تحریر ؛۔ حکیم عثمان علی
خیبرپختونخوا کو اللہ تعالی نے حسین نظاروں اور دلکش مقامات سے مالامال کردیاہے جسمیں ملاکنڈ ڈویژن کے ضلع سوات کوحسین نظاروں اور خوبصورت مقامات کی وجہ سے مشرق کا سویٹزر لینڈ کہاجاتاہے سوات دنیا بھر میں سیاحت کے حوالے مشہور ہے اس خوبصورت وادی کے لوگ نہایت پر امن اورمہمان نواز ہیں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں اندرون اور بیرون ممالک سے سیاح سوات کا رخ کرلیتے ہیں، لیکن بد قسمتی سے سوا ت میں کشیدگی اور بار بار قدرتی آفات کی وجہ سے سیاحت کو بے تحاشہ نقصان پہنچ چکاہے ، جسکی وجہ سے مقامی لوگوں کے معاشی مشکلات میں اضافہ ہوچکاہے ، اب چونکہ پاک فوج ، پولیس اور عوام کی قربانیوں کے باعث مثالی امن قائم ہوچکاہے اسلئے اب دنیا بھر کے سیاح بلا خوف وخطر سوات کا رخ کر رہے ہیں ، 2010کے تباہ کن سیلاب میں کالام سے فتح پور تک سڑک دریا برد ہونے کی وجہ سے صرف کالام میں 9ہزار سے زائد سیاح پھنس چکے تھے جنہیں پاک فوج نے ہیلی کاپٹر وں کے ذریعے محفوظ مقامات کومنتقل کردیا، سیاحوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے امریکی ہیلی کاپٹر وں کی خدمات حاصل کی گئی ،

کالام روڈ مدین بحرین تک تعمیر کی گئی ہے تاہم کالام تک سڑک کو عارضی بنیادوں پر بحال کیا گیاہے ،پاک فوج کی جانب سے ہرسال کالام میں امن میلہ کا انعقاد کیا جاتاہے ، جسمیں ہزاروں سیاح شرکت کرتے ہیں اسی طرح ما لم جبہ میں سکی کے بین الاقوامی مقابلے منعقد ہوتے ہیں جس کودیکھنے اور برف سے لطف اندوز ہونے کیلئے دنیا بھر سے سیاح سوات آتے ہیں اور دنیا بھر کو سوات میں مثالی امن کے قیام کا پیغام دیتے ہیں۔ اگر حکومت نے سوات میں سیاحت کے فروغ میں دلچسپی لی اور سیاحوں کیلئے معیاری سڑکوں سمیت جدید سہولیات فراہم کردیئے تو ایک بار پھر سوات میں سیاحت ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتاہے، اب چونکہ خیبرپختونخوا کا وزیر اعلیٰ محمود خان سوات سے تعلق رکھتے ہیں اسلئے سواتی عوام کو قوی یقین ہے کہ اپنا وزیر اعلیٰ پانچ سالہ دور اقتدار کے دوران سوات کو تعمیر وترقی کے لحاظ سے مثالی ضلع بنائیں گے۔سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اور سیاحوں کی سہولت کیلئے سوات کے تحصیل کبل کے علاقہ کانجو کے مقام پر1978 میں سیدوشریف ا ئر پورٹ تعمیر کیا گیا ہے جس سے کئی سال تک پشاور اور اسلام آباد تک پروازیں ہوتی تھیں لیکن سول ایوی ایشن حکام کے مطابق کشیدگی سے قبل ہی خسارے کی وجہ سے اس ہوائی اڈے کو پروازوں کیلئے بند کیا گیا ،

کشیدگی کے دوران سوات ائرپورٹ کو بھی بے تحاشہ نقصان پہنچ گیاتھا لیکن حکومت ، پاک فوج اور نجی ادارے کے مشترکہ تعاون سے سیدوشریف ائرپورٹ کو ایک بارپھر پروازوں کیلئے تیار کیا گیا اور 2012میں تجربے کی بنیاد پر پاک فوج کی کوششوں کی وجہ سے ایک پی آئی اے کا فوکر طیارہ اتارا گیا جس سے پورے ڈویژن کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی لیکن بعد ازاں ائرپورٹ کو تاحال پروازوں کیلئے بحال نہیں کیا گیا ، گزشتہ دور حکومت میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے گراسی گراؤنڈ میں جلسہ عام کے دوران سیدوشریف ائرپورٹ سوات کو پروازوں کیلئے کھولنے اور اسے انٹر نیشنل بنانے کا اعلان کیا تھا تاہم ان کی حکومت تو ختم ہوگئی لیکن ان کا وعدہ پورا نہیں ہوسکا اب چونکہ مرکز اور خیبرپختونخوا میں ایک ہی جماعت کی حکومتیں قائم ہیں اس وجہ سے عوام کو امید ہے کہ موجودہ وزیر اعلیٰ محمود خان سیدوشریف ائرپورٹ کھولنے کا وعدہ ہرحال میں پورا کریں گے ۔ گزشتہ ماہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے اپنے دوروزہ دورہ سوات کے دوران سیدوشریف ائرپورٹ کو جلد پروازوں کیلئے کھولنے کا اعلان کیا جس کو سوات سمیت ڈویژن بھر کے عوام نے بے حد سراہاہے

سیدوشریف ائرپورٹ کو کھولنے کی ضرورت کے حوالے ٹھوس دلائل کے ساتھ سوات ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین اکرام اللہ خان نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا ایک تحریری خط بھی دیاہے جس میں سیدوشریف ائرپورٹ کو پروازوں کیلئے کھولنے کی اپیل کی گئی ہے ، سیدوشریف ائرپورٹ کے قیام کے بعد کئی سالوں تک پشاور اور اسلام آباد کیلئے پروازوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہاتاہم پی آئی اے کے حکام نے کشیدگی سے قبل ہی خسارے کی وجہ سے سیدوشریف ائرپورٹ کو پروازوں کیلئے بند کیا کیونکہ اس وقت ائرپورٹ کی آمدنی ہزاروں روپیہ اور اخراجات لاکھوں روپے ہوتے تھے لیکن اب خسارے کاخدشتہ نہیں ہے ۔ سوات ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین اکرام اللہ خان کی سروے رپورٹ کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن کے 50ہزار افراد روزگار کے سلسلے میں بیرون ممالک نئے ویزوں پر سفر کرتے ہیں اور لاکھوں افراد پہلے ہی مختلف ممالک میں مقیم ہیں ۔

سیدوشریف ائرپورٹ سوات پروازوں کیلئے کھولنے کے بعد یہ تمام افراد اپنے قومی ایئر لائن میں سفر کریں گے جس سے ہماری قومی معیشت میں بہتری آئیگی ، سوات ائرپورٹ سے پشاور ، اسلام آباد اور کراچی کیلئے پروازوں سے نہ صرف بزنس کمیونٹی کو اپنے کاروبار کو فروغ دینے کا موقع مل سکتا ہے بلکہ دیگر ممالک کو جانے والے افراد اور سیاحوں کی آمدورفت سے بھی سوات ائرپورٹ منافع بخش ائرپورٹ ثابت ہو سکتا ہے ، سوات میں عمرہ زائرین کیلئے اعتماد آفس قائم ہے جوکہ سعودی سفارتخانے کی طرف سے یہاں کے عوام کیلئے ایک تحفہ ہے جہاں پر سیکڑوں افراد روزانہ کی بنیاد پر فنگر پر نٹس دیتے ہیں اعداد وشمار کے مطابق جس کی تعداد 200سے 250روزانہ ہے جبکہ حج پر جانے والے افراد اس کے علاوہ ہے یہ تمام افراد سوات ائرپورٹ بندہونے کی وجہ سے ملک کے دیگر ائرپورٹس سے سفر کرنے پر مجبور ہیں اس وجہ سے اگرسوات ائرپورٹ کو پر وازوں کیلئے کھول دیا گیا تو سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو بہترین آرام دہ سہولت فراہم ہوسکتا ہے

جس کے ذریعے لاکھوں افراد جوکہ صبح ، عمرہ اور دیگر ممالک میں روزگار کے سلسلے میں آمدورفت کرتے ہیں ہماری قومی ائر لائن سے سفرکریں گے جس سے سیدوشریف ا ئرپورٹ ایک منافع بخشہوائی اڈے میں تبدیل ہوجائے گا اس لئے سوات ائر پورٹ کو پروازوں کیلئے کھولنے کا فیصلہ قومی ایئرلائن ،سیاحت اور ملک کی معیشت کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگا،چونکہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں سیا حت کا فروغ چاہتی ہیں اس لئے سیاحت کے فروغ کیلئے سیدو شریف ائرپورٹ کو پروازوں کیلئے بحال کرنا نہایت ضروری ہے جس پر حکومت کو جلد ازجلد عمل درآمد کرناچا ہیئے .

2,929 total views, no views today



