سوات(سوات نیوزڈاٹ کام )ملاکنڈ ڈویژن میں لذیذ مالٹا کے آہستہ آہستہ معدوم ہوتے باغات کے احیاء کیلئے زرعی تحقیقی کاوشیں کامیابی سے ہم کنار ہوئی ہیں بونیر میں مالٹا کی 8 نئی اقسام دریافت کرکے ضلع میں نئے تجربات کے ساتھ اسے یہاں کے مختلف علاقوں میں لوگوں کیلئے منافع بخش اور نقد آور فصل بنا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس علاقے میں اب لوگ مالٹا کے باغات لگانے کو ترجیح دینے لگے ہیں اس کا انکشاف زرعی تحقیقاتی ادارہ امنور بونیر کے ڈائریکٹر محمد الیاس نے پختونخوا ریڈیو ایف ایم 98 سوات کے پروگرام ”حال احوال“ میں زرعی تحقیق پر خصوصی گفتگو میں کیا انہوں نے بتایا کہ ان کا ادارہ کاشت کاروں کو دورجدید کی زراعت سے روشناس کرانے اور زرعی سہولیات کی فراہمی کیلئے دن رات کوشاں ہے سال 2013 میں عملی کام شروع کرنے والا یہ ریسرچ سنٹر پانچ سال کے قلیل عرصہ میں دیگر زرعی اجناس کے علاؤہ مختلف پھلوں کی نئی نئی اقسام بھی متعارف کرا رہا ہے انہوں نے بتایا کہ بونیر کی جغرافیائی حیثیت بڑی منفرد اہمیت کی حامل ہے اس کے علاوہ ضلع بونیر کو مختلف موسموں کا حامل علاقہ ہونے کیوجہ سے دیگر پھلوں جن میں چیری اور آڑو کی فصل بھی شامل ہے کیلئے بھی نہایت موزوں تصور کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ضلع بونیر ایک جانب صوابی اور مردان سے متصل ہونے کی بناء پر گرم مرطوب علاقوں پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے یہ گندم، جو اور آڑو کی فصلوں اور باغات کیلئے موزوں ہے تو دوسری جانب شمالاً جنوباً سوات اور شانگلہ سے متصل علاقہ ہونے کے سبب یہاں کے بیشتر حصے اعلیٰ قسم کی چیری، اخروٹ اور سیب کی فصلوں کیلئے نہایت موزوں ہیں جبکہ سنٹرل بونیر میں مالٹا کی اچھی فصل پیداہوتی ہے اسی بناء پر زرعی تحقیقاتی ادارہ امنور اس سلسلے میں علاقے کی کاشت کاروں کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ دورجدید کے تقاضوں کے مطابق کم رقبے پر زیادہ اور لذت سے بھر پور فصلیں اُگانے کیلئے نئے نئے تجربات کررہا ہے اور مقامی کاشتکاروں کو بھی شعبہ زرعی توسیع کے توسط سے ان سے بہرہ ور کرانے میں کوشاں ہے ہم ان تجربات سے عوام کو مستفید کرنے کیلئے کاشتکاروں کی ٹریننگ کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں جس کے بڑے اچھے اور حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہو رہے ہیں پروگرام کے میزبان فضل خالق خان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زرعی تحقیق وقت کی ضرورت بن چکی ہے اور خوش قسمتی سے موجودہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں بھی اس سلسلے میں دلچسپی لیتے ہوئے نہ صرف ہماری بھرپور حوصلہ افزائی کر رہی ہیں بلکہ شجرکاری اور دیگر اقدامات کے ذریعے لوگوں میں مختلف اجناس، پھل اور سبزیاں اُگانے کا رحجان بھی اجاگرہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ضلع بونیر مالٹا، آڑو، آلوچہ اور سیب کے ایک بڑے پیداواری علاقے کی صورت میں ابھر رہا ہے جو علاقے کے لوگوں کی معاشی خوش حالی کا سبب بنے گا انہوں نے اس موقع پر پختونخوا ایف ایم ریڈیو 98 سوات کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کی نشریات کی وجہ سے لوگوں بالخصوص کاشتکاروں میں زراعت کے حوالے سے بھی شعوربیدار ہورہا ہے جو اچھی علامت ہے پروگرام کے آخر میں انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ لوگوں کو جہاں بھی جگہ ملے وہ پودے اور درخت لگائیں جس سے ایک جانب ماحول میں بہتری آئے گی تو دوسری جانب علاقے میں غذائی زرعی ضروریات کی تکمیل بھی ہوگی اسکے ساتھ ساتھ لوگوں کو ہرموسم میں طرح طرح کے پھل، سبزیاں اور دیگر لذیذ اجناس بھی وافر مقدار میں ملیں گی۔
1,358 total views, no views today



