مینگورہ،کورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی نے کہا ہے کہ سوات میں امن لوگوں کی قربانیوں کامرہون منت ہے، سوات کے عوام کے جذبے کو سلام پیش کرتا ہوں ،سوات میں امن کا فائدہ ابھی تک عوام نے صحیح طور پر نہیں اٹھا یا ، مقامی ہوٹل میں سوات ٹریڈ اینڈ سمپوزیم کے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ
جنرل خالد ربانی کا کہنا تھا کہ سوات میں صنعتی نمائش کا انعقاد علاقے کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگا سمینار میں صوبائی وزیر صنعت ضیاء اللہ افریدی، قومی اسمبلی کی رکن عائشہ سید، جی اوسی سوات میجر جنرل جاوید بخاری، کمشنر ملاکنڈ افسر خان، ڈی آئی جی ملاکنڈ عبد اللہ خان سمیت دیگر اعلیٰ سول و فوجی حکام بھی شریک تھے ،کور کمانڈر پشاور نے کہا کہ جب بھی فاٹا کے دورے پر جاتا ہوں تو وہاں پرسوات کی بحالی، لوگوں کے جذبے اور ترقی کی مثال پیش کر تا ہوں ،انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سوات میں امن کے قیام کو چارسال کا عر صہ گزر جانے کے باوجود بھی سول انتظامیہ پوری طرح ذمہ داریاں لینے کیلئے تیار نہیں گذشتہ چار سال سے پاک فوج کالام اور مالم جبہ میں فیسٹولز کاانعقاد کر تی آ رہی ہے،سمینار سے خطاب کرتے ہوئے نامور تجزیہ کار اور نیوکلئیرو دفاعی امور کی ماہر ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ1 200سے 2004تک پاکستان میں دہشت گردی کے اثرات اور نقصانات کے حوالے سے کسی کو کچھ معلوم نہیں تھاانہوں نے کہا کہ 2008کے بعد دہشت گر دی بڑھنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو دہشت گردی کے اثرات کے بارے میں معلوم ہونا شروع ہو گیا انہوں نے کہا اگر ہم دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو اپنے پاؤں پر کھڑاہونا ہوگا جو کہ معاشی ترقی کے بغیر ممکن نہیں ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا ہے کہ سوات میں دہشت گردی کے خاتمے کے بعد حالات تیزی کے ساتھ بہتر ہو رہے ہیں اور آج پوری قوم کو فخر ہے کہ ملک کے GDPمیں سے 13فیصد حصہ صرف سوات کا ہے، سمینارکے اختتام پر یونیورسٹی کے طلباء نے ڈاکٹر ماریہ سلطان سے امن و امان کی صورتحال،دفاعی امور اور معاشی ترقی کے حوالے سوالات بھی کئے۔
496 total views, no views today


