھی واپڈا والوں نے لوگوں کو معاف نہیں کیا ان پر مکمل طور پر بجلی بند کرائی گئی اور خصوصاً عید کے روز واپڈا کی طرف سے لوگوں پر بجلی بندش کے ڈرون حملے ہوئے ان کے اس مظالم کیوجہ سے عید کی خوشیاں بھی ماند پڑ گئی لوگوں کو عید کی خوشی سے دو ر رکھا گیا عید کے دنوں بجلی مکمل طو رپر غائب کرنے پر لوگوں میں تشویش پائی گئی اور وہ مراد سعید جنہوں نے الیکشن مہم کے دوران بجلی زما مرضی زما کا جو نعرہ متعارف کرایا تھا

حلقہ این اے 4 سے الیکشن جیتنے کے بعد سوات سے اس طرح چلے گئے کہ واپس دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا نہ بجلی پر ان کی مرضی کے حوالے سے کوئی بات ہوئی اور نہ مراد سعید کی طرف سے واپڈا کے ظلم کی کوئی مذمت کی گئی لوگوں کو تو مراد سعید نے ایک انتخابی نعرہ دیا لیکن پھر جن لوگوں کو نعرہ دیا ان کا پوچھا تک نہیں بجلی بندش پر مراد سعید کی خاموشی بھی سمجھ سے بالاتر ہے اور حلقہ کے عوام ان سے ان کی خاموشی کی وجہ پوچھنے میں حق بجانب بھی ہے کیونکہ ایک طرف ان کے حلقے کے لوگوں کو ظالمانہ لوڈ سیڈنگ اور بجلی بحران کا سامنا ہے اور دوسری طرف ان کے نمائندے نہ صرف اس صورتحال پر خاموش ہے بلکہ جیتنے کے بعد وہ مکمل طور پر سکرین سے بھی غائب ہو گئے ہیں اور اب تو وہ وزیراعظم کے ارد گرد بھی نظر نہیں آ رہے ہیں مراد سعید کی توجہ ان چند سطور کے ذریعے ان کے اس وعدے کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں جو انہوں نے انتخابی مہم میں لوگوں سے کیا تھا لوگوں نے ان سے کیا گیا وعدہ تو پورا کر دیا ہے

لیکن اب مراد سعید کو بھی اپنا وعدہ پورا کرنا ہو گا عوام ہر گز نہیں چاہتے کہ مراد سعید فوری طور پر بجلی لوڈ شیڈنگ ختم کریں لیکن یہ ضرور چاہتے ہیں کہ مراد سعید لوگوں کے مسائل اور مشکلات سے خود کو آگاہ رکھے اور اگر ان سے کسی کی ملاقات ہو جائے تو وہ ان کو عزت و احترام دیں تاکہ لوگوں اور عوام کے اس نمائندے میں فاصلے کم ہو سکے الیکشن جیتنے کے بعد مراد سعید کی طرف سے عوامی مسائل اور خصوصاً بجلی لوڈ شیڈنگ پر مکمل خاموشی شکوک و شبہات جنم لینے کا سبب بن رہی ہے ۔

2,436 total views, no views today



