سوات،شانگلہ میں وزیر اعظم کے مشیر کے قافلے پر دھماکہ کیس میں ایک ملزم کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے2سال قید کی سزاسنادی ،مقدمے میں شامل کالعدم تحریک طالبان کے امیر مولانا فضل اللہ،شاہد اللہ شاہد اور دوست محمد کو اشتہاری قراردیدیا گیا
،اس دھماکے میں پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد جاں بحق جبکہ وزیر اعظم کے مشیر انجینئرامیر مقام بال بال بچ گئے تھے ،تین ملزم عدم ثبوت کی بناپر بری کردئے گئے ،مقدمے میں سرکارکی جانب سے سینئر پبلک پراسیکیوٹر سید نعیم خان نے پیروی کی ،مقدمے کی سماعت مکمل ہونے پر انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت (دوم ) کے جج محمد آصف خان نے ایک ملزم نعیم الحق ولد حاجی اکبر سکنہ چکیسر کو جرم 9ATAکے تحت پولیس کو موبائل کال کرکے ذمہ داری قبول اور دھمکیاں دینے پر دو سال قید اور پانچ ہزارروپے جرمانے کی سزا سنادی ہے ،جبکہ اسی طرح تین ملزمان روشن ،اختر اورنورالبشر کو عدم ثبوت کی بنا پر پری کردئے گئے ،اسی مقدمے میں شامل میں کالعدم تحریک طالبان کے امیر مولانا فضل اللہ،شاہد اللہ شاہد اور دوست محمد کو اشتہاری قراردیدیا گیا ہے ،پولیس کے مطابق یہ واقعہ 12جنوری2014کو ضلع شانگلہ میں مارتونگ کے قریب پیش آیا تھا جہاں پر وزیر اعظم کے مشیر انجینئر امیرمقام کے قافلے پر دو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کئے گئے تھے جس میں پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ انجینئر امیر مقام بال بال بچ گئے تھے ۔
376 total views, no views today


