سوات ، چیف میونسپل افیسر سوات نثار خان یوسفزئی کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات جھوٹ کا پلندہ نکلا،انکوائری سے بری انٹی کرپشن جج خیبر پختونخواہ نے ضمانت کنفرم کرکے حکم میں نثار خان پر لگائے گئے الزامات کو زاتی عنایت قرار دیا ، تفصیلات کے مطابق محکمہ انٹی کرپشن نے سابقہ چیف میونسپل افیسر سوات نثار خان کے خلاف ہوائی اور بغیر کسی ثبوت کے ایک جھوٹا مقدمہ درج کیا تھا اس مقدمے میں چیف میونسپل افیسر نے سپیشل جج انٹی کرپشن خیبر پختونخواہ بمقام پشاور بی بی اے ضمانت کروالیا ، فاضل عدالت نے تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے نثار خان کی ضمانت کو کنفرم کردیا ، سپیشل جج انٹی کرپشن خیبر پختونخواہ نے اپنے حکم میں لکھا ہے کہ نثار خان کے خلاف جو مقدمہ درج کیا ہے وہ ذاتیات پر مبنی ہے اور اسکا مقصد نثار خان کو معاشرے میں بے عزت کرنا ہے لہٰذا فاضل عدالت نے انکے ضمانت کنفرم کردیا ، اسی طرح مقدمہ درج ہونے کے بعد محکمانہ انکوائری شروع ہوگئے جس کو بھی انکوائری افیسر نے تمام قانونی تقاضوں کے بعد نثار خان پر لگائے گئے جھوٹی الزامات کو مسترد کرکے انکوائری سے بری کردیا ، واضح رہے کہ انٹی کرپشن کے طرف سے خالصتاً یہ مقدمہ ذاتیات اور اپنے غیرہ قانونی کاموں کو قانونی کرنے کے دباؤ کے وجہ سے کی ہے ، ضلع بھر کے سیاسی اور سماجی حلقوں نے انٹی کرپشن کے اسی طرح غیر قانونی اقدامات کو روکنے کے لئے عملی اقدامات کریں تاکہ ائندہ کے لئے اس قسم کے ناانصافی کسی اور کے ساتھ نہ ہوجائے ۔
682 total views, no views today


