تحریر : افتخار علی
نئے نسل میں منشیات کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان نے پورے سسٹم کو متاثر کر رکھا ہے اور منشیات جسے زہر قاتل بھی کہاجاتا ہے ہماری رگوں میں خون کی طرح سرائیت کر چکی ہے اور اس زہر قاتل کو استعمال کرنے والے اس معاشرے میں زندہ لاش کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں خصوصاً ہمارے نوجوانوں میں نشہ آور اشیاء کے استعمال کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور موت کے سوداگر منشیات فروشوں کی پورے ملک میں ایک مضبوط نیٹ ورک قائم ہونے کیوجہ سے نوجوانوں کو ان کے گھروں اور تعلیمی اداروں میں بااسانی منشیات دستیاب ہوتی ہے آسانی کے ساتھ منشیات دستیاب ہونے کیوجہ سے نئی نسل دھڑا دھڑ اس موذی اور خطرناک لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اسلام آباد جیسے پوش علاقے میں بھی موت کے سوداگروں کی موجودگی اور تعلیمی اداروں میں منشیات اور خصوصاً آئس نشہ ان تعلیمی اداروں میں طلباء کو با اسانی ملنا ان اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے تاہم ہمیں اُمید بھی ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہئے اگر منشیات فروشوں کے ہاتھ لمبے ہیں تو قانون کے ہاتھ اس سے بھی لمبے ہیں اور اے این ایف کی صورت میں ایک ایسا ادارہ موجود ہے جو اس ملک کو ان موت کے سوداگروں سے پاک کرنے کیلئے پر عزم ہیں گزشتہ روز اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی اے این ایف میجر جنرل محمد عارف ملک نے کہا کہ منشیات ایک معاشرتی ناسور ہے یہ معاشرے کیلئے انتہائی نقصان دہ اور انسانی زندگی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے ، جس کے اثرات نہ صرف استعمال کرنے والے فرد پر ہوتے ہیں بلکہ تمام خاندان اس کے سنگین نتائج سے متاثر ہوتا ہے اپنے عزم اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے تعاون سے ہم اس لعنت کوجڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے ، حکومت پاکستان اور اے این ایف ملک سے منشیات کے استعمال اور ترسیل کو مکمل ختم کرنے کیلئے انتہائی پر عزم ہے منشیات کی رسد روکنے کی مد میں اے این ایف نے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معاونین کی مدد سے ملک سے پوست کی پیداوار کونہ ہونے کے برابر کم کر دیا ہے سروے رپورٹ کے اعداد وشمار کے مطابق افغانستان میں اس سال 6400 میٹرک ٹن افیون کاشت کی گئی ہے جس سے 300 میٹرک ٹن ہیروئن اور 3400 میٹرک ٹن خام افیون بنائی جا سکتی ہے ۔ اے این ایف تعلیمی اداروں اور نوجوان نسل کو منشیات فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ تعلیمی اداروں کومنشیات فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف ٹھوس اقدامات کئے جا رہے ہیں اب تک 137 مقدمات درج کرکے 163 ملزمان کوگرفترار کیا گیا اور 2518 کلو گرام منشیات برآمد کی گئی اے این ایف اس وقت منشیات کے عادی افراد کے علاج و بحالی کے تین مراکز کراچی ، اسلام آباد اور سکھر میں چلا رہی ہے ۔ سکھر علاج و بحالی مرکز سال 2018 میں قائم کیا گیا ۔ منشیات کے عادی افراد کے علاج و بحالی کے کراچی مرکز کو 50 بستروں پر مشتمل خواتین اور بچوں کی بحالی وارڈ کے اضافے کے ساتھ مجموعی طورپر 105 بستروں تک بڑھا دیا گیا ہے ۔ منشیات کے عادی افراد کے اسلام آباد بحالی مرکز کو مزید وسیع و بہتر کیا جا رہا ہے ۔ اسی طرز کے مزید 4 بحالی مراکز کوئٹہ ، لاہور ، حیدر آباداور پشاور میں مستقبل قریب میں قائم کئے جائیں گے ۔

اے این ایف نے ان علاج و بحالی مراکز میں تاحال 17,486 منشیات کے عادی افراد کو مفت علاج و بحالی کی سہولت فراہم کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سال 2018 کے دوران منشیات کی اسمگلنگ کے کل 1184 مقدمات درج کرکے 1376 عناصر کوگرفتار کیا گیا جبکہ 100.26 میٹرک تن منشیات اور ممنوعہ کیمیائی مواد برآمد کیا گیا جس کی مالیت 1195.72 ملین امریکی ڈالر بنتی ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر دوسرے ممالک کے انسداد و منشیات اداروں کو اے این ایف کی جانب سے مہیا کی گئی معلومات پر مبنی 31 کارروائیاں عمل میں لائی گئیں جس کے نتیجے میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث 78 عناصرکو گرفتار کیا گیا اور 15.494 میٹرک ٹن منشیات قبضے میں لی گئیں ۔ منشیات کی اسمگنگ میں ملوث 18 تنظیموں کا نیٹ ورک توڑا گیا جس میں 5 بین الاقوامی تنظیمیں بھی شامل ہیں ۔ اے این ایف گرفتار شدہ اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی شرح 95 فیصد کی حوصلہ افزا سطح پر رہی جبکہ منشیات کی اسمگلنگ سے بنائے گئے 43.199 ملین روپے مالیت کے اثاثہ جات بھی منجمد کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ سال 2018 میں اے این ایف نے ملک بھر میں منشیات نذر آتش کی جانے والی الگ الگ تقاریب کے دوران مجموعی طور پر ایک بلین امریکی ڈالر مالیت کی کل 244.837 ٹن منشیات نذر آتش کیں انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان انتہائی قابل تشویش امر ہے ۔ اے این ایف عوام الناس کومنشیات کے نقصانات سے آگاہی فراہم کرنے اورعوام کو منشیات کے خلاف جاری جنگ میں ساتھ لیکر چلنے میں بھی اہم کردار اداکر رہی ہے ۔ معاشرے کے تمام معزز اراکین کو منشیات سے پاک معاشرے کی تشکیل کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔ اس ضمن میں اے این ایف نے سال 2018 کے دوران اے این ایف نے ملک بھر میں 400 مختلف قسم کی آگاہی سرگرمیوں کے اقدامات کئے گئے ۔ عمل میں لائی گئی آگاہی سرگرمیوں میں سمینار ، لیکچر ، آگاہی ، ورکشاپس ، کھیلوں کی سرگرمیاں ، انسداد منشیات کی آرٹ ، پینٹنگ و تحریر مضامین کے مقابلے ، ثقافتی میلے ، اسٹیج ڈرامے ، پوسٹر بنانے کے مقابلے ، فری میڈیکل کیمپ ،آگاہی واکس ، منشیات سے آگاہی کے پیغام والے بینرز ( بشمول یوٹیلیٹی بلز و سفری ٹکٹیں ) ، عوامی حلقوں میں آگاہی مواد کی تقسیم اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ، میڈیا ناکس اور سوشل کے ذریعے آگاہی شامل ہے ۔

دیگر ممالک کو پاک سرزمین سے ہونے والے منشیات اسمگلنگ روکنے کیلئے بے شمار مشترکہ کارروائیاں عمل میں لائی گئیں تاہم بین الاقوامی رفقاء کے تعاون نے محکمہ کی عملی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار اداکیا جو کہ انتہائی قابل تحسین ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر خصوصاً خطے میں انسداد منشیات کے عمل کو مزید فعال بنانے کیلئے کئی غیر ملکی وفود نے ملک کے دورے کئے ۔ پاکستان اور چین کے درمیان مشترکہ سرحدی روابط کا دفتر تاشکر گان ( چین ) اور خنجراب ( گلگت بلتستان ، پاکستان ) میں قائم کر دیا گیا ہے 6 سال کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں اے این ایف 11 اور 12 دسمبر کو 13 ویں اعلیٰ دفتری سہ ملکی اجلاس کی میزبانی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا جس کے تحت افغانستان اور ایران کے ساتھ استوار تعلقات مزید بہتر ہوئے ۔ اس سلسلے میں مستقبل کا لائحہ عمل طے کر لیا گیا ہے جس کی باقاعدہ منظوری رواں سال کا بل میں منعقد ہونے والے وزارتی اجلاس میں دی جائے گی ۔ حکومت پاکستان منشیات کے خلاف مکمل عزم کے ساتھ برسرپیکار ہے جہاں تک اے این ایف کا تعلق ہے افرادی قوت کی کمی ،منشیات کے روک تھام کے آلات اورمالی استعداد کے امور میں مزید بہتری کی ضرورت کے باوجود اے این ایف انشاء اللہ اپنے ملک سے منشیات کے خاتمے کیلئے ہر ممکن کوشش بجا لائے گی ۔ تاہم عملی اقدامات کے معاملے میں استعداد کار کو بڑھانے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں اے این ایف مناسب طریقہ کار کے تحت اپنی موجودہ افراد قوت کو 3148 سے 10000 تک بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے گوادر میں ایک باقاعدہ ریجنل ڈائریکٹوریٹ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے اے این ایف کے 7نئے تھانے بنائے جا رہے ہیں موجودہ قانون میں بہتری کی سفارشات وفاقی کابینہ میں زیر غور ہیں حکومت پاکستان اور معاونین کی مدد سے اے این ایف کیلئے جدید آلات کا حصول عمل میں لایا جا رہا ہے ۔ منشیات کے روک تھام میں اے این ایف کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اے این ایف کے استعداد کار بڑھانے کیلئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائیں اور انہیں جدید آلات سمیت افرادی قوت بھی بخشے تاکہ وطن عزیز سے ہر قسم کی منشیات کا خاتمہ ہو سکے اور ہم اپنے آنے والی نسلوں کو منشیات سے پاک پاکستان دے سکیں ۔
2,931 total views, no views today



