پشاور سے شائع ہونے والے ایک بڑے اخبار نے اپنی بارہ ستمبر 2014ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ ورلڈ بنک کی سفارش پر موجودہ گورنر صاحب نے فاٹا سیکرٹریٹ کے تحت اخراجات کے اندرونی آڈٹ کے نظام کو قائم کروانے کا حکم دیا ہے۔ خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسی سفارش کی سابقہ گورنر صاحب اور اُس وقت کے فاٹا کے چیف سیکرٹری (ایڈیشنل) نے مخالفت کی تھی۔ ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ سابقہ گورنر اور چیف سیکرٹری نے بلاوجہ ورلڈ بنک کی سفارشات کو نامنظور نہ کیا ہوگا۔ ضرور اہم وجوہات ہوں گی۔ کیوں کہ گورنر، سینئر بیوروکریسی اور ورلڈ بینک کی حیثیت غیر معمولی ہے اور اُن کا انکار بھی مستحکم وجوہات پر مبنی ہوگا۔ اب نئے گورنر صاحب جو زیادہ تجربہ کار ہیں، نے بھی مستحکم وجوہات کی بنا پر اندرونی آڈٹ کے نظام کا حکم صادر کیا ہوگا۔
فاٹا اورپاٹا کا وجود اکیسویں صدی کے ایک جوہری جمہوری ملک میں کافی مضحکہ خیز ہے۔ ایک ملک اور ایک آئین کے اندر دو اور تین نظام ہائے حکومت حکام اور حکم رانوں کی نا اہلیت پر دال ہے۔ آج ملکی افواج اپنے ہی ملک میں بر سر پیکار ہیں۔ وجہ صرف ایک پاکستان میں تین قسم کی حکومتوں کا وجود ہے۔ کل سوات وغیرہ جو پاٹا ہے، میں افواجِ پاکستان گرم جنگ میں ملوث تھیں۔ آج وہ وزیرستان جو فاٹا ہے، میں برسر پیکار ہیں۔ اگر پاکستان سارا ایک پاکستان ہوتا، تو آج حکومت اور افواج ان علاقوں سے اسی طرح بے فکر ہوتیں جس طرح وہ لاہور، حیدر آباد وغیرہ سے ہیں۔ آئین پاکستان اور چند دوہری پرانی دستاویزات نے پاٹا اور فاٹا کے عوام کو ملک کے تیسرے نمبر کا شہری قرار دیا ہے اور ان تیسرے درجے کے شہریوں کے ذہنوں اور فکر پر کوئی بھی شخص یا گروہ کسی بھی قسم کا قبضہ کرسکتا ہے۔
فاٹا کے حقائق بہت خوف ناک ہیں، وہاں عام لوگوں کو جس طرح ہر قسم کے انسانی حقوق سے محروم کیا گیا ہے، وہ نہ دورِ جدید میں اور نہ ادوارِ قدیم میں قابل تعریف تھیں۔ پنجاب اور سندھ کے سنجیدہ شہریوں کو شاید ہی معلوم ہو کہ فاٹا میں ایک تحصیل دار کتنا طاقت ور شخص ہوتا ہے۔ پولی ٹیکل ایجنٹ اور اُس جیسے اعلیٰ افسران تو قرونِ قدیم کے مطلق العنان بادشاہوں سے بھی زیادہ طاقت ور احتساب سے مبرا ہیں۔ وہ سرکاری رقوم کو کس طرح خرچ کرتے ہیں؟ اُن سے پوچھ گچھ نہ ہونے کے برابرہے۔ پھر ہم پاکستانیوں کامجموعی کم زور کردار، خودسری اور قانون شکنیاں اس حد تک پہنچ گئی ہیں کہ معمولی خرابیوں نے بہت بڑے فساد کی شکل اختیار کی ہے۔ اب گورنر صاحب نے عالمی بنک کے کہنے پر احتساب کا ادارہ یا نظام وضع کرنے کی ہدایت کی ہے، تو اس کے راستے میں مختلف قسم کے اور بہت ہی مؤثر رکاؤٹیں کھڑی کی جائیں گی۔ ریکارڈ تلف کیا جائے گا۔ نالائق اور قابل خرید افراد کو آڈٹ ٹیموں میں ڈالا جائے گا۔ اس لیے گورنر سیکرٹریٹ اور فاٹا سیکرٹریٹ کے حکام کو بہت ہی سنجیدہ اور خدا خوفی پر مبنی پالیسی وضع کرنی چاہیے۔ فاٹا کی آئینی حیثیت میں بڑے بڑے اسمگلروں، بڑے بڑے سرمایہ داروں اور سرمایہ کاروں اور چھوٹے گدھوں اور گیدڑوں کے مفادات ہیں۔ آج سے نہیں دو سو سال سے یہ لوگ رکاؤٹ ہوں گے۔
فاٹا اور پاٹا میں احتساب سے فرار کو کچھ آئینی موشگافیوں نے ممکن بنا دیا ہے۔ اس لیے اندرونی آڈٹ کے نظام کے قیام کے لیے قانونی تکیہ (Legal Support) ضروری ہوگا۔ ہماری تجویز ہے کہ ماہرین کے مشورے سے گورنر صاحب ایک مفصل ریگولیشن جاری کریں جس کے تحت پاٹا اور فاٹا میں انٹرنل آڈٹ، پرفارمنس آڈٹ ممکن ہوجائے۔ اس مقصد کے لیے عالمی بنک یا دوسرے امداد دینے والے ادارے مالی تعاون کریں۔ کیوں کہ محدود پیمانے پر اور وقتی سطح پر اندرونی آڈٹ نظام کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ گورنر اور صدر کو آڈٹ کے انکشافات پر سماعت اور فیصلے کرنے کے لیے اختیارات ہونے چاہئیں۔ مجوزہ ریگولیشن کے تحت صوبائی سطح پر بھی صوبائی آڈٹ متعارف کر وایا جائے۔ آئین میں اٹھارویں ترمیم نے ان اقدام کو تکیہ فراہم کردیا ہے۔ اس وقت صوبے کے دفاتر میں بھی بے شمار بد عنوانیاں موجود ہیں۔ آڈٹ کے معاملے میں مرکز کی اجارہ داری (Monopoly) اب دم توڑ رہی ہے۔ کیوں کہ انگریزوں کے زمانے میں حکومتی ادارے اور محکمے نہ اتنے زیادہ تھے اور نہ اخراجات اربوں میں تھے۔ اس لیے آڈیٹر جنرل کا محکمہ ہر جگہ پہنچ سکتا تھا۔ اب نہ وہ حالات ہیں اور نہ مرکزی حکومت میں اُتنی قوتیں ہیں۔ بہت سارے محکمے سال ہا سال تک آڈٹ سے محروم ہوتے ہیں۔ ڈھیر سارے اخراجات کو باقاعدہ آڈٹ سے عمداً باہر رکھا گیا ہے۔ صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ سرکاری کالجوں میں طلبہ و طالبات سے وصول کردہ رقوم کروڑوں میں ہیں، لیکن ان کو پرائیویٹ فنڈ کا نام دے کر آڈیٹر جنرل کی حد اختیار سے باہر رکھا گیا ہے۔ اس میں کیا کچھ نہ ہوتا ہوگا۔ اس طرح صوبائی لوکل فنڈ آڈٹ کی افادیت سوالیہ نشان ہے۔ سرکاری تعلیمی بورڈز، سرکاری یونی ورسٹیاں شاید اس سے بھی آزاد ہیں۔ غالباً اس محکمے کا دائرۂ کار بہت محدود ہے۔ کم از کم میں نے نہیں سنا ہے کہ لوکل فنڈ آڈٹ کی معلومات صوبائی اسمبلی میں زیر بحث آئی ہوں۔ تعلیمی بورڈز اور یونی ورسٹیاں تو طلبہ اور والدین کے لیے بڑی آمائش بن چکی ہیں۔
چوں کہ زیر بحث موضوع میں گورنر صاحب اور ورلڈ بنک دونوں کی دل چسپی سامنے آئی ہے۔ اس لیے اس معاملے کو وسیع ترین مقاصد کے نکتہ نظر سے دیکھا اور نمٹایا جائے۔ جن حضرات اور اداروں نے اندرونی آڈٹ کی مخالفت کی ہے، اُن کے نکتہ نظر اور تحفظات کونظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اُن کو سامنے رکھتے ہوئے اندرونی آڈٹ، بیرونی آڈٹ، کار کردگی کی جانچ وغیرہ کے لیے ایک نئے نظام کے وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ آئین میں اس معاملے کے لیے کافی گنجائش موجود ہے۔ وہ لوگ اور ادارے جو بغیر کارکردگی کی تنخواہیں وصول کرتے ہیں اور کرپٹ عناصر جو عموماً طاقت ور ہوتے ہیں، اس راستے میں مؤثر رکاؤٹیں ڈالیں گے۔ پھر ہر طرف پھیلی ہوئی نالائقی بھی سد راہ ہوگئی لیکن مناسب تحقیق (Study) کے بعد عمدہ ریگولیشن اس اہم ضرورت کو پورا کردے گا۔
796 total views, no views today


