سوات( سوات نیوز ڈاٹ کام )سوات میں شعبہ صحافت کا مسقبل تابناک ہے یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم جرنلزم کے طلباء وطالبات کو عملی صحافت بھی سکھائی جارہی ہے اور حکومتی اقدامات سے بھی حوصلہ افزائی کے علاؤہ انہیں سیکھنے سکھانے کے بھرپور مواقع مل رہے ہیں پختونخوا ریڈیو میں سوات یونیورسٹی کے طلباء وطالبات انٹرشپ کے ذریعے سیکھ رہے ہیں اور دونوں اداروں کے مابین مفاہمتی یادداشت بھی زیر غور ہے جس کے تحت پختونخوا ریڈیو سوات سٹیشن میں اردو اور پشتو کے علاؤہ تمام علاقائی زبانوں کا الگ نیوز سیکشن بھی قائم کیا جا رہا ہے جس میں تازہ ترین خبریں اور حالات حاضرہ کے پروگرام پیش ہوں گے ان خیالات کا اظہار جرنلزم ڈیپارٹمنٹ کے انچارج جمال الدین نے پختونخوا ریڈیو کے پروگرام ”د سوات رنگونہ” میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا جمال الدین کا کہنا تھا کہ سوات یونیورسٹی میں قائم جرنلزم ڈیپارٹمنٹ صحافت کی ترویج و اعلیٰ تعلیم کیلئے کلیدی کردار ادا کرہا ہے ماسٹر کے تین بیجز کے طلباء فارغ ہوکر عملی صحافت میں فرائض دے رہے ہیں اور بی ایس کے تقریبا 100 سے زائد مختلف بیجز کے طلباء صحافت سیکھ رہے ہیں جو جلد فارغ ہوکر عملی میدان میں خدمات سر انجام دینگے میزبان شائستہ حکیم کے سوال پر انہوں نے کہا کہ صحافت سے وابستہ دوستوں کو آئین و قانون کی پاسداری اور ملکی مفادات کو مدنظر رکھ کر خدمات دینی چاہیئے کیونکہ ملکی مفادات اور آئین و قانون کی پاسداری سب چیزوں پر مقدم ہے پروپیگنڈا سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ رپورٹنگ سے کسی کو گمراہ کرنے کی بجائے حقیقت بیان کی جائے صحافی کو جج اور وکیل بننے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ بھی دیگر شعبوں کی طرح ایک مقدس شعبہ ہے اسلئے ہمیں اخلاقیات اور قانون کے دائرے میں رہ کر صحافتی خدمات انجام دینی ہونگی عصمت اخون کے سوال پر انہوں نے سوشل میڈیا کو نسل نو کی ایجاد قرار دیا اس حوالے سے بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ نئی میڈیا ہے اس کا استعمال بھی مثبت انداز میں کرنا چاہیئے نہ کہ کسی کی دل آزاری ہو یا معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنے کیونکہ آج کل موبائل فون کے ذریعے گلی کوچوں میں پوسٹیں کرنے والے کو بھی صحافی کہتے ہیں لیکن اصل میں یہ کام معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے لہذا فیلڈ میں کام کرنے والے صحافی اس طرف بھی توجہ دیں اور اگہی مہم چلاکر ایسا کرنے والوں کو سمجھائیں انہوں نے کہا کہ صحافی معاشرے کا ذمہ دار اور حساس طبقہ ہے کیونکہ اس کے قلم کے لکھے ہر لفظ پر معاشرے اور لوگوں کی نظر ہوتی ہے اور وہ اس کو فالو بھی کرتے ہیں اسلئے ہمیں رپورٹنگ میں پوری احتیاط کرنی ہوگی تاکہ لوگوں اور معاشرے کا میڈیا پر اعتماد بحال رہے اور حقائق پر مبنی صحیح رپورٹنگ ممکن ہوسکے انہوں نے کہا کہ طلباء صحافت کی طرف جوق درجوق آرہے ہیں پچھلے سال بھی توقع سے زیادہ طلباء آئے تھے جن کے پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ جاری ہے اور وہ عنقریب فارغ التحصیل اور تیار ہوکر عملی صحافت میں لوگوں کی خدمت اور ملک و قوم کا نام روشن کرینگے۔
1,413 total views, no views today



