آج کل جسے دیکھو حضرت علیؓ کا قول دہرا رہا ہے کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے، ظلم کا نہیں۔ چاہے دھرنے والے جنونی ہوں یا حکومت کے متوالے ہوں، لیکن عملی طور پر سب اس کے اُلٹ چل رہے ہیں۔ حکومت کے سارے ادارے جبر و ظلم کے مراکز میں بدل گئے ہیں، تو بجلی والے کب خاموش رہنے والے ہیں۔ انھوں نے تو ظلم کی انتہا کردی ہے اُوور بلنگ اور فرضی ایف پی اے معمول بن چکا ہے۔ ظلم و نے ان کو اتنا اندھا کردیا ہے کہ بل تیار کرتے وقت یہ خیال نہیں کرتے کہ کس علاقے کا ٹرانس فارمر کتنے ہفتے خراب رہا ہے۔ پیسکو والوں نے چنگیزیت کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔ ایک نیم پاگل شخص، جو وزیراعظم کا رشتہ دار ہے، محکمۂ برقیات کا فرعون بنا ہوا ہے۔ وہ اور اس کا ننھیال صرف ایک بات جانتے ہیں کہ پیسہ کیسے بنایا جاتا ہے۔ اس میں وہ حرام و حلال کی پروا نہیں کرتے۔ بیرونی سودوں میں کک بیکس لینا اُن کا روز مرہ کا معمول ہے۔ اپنی اقتدار کے بچاؤ کے لیے وہ جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔
کبھی کبھی میں یہ سوچ کر بھی لرز جاتا ہوں کہ جو ظلم پیسکو “PESCO”کے اہل کار ہم غریبوں کے ساتھ کرتے ہیں، ان کا انجام کتنا بھیانک ہوگا۔ اووربلنگ کی ایک مثال دیکھیے۔ ہمارے گھر کے اگست کے مہینے کے بل میں پچیس اگست کو لی گئی ریڈنگ میں دیے گئے اعداد آج یعنی چھے ستمبر تک بھی نہیں آسکے ہیں یعنی تیرہ دن گزرنے کے باوجود ہم اس سے تقریباً بتیس یونٹ پیچھے ہیں۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ اگست کے ابتدائی دو ہفتے اور رمضان کے آخری عشرے میں ہمارا ٹرانس فارمر خراب رہا تھا جس کے بارے میں راقم نے پندرہ اگست کے روزنامہ ’’چاند‘‘ اور ’’زما سوات ڈاٹ کام‘‘ میں تفصیلی رپورٹ دیا ہوا ہے۔ ایک صاحب نے مجھے بتایا کہ مقامی لائن مین کو بلا کر اس سے موجودہ ریڈنگ کی تصدیق کروالو، میں نے اُن کو بتایا کہ موصوف لائن مین صاحب بہ ذات خود ایک چھوٹا موٹا فرعون ہے۔ اس محکمے میں، مَیں نے آج تک کسی میں انسانی ہم دردی کا شائبہ تک نہیں دیکھا ہے۔ میرے ایک پڑوسی صاحب نے بتایا کہ شکر کرو تمھارے بل میں صرف ستّر اسّی یونٹ کی اووربلنگ ہوسکتی ہے، میرا تو دس ہزار سے زیادہ بل آیا ہے جب کہ دو ہفتے تک ٹرانس فارمر بھی خراب تھا۔ اب اس ظلم و زیادتی کا ایف آئی آر ہم کہاں درج کریں؟ عابد شیر علی کے مطابق تو ہم کے پی کے والے سارے بجلی چور ہیں۔ حالاں کہ وہ فیصل آباد والوں کی چوری بھی ہم پر ڈال کر حساب برابر کرلیتا ہے۔ اسّی فی صد بجلی واپڈا والے خود چوری کرتے ہیں، وہ تاوان بھی ہم عام لوگ ہی بھرتے ہیں۔ اگر اس طرح کی چنگیزیت کے باوجود نواز شریف صاحب کا خیال ہے کہ اُن کی حکومت کو کچھ نہیں ہوگا، تو یہ ان کی سوچ کی نا پختگی اور کم فہمی ہے۔ اُن کو سبق سکھانے کے لیے ہی تو کینیڈا کا ایک شہری اور نام نہاد شیخ الاسلام اسلام آباد میں اپنے کرائے کے مظاہرین اور اُن کے بیوی بچوں کے ساتھ ڈی چوک میں تماشا لگائے ہوئے ہیں۔ اور ایک نوآموز سیاست دان بھی اس کا ساتھ دے رہا ہے۔ وہاں پر عوام کو پرجوش تقریروں کے علاوہ زندہ ناچ گانے اور حسینوں کے جلوے مفت میں مہیا کیے جارہے ہیں۔ دوسرے طرف پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا ڈرامہ بھی جاری ہے جس کے ہر اجلاس میں نواز شریف اور اُس کے حواریوں کے کپڑے اُتارنے کا عمل زور و شور سے جاری ہے۔ نواز شریف کا تو دن کا چین اور رات کی نیند حرام ہوگئی ہے۔ بے چارا اپنی جیت سے لطف اندوز بھی نہ ہوسکا۔
حالات اس نہج تک جارہے ہیں کہ ملک کا وجود خطرے میں پڑچکا ہے۔ مگر نواز شریف گندی جمہوریت کے نام پر اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں، اُدھر وہ ’’نیم ملا‘‘ جمہوریت کی بساط لپیٹنے پر تلا ہوا ہے۔ فوج آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ میں پھنسی ہوئی تھی کہ اوپر سے بھارت نے چناب میں دس لاکھ کیوسک پانی چھوڑ کر نئی مصیبت کھڑی کردی ۔ فوجی جوان سیلاب زدہ علاقوں میں عوام کی جانیں بچانے میں لگی ہوئے ہیں اور جن کا یہ کام ہے، وہ اسلام آباد میں دھرنے والوں کی ترلے کر رہے ہیں کہ ذرا سانس تو لینے دیں ملک کی اس گھمبیر سورت حال میں ہم یہ بھول گئے کہ اپنے بجلی کے بل کا رونا کس کے آگے روئیں۔ ماما نواز کے پاس جائیں یا بھانجے کے پاس۔ پھر ہم نے سوچا کہ ایک اور ایف آئی آر اللہ تعالیٰ کے حضور میں درج کروادیں تاکہ پیسکو والوں کو اپنی ظلم و جبر کی سزا مل سکے۔
ہر ظلم تیرا یاد ہے بھولا تو نہیں ہوں
اے وعدہ فراموش میں تجھ ساتو نہیں ہوں
*۔۔۔*۔۔۔*
886 total views, no views today


