ناچ ناچ میں ہم رادھا کے ہلتے ہلتے’’باڈی اسٹرکچر‘‘ کا تعریفی و تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔ اپنڑی نظریں اُٹھتی ہیں، تو پہلے اس کے قدموں پر پڑتی ہیں، پھر اُٹھتی ہی چلی جاتی ہیں۔ کمریا پر کچھ دیر ٹکتی ہیں، پھر متحرک ہو جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ صراحی نما گردنَ اٹک جاتی ہیں۔ یہی پر طویل لگژری قیام کے بعد ڈاؤن ورڈ ٹرینڈ لیتی ہیں اور قدموں پر ’’ ہَلٹ‘‘ کرتی ہیں۔ اس عمل کے گردان در گردان میں رادھا کی گردن کے اوپر پڑے حصے یعنی چہرے کی زیارت کو ہم اگنور کرتے ہیں۔ نظریں چہرے پر کیوں لے جائی جائیں؟ سیدھی چولی پر کیوں نہ لے جائی جائیں؟ جہاں تفریحِ طبع کا سارا مواد موجود ہے۔ اور پھر چہرے کا کیا بھروسہ، یہ توگرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے، تو ’’رنگ میں خواہ مخواہ بھنگ‘‘ کیوں ڈالا جائے۔ واہ جی کیا بر محل بات ہے!
کہیں ایسا نہ ہو یا رب
کہ یہ ترسے ہوئے عابد
تیری جنت میں حوروں کی
فروانی سے مر جائیں
چلو جی رنگ میں بھنگ، بن پوچھے بھنگڑا ڈال دیتا ہے۔ رادھا کا زیرِ نظر مع زیرِ بحث حدودِ اربعہ، جو میں نے دیکھا، تو وہ نسوانی ہے، لیکن اس کی آواز ہمارے کانوں سے ٹکراتی ہے، تو مردانہ کیوں سنائی دیتی ہے؟ زنانہ حلیہ سے مردانہ آواز سنی ؟ یہ پہلی دفعہ نہیں کئی دفعہ دیکھا بھی اور سنابھی۔ کنفرمیشن کے لیے رادھا کے چہرے تک نظریں جا پہنچیں، تو رادھا مونچھوں کو تاؤ دے رہی تھی۔ (سوری) تاؤ دے رہا تھا۔ وہ بابا فرید اور بابا بلھے شاہ کا خوب صورت کلام بڑے شان سے گا بھی رہا تھا اور ہماری سہولت کی خاطر خصوصی لہجے میں ٹرانسلیٹ بھی کر رہا تھا۔ یہ رادھا، دراصل چولستانی آرٹسٹ ’’دیتو لعل بھیل‘‘ تھے، جو اسی جھگی کے مکین تھے۔ دیتو نے ایسی شان سے بابا بھلے شاہ کا کلام سُنایاکہ اُس کے ’’دامِ رقص‘‘ میں جھوم کرہم نے بھی ناچ ناچا، لیکن ہمارا ناچ ’’وصلِ رقص‘‘ نہیں،’’وصلِ تگنی‘‘ کا ناچ لگ رہا تھا۔ تگنی کا ناچ ہوتا کیا ہے؟ ہمیں معلوم تو نہیں لیکن بادئ النظر میں ایسا ہوگا جو دیتو نے ہمیں نچایا، یاجو شریف کو عمران نے ۔ ہم ناچ رہے ہیں اور دور ایک کونے میں کھڑی لعل کی ماں دونوں ہاتھ پھیلائے اپنے بیٹے کی فنی ایکسپرٹیز کے کامیاب ڈسپلے پر قدرت کا شکر ادا کرتے ہوئی لگ رہی ہے۔ واللہ عالم بالصواب۔ دیتوبابافرید کا ایک کلام پیش کرتا ہے ۔
وِکھ بندیا آسماناں تے اُڑتے پنچھی
وِکھ تو سہی کی کردے نے
نہ وہ کر دے رزق ذخیرہ
نہ وہ بھوکے مرتے اے
بندے ہی کر تے ہیں رزق ذخیرہ
بندے ہی بھوکے مرتے ہیں
ترجمہ:۔ اے انسان، آسمان پر اُڑتے پرندے دیکھو، دیکھ تو سہی یہ کیا کرتے ہیں، نہ تو وہ رزق جمع کرتے ہیں، نہ وہ بھوکے مرتے ہیں، کبھی کسی نے پرندے بھوک سے مرتے دیکھے ہیں، انسان ہی رزق ذخیرہ کرتے ہیں اور انسان ہی بھوکے مرتے ہیں۔
دیتو لعل گانے کے دوران میں ایک بزرگ اور بچے کے بیچ ہونے والا مکالمہ بھی ریپروڈیوس کرتا ہے۔ جو وہ کہتا ہے، ڈھول باجے کی مدہم اور میٹھی جھنکار میں کچھ یوں کہتا ہے۔۔۔
خانہ بدوش بچے نے اپنے بزرگ سے پوچھا۔۔۔ (پسِ آواز، رباب اور ڈھول، جو بات کے دوران میں ’ ’سلو‘‘ بج رہے تھے، اگلی بات تک کے وقفے میں تیز ہو جاتے ہیں۔ ڈھول، اچانک ایک تیز ڈم کے ساتھ خاموش ہو جاتا ہے۔ اب وہ گلا کھنکھارتا ہے۔ ہماری جانب دیکھتا ہے اور اپنی بات کانٹی نیو کر تا ہے)۔
پوچھا گیا: ’’بابا! ہم ہر وقت چلتے کیوں رہتے ہیں؟‘‘ (موسیقی حسبِ معمول، موقع محل کے مطابق وہی سمجھی جائے)۔
ارشاد ہوا ( دیتو، دائیں ہاتھ کی پانچ کی پانچ انگلیاں اوپر کی طرف اُٹھا کر، آواز کو مزید تاؤ دے کر اور مٹھاس سے، بزرگ کا بچے کو دیا ہوا جواب کچھ یوں ’’نے ریٹ‘‘ کرتا ہے )۔ تو بزرگ نے ارشاد فرمایا: ’’پانی چلتا ہو، تو صاف رہتا ہے، شفاف رہتا ہے، یہ الائشوں کو پرے پھینکتا ہے اور ٹھہر جائے، تو گدلا ہو جاتا ہے، بد بو پیدا کرتا ہے، بیماریاں لاتا ہے، یہی حال انسان کا ہے میرے بر خوردار۔‘‘
ہم نے بچے کے سوال اور بزرگ کے دیے ہوئے جواب پر بار بار سوچا اور سوچتے ہی چلے گئے۔ آپ بھی اگر سوچنا چاہیں، تو ’’دعوتِ خاص ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے‘‘
سو یہ احوال ہے اس ’’جام ہوریہ البوکستان‘‘ کے چولستان نامی ’’بھوکستان‘‘ کا۔ جہاں کے لاکھوں لوگوں کا خانہ ہر وقت ان کے دوش پر حالتِ حرکت میں ہوتا ہے۔ اس لیے ان کو خانہ بدوش کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ ایک جگہ قیام نہیں کرتے، بلکہ چلتے رہتے ہیں، جہاں ان کے مویشی خوش ہوں۔ وہاں مویشی قیام کرتے ہیں اور بندوں سے اپنی خدمت کا کام لیتے ہیں۔ اونٹ اور بھیڑ بکری کے بغیر یہاں کے لوگ ایسے ہوتے ہیں جیسے مچھلی پانی کے بغیر۔ اس کو چولستان کیوں کہتے ہیں؟ اس بارے دیتو لعل کہتے ہیں کہ یہاں کے زیادہ تر لوگ چولی پہنتے ہیں۔ اس لیے ایک بزرگ نے اسکو ’’چولستان‘‘ کا نام دیا۔ جب کہ ہمارا فرمان ہے کہ جہاں جا بہ جا کھجور کے درخت، اونٹ، ریت اور بد حال انسان نظر آ جائیں، اس کو چولستان جانا جائے۔ ان لوگوں کی زندگی اپنے جانوروں کے لیے وقف ہے۔اگر کوئی ہمیں کہے کہ چولستان کے لوگوں کی پہچان کے بارے ایک فقرے میں بات کو سمو دو۔ تو ہم کہیں گے کہ بدحال انسانوں کے بیچ خوش حال اونٹ اور بکرے جہاں بھی نظر آ جائیں، تو یہی ان کی پہچان جانی جائے۔ یہ جہاں بھی اپنے عارضی قیام گاہ کا انتخاب کرتے ہیں، تو عام آبادی سے دور کرتے ہیں، جہاں پانی ہو، کھیت کھلیان ہوں اور سایہ ہو، یہ ان کے لیے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں۔ ان کی تمام بساط یا اوڑھنے بچھونے کا جائزہ لیا جائے، تو یہ چیزیں برآمد ہو جائیں: ’’ایک عدد پرانی چھوٹی سی صندوقچی، ایک آدھ پتیلی، ماچس کی ایک آدھ ڈبیا، دو چار کپڑوں کی بوریوں میں لپٹا قیمتی سامان، جیسے پرانے کپڑے، چادر، اونٹ اور بکروں کا اُون ،مٹی کے تیل سے بھری ایک پلاسٹک کی بوتل، خوش حال’ ’چھتوں‘‘ میں ایک کولر جس کو فرنٹ پر شو پیس بنا کر لٹکایا جانا معمول کی بات ہے، پھٹی پرانی بوری کا بنا ہوا بچوں کا جھولا، (بڑے لوگ جھولے میں جھولنے سے پرہیز کریں، کیوں کہ ایسا کرنے سے پوری جھگی کے گرنے کا احتمال بہ ہر حال موجود ہے) دو تین عدد چارپائی کے نام پر جھولے، درجن بھر مرغیاں، بکرے، دو تین عدد بیویاں، سات آٹھ بچے اور اللہ اللہ خیر سلا۔ کھانے کو انڈا ملے ’’کپل وِد‘‘پینے کو دودھ تو لنچ نہ ہوا، کے ایف سی کا مرچیلا چکن ہوا۔
نوٹ:۔ زیر نظر تحریر کا عنوان ’’ہم تو چلے چولستان‘‘ ہے جب کہ کل کے شمارہ میں غلطی سے یہ ’’ہم چلے چولستان‘‘ چھپا ہے۔ مدیر ادارتی صفحہ اس کے لیے معذرت خواہ ہے، قارئین تصحیح فرمالیں۔
(جاری ہے)
1,996 total views, no views today


