سوات(سوات نیوز)ڈی پی او شانگلہ رسول خان کی خصوصی دلچسپی اور رہنمائی کے نتیجے میں خطرناک بین الصوبائی کارلفٹر گروہ بے نقاب کر دیا گیا ہے جو گھروں کے باہر کھڑی گاڑیوں کو انافانا چوری کرکے ملک کے دوسرے حصوں میں فروخت کرنے میں ملوث ہے شانگلہ پولیس کی دن رات کوشش سے گروہ کے دو ارکان گرفتار ہونے اور تین مسروقہ گاڑیاں برآمد ہونے کے بعد اس کا پورا نٹ ورک بے نقاب ہو گیا ہے جبکہ اس ضمن میں جاری تحقیقات کی روشنی میں مزید انکشافات کی بھی توقع ہے شانگلہ پولیس کے سربراہ رسول خان نے اس سلسلے میں میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ شروع ہوتے ہی ضلع شانگلہ میں ایک خطرناک کار لفٹر گروہ سرگرم عمل ہوا جس نے مختلف اوقات میں حدود علاقہ تھانہ بشام، تھانہ چکیسر اور تھانہ الپوری سے چار گاڑیاں رات کے اندھیرے میں سرقہ کرکے غائب کر دیں واضح رہے کہ شانگلہ ایک پسماندہ ضلع ہے جہاں غریب لوگ بستے ہیں ہر آدمی کا اپنا کارپورچ نہیں ہوتا یہاں پر لوگ اپنے گھروں کے سامنے یا سڑک کے کنارے گاڑیاں کھڑی کردیتے ہیں یہ گروہ اس کمزوری سے فائدہ اٹھاکر وارداتیں ڈالتا رہا چونکہ یہ تشویش ناک صورت حال تھی اس لئے ضلع کے قابل ترین آفیسران پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دے کر انہیں ہدایت کی گئی کہ اس گروہ کو بے نقاب کرکے ان کے تمام ارکان کی سرکوبی کی جائے اس پولیس ٹیم کے افسران ڈی ایس پی الپوری امجد علی، حبیب شاہ انسپکٹر تفتیشی آفیسر تھانہ بشام، غفار خان ASHO تھانہ کروڑہ،خالد ASI تھانہ الپوری انوسٹی گیشن ونگ، روح الامین ASI تھانہ الپوری اور کرامت حسین IHC تھانہ الپوری پر مشتمل تھااس ٹیم کی نگرانی ایس پی انوسٹی گیشن شانگلہ محمدخالد کو سپرد کی گئی آفیسران کی اس ٹیم نے دن رات انتھک محنت کرکے اس گروہ کے دو افراد باچا زمین سکنہ پارہوتی مردان اور سنگین خان سکنہ اوڈیگرام سوات کو بڑے ڈرامائی انداز میں گرفتار کر لیا اور دونوں کو عدالت سے حراست پولیس حاصل کرکے باقاعدہ انٹاروگیٹ کیا گئا جن کی نشاندہی پر ان کے قبضے سے تین عدد سرقہ شدہ گاڑیاں برآمد کی گئیں انہوں نے اپنے دیگر ساتھیوں کے نام بھی اگل دئیے ہیں جو فی الحال صیغہ راز میں رکھے جا رہے ہیں یہ ایک خطرناک بین الصوبائی گروہ ہے جو گاڑیوں کو چُرا کر دوسرے اضلاع میں اپنے دیگر کاروندوں کو فروخت کرتے ہیں۔
1,431 total views, no views today



