مینگورہ،سوات قومی جرگہ نے ایک وضاحتی بیان جاری کرکے کہا ہے کہ جرگہ مشران کا ایک اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا ، جس کے فیصلوں اور احساسات کو میڈیا کے ذریعے مشتہر کیا گیا ، اخبارات میں رپورٹ کئے گئے بیان کی شام سوات قومی جرگہ کے ایک اہم رہنما حاجی زاہد خان کو سیکورٹی حکام نے آرمی پوسٹ قمبر بلوایا
اور موقع پر موجود کرنل سیکندر نے مہذب انداز میں حاجی زاہد خان سے مذکورہ بیان میں شائع شدہ لفظ ظلم پر اپنے احساسات اور تحفظ سے اگاہ کیا جس پر حاجی زاہد خان نے وضاحت کی کہ سوات قومی جرگہ نے سوات کے عوام کے مفاد میں اپریشن راہ حق سے لیکر اب تک امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سیکورٹی اداروں کی ہر مثبت اقدام کی حمایت کی ہے اور اس راہ میں دی جانیوالی تمام تر جانی ومالی قربانیوں کی قدر کرتے ہوئے فوجی وسویلین شہداء کو خراج تحسین پیش کیا ہے ، بیان میں مزید کہا گیا کہ سوات قومی جرگہ مذکورہ بیان میں لفظ ظلم کو حذب کرتاہے ، البتہ بیان کے دیگر مندرجات کی صحت پر قائم ہے اور واضح کرتا ہے کہ بلاجواز کرفیو کے نفاذ کا خاتمہ کیا جائے اور سڑکوں پر قائم چیک پوسٹوں پر نرم اور شائستہ رویہ اپنا کر عوام کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے ، تا ہم سوات قومی جرگہ حسب ضرورت انٹیلی جنٹس بنیادوں پر ٹارگیٹیڈ اور فوکس اپریشن کی اب بھی حمایت کرتا ہے ، سوات قومی جرگہ نے مذکورہ میٹنگ میں کرنل سیکندر کی موجودگی میں ایک جونیئر فوجی افیسر میجر عمیر کے ناروا اور ناشائستہ رویئے پر حد درجہ حیرت اور تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ حاجی زاہد خان جیسے رہنما کو بے بنیاد الزامات کی پاداش میں سنگین نتائج بھگتنے کے دھمکی دینے کے شدید مذمت کرکے واضح کرتا ہے کہ حاجی زاہد خان سوات کے عوام کا ہر دل عزیز رہنما ہے اور انہوں نے سوات میں امن کے قیام ،دہشت گردی کے خاتمے اور یہاں تعمیر وترقی کے لئے مثالی جدوجہد کی ہے جس کی پاداش میں اس پر قاتلانہ حملہ کرکے شدید زخمی بھی کیا گیا ہے جس کی ذمہ داری دہشت گر دقوتیں قبول بھی کر چکی ہے ،لہٰذا سوات قومی جرگہ حکومت اور سیکورٹی اداروں کے حکام بالا سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ مذکورہ ارمی افیسر کی ناروا سلوک کا نوٹس لیا جائے اور حاجی زاہد خان اور ان کے خاندان کی سیکورٹی یقینی بنائی جائے ۔
456 total views, no views today


