سوات ، ملاکنڈ ڈویژن اور خصوصاً سوات کے عوام کے بے پناہ قربانیوں سے برائے نام سرکاری کاغذات میں نافذ ہونے والا شرعی نظام عدل ایک خواب بن گیا ہے ۔ ابھی تک اس پر عمل درآمد تو درکنار مگر ایک فیصلہ بھی نہیں ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے ڈویژن بھر کے عوام میں بے پناہ بے چینی پائی جاتی ہے۔ اور عوام کے اندر لاوا پکتا ہی جارہا ہے۔ جو کسی بھی وقت چنگاری بن کر پھٹ سکتا ہے۔ لہٰذا اعلیٰ سول وعسکری حکام اس سلسلے میں عملی اقدامات کریں۔ ورنہ حالات کسی بھی وقت 2007سے بھی خطرناک صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔ واقعات کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن اور خصوصاً سوات کے عوام کی بے پناہ قربانیوں سے پہلے مرحلے میں شرعی ریگولیشن 1994ء پھر شرعی نظام عدل 1999ء اور پھر شرعی نظام عدل 2009ء بے پناہ قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ۔ اور مختلف حکومتوں نے ان کو عملی طور پر نافذ کرنے کی یقین دہانیاں کرائی ہے۔ جبکہ پورے ملاکنڈڈویژن اور خصوصاً سوات میں 2009ء سے لیکر اب تک شرعی نظام عدل 2009ء پر کہیں بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔ اور نہ ہی ایک ہی فیصلہ اس ریگولیشن کے مطابق ہوا ہے۔جس کی وجہ سے ڈویژن بھر کے عام شہریوں میں شدید بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ جو کسی بھی وقت چنگاری بن کر سڑکوں پر نکل آئے گی۔ جبکہ ملاکنڈڈویژن کے موسم اور حالات کچھ پتا نہیں ۔ کہ کس وقت کروٹ بدل لیتا ہے۔ جبکہ عوام کی طرف سے بار بار یاد دہانی کے باوجود بھی شرعی ریگولیشن دفاتر میں الماریوں کا زینت بن چکی ہے۔ کہیں بھی جب کوئی اس کے بارے میں کہتا ہے تو اس کو چھپ رہنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ سوات میں جرگہ سسٹم یہاں کے رسم ورواج کے عین مطابق تھا جس کو چند وکلاء نے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ نے چیلنج کر دیا ۔ اور ایک کروڑ عوام کا فیصلہ چند وکلاء نے کیا۔ جس کا عوام نے بھرپور انداز میں 1985ء ‘1994ء اور 2007ء اپنے قوت کا اور نفرت کا اظہار کیا۔ اگر اب بھی حکومت اور اعلیٰ حکومتی اداروں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو آنے والا وقت انتہائی خطرناک ہوگا۔
756 total views, no views today


