بریکوٹ،جماعت اسلامی کے ایم این اے عائشہ سعید نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج اور سول ہسپتال بریکوٹ کا دورہ کیا ۔ان کے ہمراہ اے سی سب ڈویژن بریکوٹ محمد عمیر ،ای اے سی محمد فہیم خان ،جماعت اسلامی بریکوٹ مقام کے امیر محمد ظاہر خان ،سابقہ امیران شاہ جہان خان ،نور محمد ،کارکنان فدا محمد خان ،عطاء اللہ خان کے علاوہ بریکوٹ پریس کلب کے صحافی تھے ۔
کالج کے مسائل کے تفصیلات بتاتے ہوئے پرنسپل مسز خادیہ نے کہا کہ اس وقت کالج میں طالبات کی تعداد تین سو سے زائد ہے ان تین سو طالبات کے لئے ٹوٹل بارہ سٹاف ہے۔سائنس کے مضامین کے لئے کالج ہذا میں کوئی لیکچرار نہیں ہے جبکہ دیگر مضامین کے لیکچرار ز نہ ہونے کے برابر ہے ۔کالج بس تقریباً چار سالوں سے بے کار کھڑی ہے پہلے تو رجسٹریشن کا مسلۂ تھا جبکہ اب بیڑی اور موبائل ائل نہ ہونے کی وجہ سے کھڑی ہے ۔کالج کی چاردیواری کی اونچائی کم ہو نے کی وجہ سے طالبات شدید کرب میں مبتلاہیں ۔لائبری میں کتب انتہائی کم ہیں ۔اس موقع پر ایم این اے کو بتایا گیا کہ سائنس مضامین کے لیکچرار ز نہ ہونے کی وجہ سے علاقے کے سینکڑوں طالبات سیدو شریف اور تھانہ ملاکنڈ ایجنسی کے کالجوں کو جاتی ہیں جو کہ سراسرظلم و ناانصافی ہے ۔ایم این اے نے اس صورت حال پر شدید غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ ایک عالی شان بلڈنگ تو موجود ہے مگر اس میں تعلیمی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں ۔انہوں نے کہا کالج کا بس اس ہفتے میں کارآمد کیا جائے گا اور بہت جلدکالج کے دیگر مسائل پر قابو پایا جائے گا ۔کیونکہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح یہی ہے کہ وہ تعلیم پر خصوصی توجہ دیں تاکہ معاشرے سے جہالت کا خاتمہ ہو اور معیار ی تعلیم کے ذریعے اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں ۔موجودہ دور میں خواتین کی تعلیم کی بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ معاشرے میں امن و امان کا قیام میں تعلیم یافتہ خواتین ہی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں ۔بعد میں انہوں نے سول ہسپتال بریکوٹ کا دورہ کیا ۔جہاں پر مسائل کے انبار لگے تھے ۔ایم ایم اے کے دور میں تحصیل ہیڈکوارٹر کا درجہ صرف اور صرف فائلوں تک محدود ہے ۔آٹھ سال گذرے گئے مگر کسی بھی حکومت کو یہ توفیق نصیب نہیں ہوئی کہ اس ہسپتال کو اپنا حق ملے ۔ہسپتال کے انچار ج ڈاکٹر ابراہیم خان نے ہسپتال کے بارے میں کہا کہ اس وقت ہسپتال کی اوشطً او پی ڈی 150سے 200تک ہے اور مین شاہراہ کے کنارے واقع اس ہسپتال کو حادثات کی صورت میں زیادہ زخمیوں کو اسی ہسپتال میں لا یا جاتا ہے ۔ہسپتال کو اس وقت ایک سرجن ڈاکٹر ،اسپشلسٹ ڈاکٹر ز ،ڈبلیو ایم او ،لیڈی ڈاکٹر کے علاوہ پیرا میڈیکل سٹاف کی بھی بہت کمی ہے ۔ہسپتال کی صفائی نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ اس بڑے ہسپتال کے لئے صرف تین صفائی کرنے والے آدمی موجود ہیں جو کہ بہت قلیل ہیں ۔ان مسائل ہونے کے باوجود ہسپتال کے تمام سٹاف اپنی ڈیوٹی بہتر طریقے سے سرانجام دے رہی ہے مگر اس ہسپتال کو حکومتی سطح پر توجہ کی سخت ضرورت ہے ۔بعد میں ایم این اے نے وہاں پر موجود مریضوں سے ملی اور ان سے مسائل بھی دریافت کئے ۔انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ہمیں بہت آفسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج تک سیاست دانوں نے وہ کردار اد ا نہیں کیا جس سے عوام کو سہولیا ت فراہم ہو ں ان مسائل کے خاتمے کے لئے ہمیں اجتماعی طور پر جدوجہد کرنا ہوگی ۔میں انشاء اللہ بہت اس ہسپتال کے مبینہ مسائل کے حل کے لئے صوبائی وزیر صحت شہرام ترکئی سے رابطہ کروں گی ۔انہوں نے ہسپتال کے میڈیکل سٹور،لیبارٹری ،اوٹی اور وارڈز کا معائنہ کیا ۔
433 total views, no views today


