تحریر مفتی شجاعت
اپریل فول مغربی لوگ یہ دن کیوں اور کس دن کی یاد میں مناتے ہیں ۔آج کل ہم مسلمان مغربی تہذیب کے بہت شوقین ہیں ۔اور ان کے طورطریقے اپنانالازمی سمجھتے ہیں ۔جن میں ایک اپریل فول بھی ہے ۔لہذااس اپریل فول کی حقیقت کیاہے ۔زرہ اس پرغورکریں ۔حقیقت یہ ہے جب اسپین پرعیسائیوں نے دوبارہ قبضہ کرنے کے بعد مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہادیں ،قتل وغارت سے تھک کربادشاہ فرڈینینڈنے اعلان کروایاکہ یہاں مسلمانوں کی جان کوخطرہ ہے اور ایکاسلامی ملک بسانے کافیصلہ کیاہے ۔جومسلمان وہاں جاناچاہتے ہیں حکومت انہیں بذریعہ بحری جہاز بجھوادے گا۔لاتعدادمسلمان اسلامی ملک بسانے کے شوق میں جہاز میں سوارہوگئے ۔سمندرکے بیچ جاکرفرڈینینڈکے گماشتوں نے جہاز میں بارودسے سوراخ کیا۔خودحفاظتی کشتیوں کے ذریعے بچ نکلے چشمِ زدن میں پوراجہازمسافروں سمیت غرق ہوگیا۔اس پرعیسائی دنیابڑی خوش ہوئی اور مسلمانوں کوبے وقوف بنانے پربادشاہ کی شرارت کی داددی ۔اس روزیکم اپریل تھا۔فرڈینینڈکی شرارت اور مسلمانوں کوڈبونے کی خوشی میں مغربی دنیامیں (۱)اپریل کواپریل فول منایاجاتاہے ۔اور بے خبر مسلمان بھی ان کے ساتھ شریک ہوجاتے ہیں ۔

(اپریل فول کاحکم)
ایک اہم ترین مسئلے کی طرف توجہ دِلانامقصودہے جس میں آج کل بہت سارے لوگ مبتلاہیں ۔چونکہ فتنوں کی بحث جاری ہے لھذاہم یہاں ایک اور فتنہ جس کواپریل فول کہاجاتاہے اس کے بارے وضاحت کرتے ہیں ۔سب سے پہلے یہ بات جان لے کہ یہ اپریل فول کیاچیزہے۔اپریل فول کامطلب یہ ہے کہ اپریل کامہینہ آتے ہی لوگ ایک دوسرے کامذاق اڑاتے ہیں،جھوٹ بول کر ایک دوسرے کوغمگین یاخوش کرتے ہیں جس سے بعض اوقات دوسرے کوتکلیف اور پریشانی بھی ہوتی ہے۔جبکہ سرورِکائناتﷺکاارشادہے کہ:ویل للذی یحدث فیکذب یضحک بہ القوم ویل لہ !ویل لہ! (ابوداؤدج:۲ص۳۳۳)ترجمہ:یعنی ہلاکت ہے اس شخص کیلئے جو اس مقصد کیلئے جھوٹی بات کرے کہ اس کے ذریعے لوگوں کوہنسائے اس کیلئے ہلاکت ہے!اس کیلئے ہلاکت ہے!نیزارشاد ہے۔لایؤمن العبدالایمان کلہ حتٰی یترک الکذب فی مزاحہ ویترک المراء وان کان صادقاً،
(کنزل العمال حدیث نمبر:۸۲۲۹)یعنی بندہ اس وقت تک پوراایماندارنہیں ہوسکتاجب تک مزاح میں بھی غلط بیانی نہ چھوڑدے اور سچاہونے کے باوجودجھگڑانہ چھوڑدے۔شریعت کی نظرمیں کسی مسلمان کوایذاء پہنچاناحرام ہے۔اپریل فول کی حقیقت صرف دھوکہ دہی ،مذاق اڑانااورجھوٹ بولکردوسرے کوپریشان کرناہے جوکہ حرام ہے۔اس لئے اس قسم کے مذاق اور جھوٹ سے بچناازحدضروری ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ آدمی اس وقت تک کامل مسلمان نہیں ہوسکتاجب تک مذاق اور جھگڑے میں بھی جھوٹ بولناترک نہ کرئے۔نیز اپریل فول میں غیروں کی مشابہت کی وجہ سے بھی گناہ ہے
۔
،،قال النبیﷺالمسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ،، (بخاری ج:۱ص:۶)ترجمہ:۔(کامل )مسلمان وہ ہے جس کے زبان اور ہاتھ کی تکلیف سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔ (اپریل فول کے نقصانات)اپریل فول میں کئی قسم کی گناہ ہیں (۱)جھوٹ بولنا(۲)خیانت کرنا(۳)دھوکہ دینا(۴)مسلمان کوتکلیف دینا(۵)گمراہ قوموں کی مشابہت اختیارکرنا۔**جھوٹ بولنا**اس دن صریح جھوٹ بولنے کولوگ جائزسمجھتے ہیں جھوٹ کواگرگناہ سمجھ کربولاجائے توگناہِ کبیرہ ہے اور اگراس کوحلال اور جائزسمجھ کربولاجائے تواندیشہ کفرہے۔ومنھاان استحلال المعصیۃ صغیرۃ کانت اوکبیرۃکفراذاثبت کونھا مصیۃ بدلالہ قطعیۃ وکذاالاستھانۃ بھاکفر،بأن یعدھاھینۃًسھلۃً،ویرتکبھامن غیرمبالاۃ بھا،ویجری مجری المباحات فی ارتکابھا۔۔۔۔الخ (شرح فقہ اکبرص:۱۸۶)جھوٹ کی بُرائی اور مذمت کیلئے یہی کافی ہے کہ قرآن کریم نے ،،لعنت اللّٰہ علی الکذبین ،،(آل عمران:۶۱)فرمایاہے گویاجولوگ،،اپریل فول ،،مناتے ہیں وہ قرآن میں ملعون ٹہرائے گئے ہیں اور ان پراللہ تعالیٰ کی،رسولوں کی، فرشتوں کی انسانوں کی اور ساری مخلوقات کی لعنت ہے۔
**خیانت کرنا**اس میں خیانت کابھی گناہ ہے ۔چنانچہ حدیث شریف میں ہے۔کبرت خیانۃً ان تُحدث اخاک حدیثاًھولک مصدق وانت بہ کاذب۔(مشکوۃص:۴۱۳) ترجمہ:بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایک بات کہوجس میں وہ تمہیں سچاسمجھے حالانکہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔**دھوکہ دینا**اپریل فول میں ایک مسلمان کودھوکادیناہے یہ بھی گناہِ کبیرہ ہے حدیث میں ہے۔،،مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنَّا،،
ترجمہ:۔جوشخص ہمیں (یعنی مسلمانوں کو)دھوکہ دئے وہ ہم میں سے نہیں ۔**مسلمان کوتکلیف دینا**اس میں مسلمانوں کوایذاپہنچاناہے یہ بھی گناہِ کبیرہ ہے قرآن کریم میں ارشادباری تعالیٰ ہے ۔ والذین یؤذون المؤمنین والمؤمنٰت بغیرمااکتسبوا فقداحتملوا وبھتٰناًواثماًمبیناً۔(الاحزاب۵۸)ترجمہ:بے شک جولوگ ناحق ایذاپہنچاتے ہیں مؤمن مردوں اور عورتوں کوانہوں نے بہتان اوربڑاگناہ اُٹھایا۔

**گمراہ قوموں کی مشابہت**اپریل فول مناناگمراہ اور بے دین قوموں کی مشابہت ہے ۔حضورﷺکاارشادہے۔ ،،مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمِِ فَھُوَمِنْھُمْ،،(مشکوۃج:۲ص۳۷۵کتاب اللباس)ترجمہ:۔جس شخص نے کسی قوم کی مشابہت کی وہ انہی میں سے ہوگا۔
پس جولوگ فیشن کے طورپراپریل فول مناتے ہیں ان کے بارے میں اندیشہ ہے کہ قیامت کے دن یہودونصاریٰ کی صف میں اُٹھائے جائیں ۔جب یہ اتنے بڑے گناہوں کامجموعہ ہے توجس شخص کواللہ تعالیٰ نے معمولی عقل بھی دی ہو،وہ انگریزوں کی اندھی تقلیدمیں اس کاارتکاب نہیں کرسکتا۔اسلئے تمام مسلمان بھائیوں کونہ صرف اس سے توبہ کرنی چاہئے بلکہ مسلمانوں کے مقتدالوگوں کافرض ہے کہ ،،اپریل فول،،پرقانونی پابندی کامطالبہ کریں اور ہمارے مسلمان حکام کافرض ہے کہ اس باطل رسم کوسختی سے روکیں ۔
3,619 total views, no views today



