مینگورہ،آل پاکستان جم مرچنٹ ایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض حکومتی اہلکار مختلف علاقوں میں قائم پھاٹکوں پرذاتی مفادت کیلئے ہم پرپابندی لگانے کی ناجائز کوششیں کررہے ہیں جس سے یہ کاروبار بری طرح متاثر ہورہا ہے اگریہ سلسلہ بند نہ کیا گیاتو اپنے کاروبارسمیت ڈویژن بھر میں موجود ماربل فیکٹریاں بھی بندکردیں گے جس سے حکومتی خزانے کو نقصان پہنچے گا،اس حوالے سے آل پاکستان جم مرچنٹ ایسوسی ایشن کے صدر حاجی رسول خان ،حمیدالرحمان ،افتخاراوردیگرعہدیداروں نے سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ وہ ریاستی دور سے اس کاروبار کے ساتھ وابستہ ہیں اور یہ ہمارا ذریعہ معاش ہے جس کے ذریعے رزق حلا کمارہے ہیں اوردوسری طرف اس سے حکومت کو کروڑوں روپے کا زرمبادلہ بھی مل رہا ہے،انہوں نے کہاکہ کسی بھی قانون میں قیمتی پتھروں کے لانے یا لے جانے پر پابندی نہیں مگر اس کے باوجود بھی بعض حکومتی اہلکار شمالی علاقہ جات سمیت دیگرمقامات پر لگے ہوئے پھاٹکوں اورائرپورٹوں میں بیٹھ کر ہمارے لوگوں کوذاتی مفادات کیلئے مختلف طریقوں سے تنگ کرتے ہیں جو ایک قابل مذمت امر ہے،انہوں نے کہاکہ ہم جب بھی قیمتی پتھرلاتے یا لے جاتے ہیں تو ہمارے پاس سٹیٹ بنک کا باقاعدہ اجازت نامہ ہوتا ہے جس کے پیش نظر ہم پر پابندی عائد کرنے کا کوئی جواز پیدانہیں ہوتا مگر اس کے باوجود بھی ہم سے یہ ذریعہ معاش چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے ،انہوں نے کہاکہ ہمارے اکاروبار سے نہ صرف ہمیں بلکہ حکومت کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے اوراس سے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا زرمبادلہ مل رہا ہے ،انہوں نے کہاکہ پہلے پہل بیوپاری قیمتی پتھر لے کر یہاں آتے تھے جس سے مقامی سطح پر معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے تھے مگر اب وہ لوگ نہیں آتے تو مجبوراََ ہم ان کے پاس جاکر پتھرخرید لیتے ہیں مگر واپسی پر ہمیں کافی اذیت سے گزرنا پڑتاہے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ہمارے ساتھ جاری اس ظلم کا خاتمہ کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے بصورت دیگر اپنے کاروبارسمیت ڈویژن بھر میں قائم ماربل فیکٹریاں بھی بند کردیں گے،اس موقع پر سردارعلی،روح الامین،اصغر،کلیم اللہ،برکت علی اوردیگر بھی موجود تھے۔
850 total views, no views today


