تحریر ؛۔ رشید احمد
خیبرپختونخوا حکومت نے “بستہ اُٹھاؤ سکول آؤ ” کے نام سے سرکاری سکولوں میں بچوں کو داخل کرانے کی مہم 2018 کا باقاعدہا فتتاح گزشتہ رو ز کر دیا وزیراعلیٰ محمود خان نے شہید حسین شریف گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول پشاور میں منعقدہ تقریب میں داخلہ فارم پُر کرکے آغاز کر دیا ۔ امسال داخلہ مہم میں آٹھ لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخل کرانے کا ہدف مقرر کر لیا گیا ہے جبکہ 2017 میں محکمہ تعلیم کی اطلاع کے مطابق 7لاکھ بچوں کو داخل کرایا گیاتھا ۔ صوبائی حکومت کی جانب سے شرح خواندگی بڑھانے اور سکول سے باہر بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی کوشش کو مثبت قرار دیا جا سکتاہے آئین پاکستان کے آرٹیکل 25-1 کے تحت تعلیم سب کیلئے کا تقاضہ یہ ہے کہ اس ملک کے ہر شہری کو بلا تفریق و امتیاز تعلیم کی مفت سہولت دینا ریاست کی ذمہ داری اور فریضہ ہے تحریک انصاف نے 2013 میں اقتدار سنبھالتے ہی تعلیمی ایمرجنسی نافذ کر دی تھی تعلیمی بجٹ کو 63 ارب روپے سے بڑھا کر 138 ارب کر دیا گیا جس کا تواتر کے ساتھ ذکر کیا جاتا رہا ہے ماہرین کا ماننا یہ ہے کہ تعلیم پر سرمایہ کاری قوم کی بھلائی اور روشن مستقبل کی جانب اہم قدم ہے

صوبائی حکومت کی یہ کاوشیں قابل قدرہیں لیکن داخلہ مہم کے ساتھ اس اہم پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں میں گنجائش کتنی ہے اور نئے بچوں کو دآخل کرانے کے بعد اُن کو کلاس رومز میں کھپانے اور ان کی پڑھائی کی صورت کیا ہو گی ۔ داخلہ مہم سے قبل تمام اضلاع کے ڈی ای اوز سے ان کے متعلقہ سکولوں میں کمروں کی تعداد ، گنجائش اور سہولیات کے بارے میں جامع رپورٹ طلب کی جاتی اور اس کی روشنی میں داخلہ مہم کا ہدف مقرر کر لیا جاتا تو اس تو اس سے آسانی رہتی لیکن اس کے بغیر آٹھ لاکھ بچوں کا ہدف مقرر کرنا سمجھ سے بالا تر ہے تحریک انصاف نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں نئے پرائمری سکولوں کی تعمیر کیلئے یہ پالیسی بنائی تھی کہ نئے بننے والے سکول دو کی بجائے چار کمروں پر مشتمل ہونگے جن میں چار دیواری ، بجلی ، پینے کا صاف پانی ، ٹوائلٹ ، فرنیچر اور اساتذہ کی مطلوبہ تعداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا لیکن بعض اضلاع میں اس پر عمل درآمد ہوا ہو گا تاہم زیادہ اضلاع میں سکولوں کی عمارتیں وہی ہیں لیکن ہر سال اس پر مزید طلبہ کے داخلوں کا بوجھ ڈالا جاتا ہے یہ سوچے بناء کہ اگر پرائمری گرلز ، بوائز سکولوں کے کلاسوں میں پہلے ہی سے زائد بچے ، بچیاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور اس میں مزید بچے بھی بٹھائے جائیں تو اس سے کتنے مسائل پیدا ہونگے اس پر غور کرنا حکومت اور خصوصاً محکمہ تعلیم کی ذمہ داری ہے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی حکومت نے 40ہزار سے زائد اساتذہ بھرتی کئے ہیں

تاہم صوبائی حکومت کے مطابق پندرہ ہزار اساتذہ کی اب بھی کمی ہے ایک ہفتہ قبل محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے سکولوں میں طلبہ کی بڑھتی تعداد اور گنجائش نہ ہونے کے حوالے ے مسلسل شکایات آنے کے بعد صوبے کے تمام اضلاع کے سکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر کے بارے میں رپورٹ طلب کی ہیں ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم نے ان تجاویز پر بھی غور شروع کر دیا ہے جس کی رو سے گنجان آباد علاقوں میں واقع سکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر کیلئے اراضی نہ ہونے کی صورت میں دوسری منزل بنانے اور فائبر کلاس رومز قائم کرنے پر سوچا جا رہا ہے محکمہ تعلیم کو گزشتہ تین سال سے داخلہ مہم کے تحت سکولوں میں بچوں کو داخل کرانے کے بارے میں مکمل آگاہی ہے اور اسی بات کو مد نظر رکھ کر سکولوں میں اضافی کمرے ، دوسری منزل بنانے یا کوئی بھی متبادل طریقے سے کلاس رومز بنانے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے لیکن اس حوالے سے کام نہیں کیا گیا جس کا جواب محکمہ تعلیم کے حکام سے لینا چاہئے ہر وہ حکومتی پالیسی عوام کے اجتماعی مفاد میں ہوتی ہے جس کو فائلوں سے باہر لا کر عملی جامہ پہنایا جائے اب جبکہ صوبائی حکومت نے داخلہ مہم کا آغاز کر دیا ہے تو محکمہ تعلیم کو ہنگامی بنیادوں پر سرکاری سکولوں میں اضافی کمرے بنانے کا خیال آیا داخلہ مہم کے ساتھ ساتھ اضافی کمروں کی تعمیر کا عمل کس طرح جاری رہے گا اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے

ہماری بد قسمتی یہ بھی ہے کہ خیبر پختونخوا ضرورت سے زائد بجلی پیدا کرنے والا صوبہ ہے اور سب سے زیادہ لوڈ شیڈنگ یہاں کی جارہی ہے طویل لوڈ شیڈنگ کے باعث سرکاری سکولوں کے کلاس رومز میں بیٹھے معصوم بچوں کا گرمی کے مارے جو برا حال ہو رہا ہے یہ نہایت دکھ کی بات ہے اور بچوں کی مشکلات کو مد نظر رکھ کر گرمی کی تعطیلات کے بعد جب سکول کھل گئے تو شدید گرمی کیوجہ سے دس دن مزید چھٹیاں دی گئیں اسی طرح سکولوں میں پینے کے پانی کے مسائل کو پوری طرح حل نہیں کیا گیا ٹوائلٹ بھی زیادہ سکولوں میں نہیں ہیں ۔ ان تمام سہولیات کے حوالے سے اینڈی پینڈنٹ مانیٹر نگ یونٹ (IMU ) پہلے ہی اپنی رپورٹ صوبائی حکومت کوپیش کر چکی ہے

اب شنید یہ ہے کہ صوبے کے جن سکولوں میں بجلی ، پانی ، چار دیواری ، فرنیچر کی سہولت نہیں ہے ان سکولوں کے دوبارہ سروے کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب دوبارہ سروے کی ذمہ داری بھی آئی ایم یو کے سپرد کی گئی ہے تو اس ادارے نے پہلے جو رپورٹ پیش کی اس پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا گیا کہ اب دوبارہ سروے کی ضرورت پیش آ گئی ہے صوبائی حکومت نے لوڈ شیڈنگ کے پیش نظر سرکاری سکولوں کو سولر سسٹم پر منتقل کرنے کا ایک منصوبہ شروع کیا تھا اور متعدد سکولوں کو سولرائزڈ کیا گیا تاہم بعد ازاں اس منصوبے پر کام روک دیا گیا اور زیادہ تر سکول اس سہولت سے محروم رہ گئے اگر اس منصوبے کو مکمل کیا جاتا تو شدید گرمی میں بچوں کو لوڈشیڈنگ سے نجات مل جاتی لیکن یہ منصوبہ بھی ادھورا چھوڑ دیا گیا گزشتہ سال جو داخلہ مہم چلائی گئی اور نئے بچوں کوداخل کرایا گیا تھا بوائز سکولوں میں گنجائش نہ ہونے کے باعث ان بچوں کو گرلز پرائمری سکولوں میں بھیجا گیا اور بعد میں کچھ بچے بوائز سکولوں کو پھر بھجوا دئیے گئے لہذا صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم داخلہ مہم کے ساتھ ان بچوں کیلئے گنجائش ہونے یا نہ ہونے کے پہلو کو نظر انداز نہ کریں ۔

3,898 total views, no views today



