مینگورہ ، تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی میں اہم کردار اداکرتا ہے اور ہر ملک اور علاقے میں تعلیم کے فروغ کیلئے مثبت پالیسیاں بنائے جاتے ہیں ملک کے دیگر صوبوں کی طرح خیبر پختونخواہ اور خصوصاً سوات میں تعلیم کے فروغ کیلئے سابقہ حکومتوں سمیت موجودہ حکومت نے کوشش کی ، اے ایم پی کی سابقہ حکومت نے سوات میں پھول جیسے بچے تعلیم سے منور ہوکر ملک وقوم کی ترقی میں کردار اداکریں حکمرانوں کی کوششوں کے باوجود تعلیم عام نہیں ہورہا اس سلسلے میں مختلف علاقوں کی سروے کرکے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرکاری سکولوں میں طلباء کو حاضر رہتے ہیں لیکن اساتذہ بیشتر اوقات غیر حاضر رہ کر پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ تعطل کا شکار رہتا ہے ، اساتذہ کی سیاست میں مداخلت اور بے جاباتوں اور مسئلوں پر غیر حاضر رہنے سے بچے تعلیم سے محروم رہا جاتے ہیں ۔ دیہی علاقوں میں یہ مسئلہ زیادہ ہے ۔ موجودہ حکومت نے مانیٹرنگ کمیٹی بناکر تعلیم کے فروغ کی کوشش کو آگے کرنا چاہا لیکن مانیٹرنگ کمیٹی سے بھی خاطر جواہ فائدہ نہ ہوا ۔ اساتذہ کے غیر حاضر رہنے کے وجہ سے ڈیوٹی دینے والے اساتذہ بھی مایوس ہوگئے اور اسی طریقے سے نہیں پڑھا رہے ہیں ۔ جس طریقے سے پڑھانا چاہے ۔ محکمہ تعلیم اور حکمران اہم مسئلے پر توجہ دیں ۔
844 total views, no views today


